خوارج کی وہ چار بنیادی خصوصیات جو داعش میں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں
خوارج کے گمراہ کن دھارے اور داعش کے تکفیری گروہ کے ساتھ اس کے فکری اور عملی تعلق کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان بنیادی خصوصیات پر توجہ دی جائے جنہوں نے خوارج کو دیگر اسلامی تحریکوں سے جدا کیا تھا۔ اگرچہ یہ خصوصیات خوارج میں ابتدائی اور محدود شکل میں موجود تھیں، لیکن داعش میں وہ غیر معمولی وسعت اور خوفناک شدت کے ساتھ دوبارہ زندہ ہو گئی ہیں۔
احمد عبدالرحمن مصطفی نے اپنی کتاب «داعش من الزنزانة إلی الخلافة» اور ڈاکٹر ہانی نصیرہ نے «سرداب الدم» میں قدیم خوارج اور موجودہ داعش کے درمیان انہی فکری اور عملی مماثلتوں پر زور دیا ہے۔ یہ خصوصیات چار بنیادی اصولوں پر مشتمل ہیں، جن میں سے ہر ایک کسی بھی گروہ کے انحراف کے لیے تنہا ہی کافی ہے، لیکن جب یہ سب ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک نہایت خطرناک اور بے رحم دھارا وجود میں آتا ہے۔
خوارج کی پہلی اور سب سے اہم خصوصیت وسیع پیمانے پر تکفیر تھی۔ وہ اسلامی تاریخ کا پہلا گروہ تھا جس نے دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ خوارج کے نزدیک ہر وہ شخص جو کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا، کافر شمار ہوتا تھا اور اس کا خون بہانا جائز سمجھا جاتا تھا۔ ان کی تکفیر کا دائرہ یہاں تک وسیع ہو گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابۂ کرام بھی اس سے محفوظ نہ رہے۔
علامہ ابن تیمیہ نے «مجموع الفتاویٰ» میں نقل کیا ہے کہ خوارج تو ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیتے تھے جو ان کی بدعت کی مخالفت کرتے تھے، اور ان کے خون اور مال کو مباح سمجھتے تھے۔ یہی تکفیری طرزِ فکر داعش کی فکر کا بھی مرکزی ستون ہے۔ داعش نے اپنی اشاعتوں میں بارہا اعلان کیا ہے کہ جو شخص ان کی خودساختہ خلافت کی بیعت نہ کرے یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے، وہ مرتد اور کافر ہے اور اس کا خون بہانا جائز ہے۔ داعش اور خوارج کے درمیان فرق صرف تکفیر کے دائرۂ کار میں ہے، خوارج صرف اپنے قریبی مخالفین کو کافر قرار دیتے تھے، جبکہ داعش نے دنیا کے تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو مرتد قرار دیا اور ان کے قتل کو جائز ٹھہرایا۔
دوسری خصوصیت دین کی ناقص فہم، ظاہر بینی اور سطحیت تھی۔ خوارج قرآنِ مجید اور سنت کی سمجھ میں صرف الفاظ کے ظاہری معانی پر اکتفا کرتے تھے اور دینی مفاہیم کی گہری حقیقتوں سے بے بہرہ تھے۔ وہ ان آیات کو، جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، اہلِ ایمان پر منطبق کرتے اور اسی غلط تاویل کی بنیاد پر انہیں کفر اور ارتداد کا حکم دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس خصوصیت کی طرف اس حدیث میں واضح اشارہ فرمایا ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں روایت ہوئی ہے: "وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔” دین کی یہی سطحی فہم داعش میں بھی کہیں زیادہ شدت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔
داعش جہاد، خلافت، ہجرت اور تکفیر جیسے عظیم دینی مفاہیم کی نہایت سادہ اور انتہائی پرتشدد تعبیر پیش کرتی ہے، جبکہ عقلی غور و فکر، منظم اجتہاد اور اس عظیم فقہی ورثے سے، جو صدیوں کے دوران مسلمانوں میں پروان چڑھا، گریز کرتی ہے۔
تیسری خصوصیت مسلمانوں کا قتل اور مشرکوں کو چھوڑ دینا ہے۔ یہ حیران کن اور ساتھ ہی تنبیہ آمیز خصوصیت نبوی احادیث میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خوارج مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی فرمایا: "انہوں نے ان آیات کو لیا جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، پھر انہیں اہلِ ایمان پر منطبق کر دیا۔” خوارج اسلام کے اصل دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے تکفیر اور قتل کی تلوار مسلمانوں ہی کے خلاف استعمال کرتے تھے۔
یہی خصوصیت داعش میں بھی پوری وضاحت کے ساتھ نظر آتی ہے۔ داعش کے خونریز حملوں کا زیادہ تر نشانہ مسلمان ہی رہے۔ اس نے شیعوں کو کافر قرار دے کر ان کا کھل کر قتلِ عام کیا، صوفیوں کو مشرک قرار دے کر ان کے سر قلم کیے، اور وہ اہلِ سنت جو اس کی مخالفت کرتے تھے، انہیں مرتد قرار دے کر قتل کر دیا۔
چوتھی خصوصیت مسلمان حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہے، خواہ وہ حکمران عادل ہو یا ظالم۔ خوارج نے خلفائے راشدین کے خلاف، جو رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے زیادہ عادل حکمران تھے، بغاوت کی اور انہیں کافر قرار دیا۔ داعش نے بھی تمام مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دے کر ان کے خون کو مباح ٹھہرایا۔ ابوبکر البغدادی نے موصل کی نوری مسجد میں اپنی مشہور تقریر کے دوران عالمِ اسلام کے تمام حکمرانوں کو دعوت دی کہ وہ ان کی خودساختہ خلافت کی بیعت کریں، ورنہ انہیں کافر سمجھا جائے گا اور ان کا قتل جائز ہوگا۔
یہ چار خصوصیات جب ایک جگہ جمع ہو جائیں تو خوارج اور ان کے موجودہ جانشین، یعنی داعش، کی گمراہ ماہیت کی ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق صرف وسائل اور طریقۂ کار کا ہے، بنیاد اور فکر کا نہیں۔ خوارج تلوار اور خطابت کے ذریعے اپنی جدوجہد کرتے تھے، جبکہ داعش خودکار ہتھیاروں، مارٹر گولوں، سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ جیسے جدید ذرائع استعمال کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش انہی قدیم نظریات کو نہایت وحشیانہ اور خونریز انداز میں آگے بڑھا رہی ہے۔




















































