کسی بھی معاشرے کی بقا اور اس کا تسلسل بڑی حد تک عوام کے اعتماد اور ان کے اجتماعی فکری عزم پر منحصر ہوتا ہے۔ دنیا کا جغرافیائی نقشہ انسانوں کے وجود سے تشکیل پاتا ہے اور ادارے انہی انسانوں کی خدمت کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں اس فطری اصول کو دانستہ طور پر الٹ کر پیش کیا گیا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ایک ایسے بیانیے کی تشکیل پر کام شروع ہوا، جس نے کالے جادو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھا دیا کہ ’’ریاست کی بقا عوام کے وجود سے نہیں، بلکہ فوجی ادارے کے وجود سے وابستہ ہے۔‘‘ یہ ایک طرح کی فکری ہیپناٹزم (ذہنی تسخیر) تھی، جس کے تحت سرحدوں کے دفاع کو ملک کی بقا کی واحد شرط قرار دے دیا گیا۔
لیکن جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو حقیقت پاکستانی فوج کے اس دعوے کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ اگست ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تو یہ کسی فوجی فتح کا نتیجہ نہیں تھا اور نہ ہی اس وقت کوئی ایسی منظم فوجی قوت موجود تھی جو اس نومولود ملک کی بقا کی ضمانت دے سکتی۔ پاکستان دراصل برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد، ایک ناقابلِ شکست عوامی تحریک اور علمائے کرام کی قربانیوں کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا تھا۔ فوج کا ادارہ تقسیمِ ہند کے بعد بتدریج منظم اور مضبوط ہوا۔ منطقی اور تاریخی اعتبار سے حقیقت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ’’ملک ہوگا تو فوج ہوگی، نہ کہ فوج کی وجہ سے ملک کا وجود قائم ہے۔‘‘
جولائی ۱۹۷۷ء میں جنرل ضیاء الحق کی جانب سے اقتدار پر قبضہ اس کی سب سے بڑی اور واضح مثال ہے۔ قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ’’آپریشن فیئر پلے‘‘ کے نام پر یہ وعدہ کیا گیا کہ محض ۹۰ دن کے اندر منصفانہ انتخابات کرائے جائیں گے اور فوج واپس اپنی بیرکوں میں چلی جائے گی، لیکن یہ وعدہ ایک طویل سراب میں تبدیل ہوگیا۔ وہ ۹۰ دن کبھی پورے نہ ہوئے، بلکہ آنے والی پوری ایک دہائی اقتدار کو طول دینے کے مختلف حیلوں اور حربوں کی نذر ہوگئی۔ خواہ نفاذِ اسلام کا نعرہ ہو یا سیاست دانوں کی نااہلی کا پروپیگنڈا، ان سب کا مقصد ایک ہی تھا: فوجی اقتدار کو محفوظ رکھنا۔ یہ اقتدار عوام کے ووٹ پر نہیں، بلکہ بندوق کی طاقت پر قائم تھا۔ اس کا خاتمہ بھی کسی سیاسی عمل کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ ۱۹۸۸ء میں بہاولپور کی فضاؤں میں ایک ایسے طیارے کے دھماکے سے ہوا، جس میں بارود سے بھرے آموں کے صندوق رکھے گئے تھے۔
ہر آمر نے اقتدار پر قبضہ کرتے وقت یہی دعویٰ کیا کہ وہ ملک کو بچانے اور نظام کی اصلاح کے لیے آیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوجی آمریت کے ہر دور نے ملک کو سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے مزید کمزور کیا۔ اس طرزِ عمل نے ملک کے اندر ایک مخصوص سوچ کو جنم دیا، جسے ہم ’’فوجی بندوق کی دوربین سے دنیا کو دیکھنے کا زاویہ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
جب کوئی فوجی ادارہ اپنی متعین آئینی حدود سے تجاوز کرکے ملک کی سیاست، معیشت اور معاشرے کو اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے تو وہ ہر مسئلے کو سلامتی اور دشمنی کی عینک سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس ’’فوجی دوربین‘‘ سے دیکھتے ہوئے اسے اپنے ہی وہ شہری، جو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، صحافی اور سیاسی کارکن اپنے نہیں بلکہ ’’دشمن‘‘ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ نتیجتاً داخلی مسائل کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے بجائے طاقت کے استعمال کی کوششیں کی گئیں، جنہوں نے ملک کے اندر موجود خلیج کو مزید گہرا کردیا۔
