کائنات کا یہ ایک مسلَّمہ اور آفاقی اصول ہے کہ ‘یہاں کوئی بھی مائل بہ زوال چیز مطلق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مادی طاقت اتنی خود مختار ہے کہ وہ قدرت کے طے شدہ قوانین کو چیلنج کر سکے۔’ انسانی تاریخ اور آسمانی صحیفے اِس سچائی کی گواہی دیتے ہیں کہ جب بھی دنیا میں کوئی بڑی مشکل، بیماری یا ظالم طاقت سر اٹھاتی ہے تو اس کا توڑ اور اس کا حل کائنات کے کسی نہ کسی گوشے میں پہلے سے پرورش پا رہا ہوتا ہے۔
انسان اپنی محدود نظر کی وجہ سے مادی اسباب کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے، لیکن پسِ منظر میں (حضرت موسی و خضر علیہما السلام کے واقعے کے تناظر میں) کام کرنے والا تکوینی نظام بالاآخر ظالم کی مادی چالوں کو اُسی کے گلے کا طوق بنا دیتا ہے۔ اگر ہم اِس فلسفے کو حالیہ تاریخ اور پاکستان کی امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف پیچیدہ سازشوں کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں تو مادی طاقت کے غرور اور الٰہی بندوبست کی ایک حیرت انگیز داستان سامنے آتی ہے۔
اِس آفاقی حقیقت کی ایک دل چسپ اور ریاضیاتی مثال ہمیں فلسطین کی دھرتی پر ملتی ہے۔ جب حماس کے رہنما یحییٰ سنوار شہید رحمہ اللہ کو اُن کی آخری طویل قید کے لیے 1988ء میں اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا تو بظاہر مادی دنیا میں اُن کی رہائی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ وہ چار بار عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ لیکن قدرت کا بندوبست دیکھیے کہ السنوار رحمہ اللہ کی اُس گرفتاری سے ٹھیک دو سال پہلے، یعنی 1986ء میں اسرائیل کے ایک دور دراز کونے میں ‘گیلاد شالیت’ نامی ایک بچہ پیدا ہو چکا تھا۔
اُس وقت کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ‘یہ بچہ بڑا ہو کر ایک فوجی بنے گا، 2006ء میں حماس کے ہاتھوں گرفتار ہوگا اور بالآخر 2011ء میں یحییٰ سنوار سمیت ایک ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کی مستقل رہائی کا ذریعہ بنے گا۔’ یہ واقعہ اِس سچائی پر مہر ثبت کرتا ہے کہ ‘مشکل ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہوتی کہ اللہ تعالیٰ اس کا حل دنیا میں بھیج چکا ہوتا ہے۔’
جب ہم اِسی عدسے سے پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے امارت اسلامیہ کے خلاف جنگی بیانیوں کی موجودہ تلخ صورت حال دیکھتے ہیں تو مادی طاقت کا ایک بڑا عدمِ توازن نظر آتا ہے۔ ایک طرف پاکستان ہے… جو ایک تسلیم شدہ ایٹمی قوت ہے، جس کے پاس جدید ترین جے ایف-17 اور ایف-16 جنگی طیارے، ڈرونز اور گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی موجود ہے۔
دوسری طرف امارتِ اسلامیہ افغانستان ہے، جو دہائیوں کی جنگ کے بعد اب بھی ایک باقاعدہ فضائیہ اور جدید فضائی دفاعی نظام سے تہی دست ہے۔ مادی دنیا کے حساب سے پاکستان ایک ناقابلِ شکست طاقت محسوس ہوتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب مادی طاقت کا خمار اخلاقی اور برادرانہ اصولوں پر غالب آ جائے تو وہی طاقت اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کر لیتی ہے۔
اِس تلخی کی جڑیں نائن الیون کے اُس موڑ سے جُڑی ہوئی ہیں، جب پاکستان اور افغانستان کے مابین بہترین سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم تھے۔ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے دور میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب تھے، لیکن نائن الیون کے فوراً بعد پاکستان نے امریکی خوش نودی اور تزویراتی مفادات کے تحت یکسر اپنا مؤقف بدل لیا۔
