امارت اسلامیہ افغانستان نے شریعتِ اسلامیہ کے دائرے میں شروع سے اب تک ایسی سیاسی حکمت عملی اپنائی ہے جس کی بنیاد آزادی، باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم ہے۔ امارت اسلامیہ نے نہ تو کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی کسی کو افغانستان کی خودمختاری اور حدود کی پامالی کی اجازت دی ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر امارت اسلامیہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تنازعات اور اختلافات کو بات چیت اور تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے، کیونکہ پائیدار استحکام جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ عقلی تعامل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ مذاکرات بھی اسی پالیسی کا تسلسل تھے۔ امارت اسلامیہ نے عملی میدان میں یہ دکھایا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے پُرعزم ہے۔ مثال کے طور پر، اس نے فرضی سرحدی لکیر کے ساتھ ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور واقعات سے گریز کیا، علماء سے رجوع کیا تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق حل پیش کیا جائے اور قبائلی مہاجرین کو نظم و ضبط کے تحت لایا تاکہ کوئی فریق بھی اسے بدامنی کے بہانے کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔ یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ نے صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔
لیکن اس کے مقابلے میں پاکستانی فوجی رجیم کے شیطانی اور اجرتی حلقے، جو برسوں سے ملک کی سیاست پر سایہ فگن ہیں، مسائل کا حل پُرامن طریقے سے نہیں چاہتے۔ پاکستان میں جاری بدامنی کی جڑیں زیادہ تر جنرل پرویز مشرف کے دور کی پالیسیوں میں ہیں۔ جب پاکستان نے افغانستان پر قبضے میں تعاون کیا اور قبائلی علاقوں میں وسیع فوجی آپریشن کیے، ڈرون حملے ہوئے، ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے اور بہت سے نوجوان یا تو مارے گئے یا لاپتہ ہو گئے، تو ان پالیسیوں کے معاشرتی اور سیکیورٹی اثرات آج بھی جاری ہیں۔
آج بھی پاکستانی فوج کئی داخلی مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ سیاسی اختلافات، اقتدار کے لیے کشمکش، مخالفین کی سرکوبی اور اقتصادی بحران وہ حقیقتیں ہیں جو پاکستان کی سیاسی فضا کو متاثر کر رہی ہیں۔ جب کوئی نظام داخلی ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اکثر بیرونی الزامات یا بہانوں کا سہارا لیتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ افغانستان پر الزامات عائد کرنا یا سرحدی جھڑپیں پیدا کرنا اسی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، شہریوں کو نشانہ بنانا اور مذہبی اقدار کی بے حرمتی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف ہمسایہ ممالک کے اصولوں سے متصادم ہیں بلکہ اسلامی اور عالمی اصولوں کے بھی مخالف ہیں۔ امارت اسلامیہ نے بعض حالات میں سخت جواب دیا ہے، مگر زیادہ تر مواقع پر مذاکرات کے تسلسل کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا اور تشدد کے پھیلاؤ کو روکا ہے۔ یہ رویہ کمزوری نہیں بلکہ سیاسی پختگی اور ذمہ داری کی علامت ہے۔
اس کے باوجود ہر صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ افغان قوم نے تاریخی طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور عزت کا دفاع کیا ہے۔ امارت اسلامیہ اگرچہ امن اور بات چیت کے راستے کو ترجیح دیتی ہے، لیکن ملک کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے معاملے میں کبھی غفلت نہیں کرے گی۔ اگر دوسرا فریق تنازع کو جاری رکھنے پر مصر ہو، تو یہ فطری بات ہے کہ وہ اپنے عمل کے نتائج کا سامنا کرے گا۔
مجموعی طور پر، امارت اسلامیہ افغانستان کا مؤقف واضح ہے: مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، باہمی احترام برقرار رکھا جائے، اور ہر ملک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرے۔ اگر یہ اصول اپنایا جائے تو استحکام حاصل ہو سکتا ہے؛ مگر اگر کوئی جنگ یا دباؤ کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو تاریخ یہ سکھاتی ہے کہ افغان اپنے حق کا دفاع کریں گے۔ امارت اسلامیہ نے اب تک برداشت، تدبیر اور سیاسی ذمہ داری کی ایک مثال پیش کی ہے، مگر اگر ضرورت پڑی، تو اپنے عوام کی عزت اور حفاظت کے لیے وہ قاطع فیصلے بھی لے گی۔




















