اس پالیسی کا سب سے ہولناک نتیجہ ۱۹۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں سامنے آیا۔ جب مشرقی پاکستان، یعنی موجودہ بنگلہ دیش کے عوام کو ان کے معاشی اور سیاسی حقوق دینے کے بجائے طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی تو دنیا کی ایک طاقتور فوج بھی عوام کے اعتماد کے خاتمے اور ان کی بڑھتی ہوئی بیگانگی کے باعث ملک کو متحد نہ رکھ سکی۔ تاریخ نے ثابت کردیا کہ جب عوام اپنی ریاست اور فوج پر اعتماد کھو بیٹھیں تو محض عسکری طاقت کسی ملک کی جغرافیائی وحدت کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔
اس کے باوجود عوامی آوازوں کو دبانے اور فوجی رجیم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کیا گیا۔ جب بھی میڈیا میں سنجیدہ حلقوں یا عاصمہ جہانگیر جیسی نڈر شخصیات کی جانب سے فوجی قیادت کی غلط پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی گئی تو بحث کا رخ موڑنے کے لیے نہایت چالاکی سے نئے بیانیے گھڑے گئے۔ ٹیلی ویژن کے مباحثوں میں یہ سوال اٹھانے کے بجائے کہ ’’کیا فوج کی سیاست میں مداخلت درست ہے؟‘‘ بحث کا عنوان یہ بنا دیا جاتا کہ ’’کیا فوج پر تنقید مسائل کا حل ہے؟‘‘
اس مکارانہ فکری شعبدہ بازی کا مقصد یہ تھا کہ غلطیوں کی مرتکب فوج کو ایک مظلوم اور ملک کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ تمام فیصلوں کی ناکامیوں کا ملبہ ان سیاسی مہروں اور ان لوگوں پر ڈال دیا جائے جو جائز تنقید کرتے ہیں، جبکہ طاقت کا اصل مرکز ہر قسم کے احتساب سے محفوظ رہے۔
لیکن ہر بیانیے کی ایک عمر ہوتی ہے اور پروپیگنڈے کا جادو بالآخر حقیقت کے سامنے دم توڑ دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں، بالخصوص معلومات کی تیز رفتار ترسیل اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ کے باعث، پاکستانی عوام کا شعور ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اب لوگ فوج کے ان روایتی اور جذباتی نعروں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جن کی آڑ میں کئی دہائیوں سے معاشی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کو چھپایا جاتا رہا ہے۔
اس بیدار ہوتے ہوئے عوامی شعور کی ایک نمایاں اور علامتی مثال صوبۂ سندھ کے سرحدی علاقے میں دیکھنے کو ملی، جہاں بھارت کے ساتھ جھڑپ کے بعد سرحد سے واپس آنے والے فوجی ٹرکوں کا راستہ عوام نے روک کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ جب فوجی وردی میں ملبوس ایک ڈرائیور نے روایتی بیانیے کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ ’’ہم تو سرحد پر آپ کی حفاظت کے لیے لڑ کر واپس آرہے ہیں‘‘، تو عوام کا جواب کسی طلسماتی بیانیے کا حصہ نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت کا اظہار تھا: ’’ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس مستقل کشیدگی اور جنگوں کی اصل وجہ تمہاری فوجی پالیسیاں ہیں!‘‘
یہ منظر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اب عوام میدانِ جنگ میں ایک عام سپاہی کے ذاتی خلوص اور اس کی فرض شناسی اور بند کمروں میں تشکیل دی جانے والی فوجی پالیسیوں کے درمیان فرق سمجھنے لگے ہیں۔ عوام کا یہ غصہ کسی مخصوص فرد کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو ملک کو عوام کی فلاح و بہبود پر مبنی ریاست بنانے کے بجائے ہمیشہ ایک سکیورٹی اسٹیٹ بنائے رکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان کا آج کا شہری اس حقیقت کو سمجھ چکا ہے کہ بندوق کی دوربین سے داخلی اور خارجی مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ناممکن ہے۔ ممالک محض اپنی سرحدوں پر کھڑی فوج کے بل بوتے پر محفوظ نہیں رہتے، بلکہ آئین کی بالادستی، مضبوط اداروں، معاشی خودکفالت اور اپنے شہریوں کو ان کے حقوق دینے سے محفوظ اور مستحکم ہوتے ہیں۔
پروپیگنڈے کے ذریعے مسلط کیا گیا وہ پرانا فوجی ذہنی تسخیر کا نظام اب ٹوٹنے کے قریب ہے۔ یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ جب تک تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس نہیں آتے اور عوام کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے، اس وقت تک حقیقی استحکام اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔


















