پاکستان نے امریکا کو فضائی حدود اور لاجسٹک مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں ایک برادر مسلمان پڑوسی ملک کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا۔ اُس وقت بہت سے نقّادوں نے یہ آواز اٹھائی کہ ‘پاکستان کی فوجی رجیم دراصل برطانوی دور کی رائل انڈین آرمی کا ہی ایک نوآبادیاتی تسلسل ہے، جو عوامی اور اسلامی جذبات کے برعکس عالمی آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔’
حال ہی میں سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اِس سچائی کا اعتراف کیا کہ ‘پاکستان نے 1980ء کی دہائی میں افغان جہاد کو بیچ کر اربوں ڈالر کمائے اور امریکا کے کہنے پر اُسی افغان جہاد میں شامل ہو کر امریکا سے رعایتیں حاصل کیں اور اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا۔ اس ‘وار اکانومی’ یا جنگی معیشت نے پاکستان کی مقتدر اشرافیہ اور جرنیلوں کو تو بڑے بڑے بنگلوں اور وی آئی پی لائف اسٹائل سے نواز دیا، لیکن افغان عوام کے حصے میں صرف بارود، تباہی اور ہجرت آئی۔
اسی طرح جب امریکا نے افغانستان سے انخلا کیا، بیس سالہ جنگ ختم ہوئی اور افغانستان میں ایک مستحکم، خوددار اور خودمختار حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کے لیے امریکا سے حاصل ہونے والے ڈالروں کی ریل پیل اچانک بند ہو گئی۔ پیداواری معیشت اور مستحکم علاقائی تجارت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ہچکولے کھانے لگی۔ اب اس جنگی معیشت کے عادی ہو چکے پاکستانی نظام نے دوبارہ ڈالرز کمانے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈا۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور ماسکو فارمیٹ جیسے عالمی فورمز پر مسلسل یہ بیانیہ فروخت کرنا شروع کیا کہ ‘افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور وہ خطے کے لیے خطرہ ہیں۔’
پاکستان کی اس مہم جوئی کا اصل مقصد مغربی طاقتوں کو دوبارہ اِس خطے میں مداخلت کے لیے اُکسانا ہے، تاکہ پاکستان ایک بار پھر ‘فرنٹ لائن اسٹیٹ’ بن کر امداد بٹور سکے۔ اِسی بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے پاکستان نے فروری 2026 میں نام نہاد ‘آپریشن غضب للحق’ کے تحت افغان سرزمین پر بمباریاں کیں اور حالیہ دنوں میں بھی سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہاں تک کہ امارتِ اسلامیہ کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پاکستان سابق افغان فوجیوں اور داعش جیسے مہروں کو پناہ دے کر کابل حکومت کے خلاف استعمال کرنے کا ماحول بنا رہا ہے، جس کا ثبوت پاکستان کے اندر سے داعش کے میڈیا چیف عزیز عزام اور دیگر غیر ملکی ارکان کی گرفتاریاں اور خود پاکستان کے اندر ہونے والے حالیہ عسکریت پسندانہ حملے ہیں۔
یعنی پاکستان کی ان تمام سرگرمیوں کا مقصد افغانستان میں ایک نئی جنگ چھیڑنا اور ڈالر کمانے کا راستہ پیدا کرنا ہے۔
لیکن قدرت کا الٰہی بندوبست اور غیبی سلیقہ دیکھیے کہ افغانستان کو اِس ممکنہ بڑے شر اور جارحیت سے بچانے کے لیے کائنات کے مادی قوانین نے پاکستان کو خود اپنے ہی جال میں جکڑ دیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے ایک سال سے تجارت بند کر رکھی تھی، واہگہ بارڈر سے بھارت کے ساتھ افغان تجارت روک دی اور کراچی و گوادر کی بندرگاہوں پر شکنجه کسا۔
مقصد یہ تھا کہ معیشت تباہ ہوگی تو افغانستان خود بخود گھٹنے ٹیک دے گا۔ مگر نتیجہ بالکل الٹ نکلا۔ افغان حکومت نے پاکستان پر اپنا انحصار ختم کر کے ایران کی چابہار بندرگاہ، ازبکستان، ترکمانستان اور فضائی راہ داریوں کے ذریعے پوری دنیا کے ساتھ اپنی تجارت پھیلا لی۔ جو راستہ بندش کا تھا، وہی افغانستان کی معاشی آزادی کا ذریعہ بن گیا۔
دوسری طرف پاکستان نے نہ صرف افغانستان، بلکہ بھارت اور اب ایران کے ساتھ بھی اپنے تجارتی راستے بند کر کے خود کو بالکل محصور اور مفلوج کر لیا ہے۔
کسی بھی بڑی جنگ یا فوجی مہم جوئی کو لڑنے کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم معیشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان آج ایک ایک ارب ڈالر کی قسط کے لیے آئی ایم اف کے سامنے کشکول لیے کھڑا ہے، اس کی کرنسی تباہ ہو چکی اور وہ داخلی طور پر شدید سیاسی و سکیورٹی بحران کا شکار ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسا غیبی سلسلہ شروع کر رکھا ہے کہ پاکستان اگرچہ افغانستان کے خلاف بہت بڑے عزائم اور خطرناک ارادے رکھتا ہے، لیکن اس کی اپنی معاشی بدحالی اور اندرونی کمزوری اس کے ہاتھ پاؤں باندھ رہی ہے۔ وہ معاشی شکنجه کہ جو پاکستان نے دوسروں کے لیے تیار کیا تھا، آج قدرت نے اسے خود پاکستان پر مسلط کر دیا ہے، تاکہ وہ کسی برادر ملک پر بڑی جارحیت کے قابل ہی نہ رہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت لامحدود ہے اور وہ کسی بھی مادی سبب کا محتاج نہیں؛ چناں چہ پاکستان کی معیشت کی بدحالی تو محض ہمارا ایک ممکنہ انسانی اندازہ ہے، جب کہ خدائی قدرت پاکستان کے اُن مذموم عزائم کو دیگر کئی محاذوں پر بھی ناکام بنا رہی ہے۔ مادی دنیا میں پاکستان کو ملنے والی سفارتی شکستیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔
جیسے ماسکو فارمیٹ میں پاکستان کا بیانیہ مسترد ہونا اور مشترکہ اعلامیے کی روایت کا برقرار نہ رہنا، ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے بلند بانگ دعووں میں ناکامی اور سعودی عرب کے دفاع اور حوثی حملوں کے معاملے میں عسکری طور پر بے اثر ثابت ہونا…
یہ تمام عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف معاشی طور پر ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی فوج کا وقار، سفارتی احترام اور مادی اثر و رسوخ ختم کرکے بھی افغانستان کو اس کے ممکنہ شر سے بچانے کا ایک کثیر الجہتی غیبی بندوبست کر رکھا ہے، جسے پاکستان کا فوجی رجیم سمجھنے سے قاصر ہے۔
یہ پورا منظرنامہ اس بات کی گواہی ہے کہ جو لوگ اور ریاستیں معصوموں کے خون پر اپنی معیشت کی عمارت کھڑی کرتی اور برادر کُشی کے ذریعے مادی فائدے حاصل کرنا چاہتی ہیں، قدرت اُن کی چالوں کو اُنہی کے خلاف موڑ دیتی ہے۔
افغانستان تمام تر مادی نقصانات کے باوجود بیرونی قرضوں سے آزاد ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا ہے، جب کہ مادی ٹیکنالوجی اور ایٹم بم کا خمار رکھنے والا نظام اندرونی طور پر کھوکھلا ہو چکا ہے۔ یہ کائنات کا وہ توازن ہے، جہاں کوئی بھی سازش الٰہی حکمت کے سامنے ٹھہر نہیں پاتی اور مظلوم کی حفاظت کا بندوبست ظالم کی اپنی ہی کمزوریوں کے اندر پہلے سے کر دیا جاتا ہے۔


















































