ترکی کی میزبانی میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات خطے میں امن اور باہمی اعتماد کے قیام کی سمت ایک اہم قدم تصور کیے جا رہے تھے، لیکن معتبر ذرائع کے مطابق یہ نشست توقعات کے برعکس بے نتیجہ اختتام پذیر ہوئی۔ اس ناکامی کے پسِ منظر میں پاکستانی وفد کا غیرسنجیدہ رویّہ، ناتجربہ کاری، دوغلی سیاسی سوچ اور خودمختاری سے محرومی جیسے عوامل کو بنیادی اسباب قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی وفد کا رویّہ اس حقیقت کا واضح ثبوت تھا کہ وہ سفارتی مذاکرات کے اصولوں، آداب اور مکالمے کے فن سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے منطق و استدلال کے بجائے جذبات کو ترجیح دی، غیرموزوں الفاظ استعمال کیے اور حتیٰ کہ ثالث ممالک – قطر اور ترکی – کے نمائندوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ان کی کمزور تربیت اور سیاسی نااہلی کی علامت تھا بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پاکستان ابھی تک منفی اور قدیم فوجی ذہنیت کے سایے سے باہر نہیں آیا۔
افغان وفد نے توازن اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہو، البتہ انہوں نے یہ مطالبہ ضرور کیا کہ پاکستان بھی افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی سے باز رہے اور امریکی ڈرون حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کو روکے۔ ابتداء میں پاکستانی وفد نے یہ شرط تسلیم کرلی، مگر بعد میں اپنی بات سے منحرف ہو گیا۔ یہ رویّہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی مذاکراتی وفد درحقیقت خودمختار نہیں تھا بلکہ بیرونی قوتوں کے دباؤ میں کام کر رہا تھا۔
جب کوئی وفد منطق کی بجائے غیر موزوں اور توہین آمیز الفاظ کا سہارا لیتا ہے، تو یہ کمزوری اور ممکنہ شکست کی نشانی ہوتی ہے۔ پاکستانی وفد کا بےادبانہ رویّہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ موضوع کی گہرائی اور پیچیدگی کو سمجھنے میں ناکام رہا اور وہ امتیاز حاصل کرنے کے لیے دباؤ اور توہین کا سہارا لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے مقابل افغان وفد نے صبر اور منطق کے ساتھ ردِعمل ظاہر کیا، جو سفارتی مہارت کا روشن ثبوت تھا۔
ایک موقع پر جب پاکستانی وفد کو فون آیا اور اس نے اپنی پچھلے معاہدے سے رجوع کیا، یہ ایک خفیہ مداخلت کی واضح علامت تھی۔ پاکستان ابھی تک اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے آزاد نہیں ہے، اور ڈرون حملوں کے کنٹرول میں ناکامی کا اعتراف یہ حقیقت مزید واضح کرتا ہے کہ پاکستان امریکی عسکری حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ یہ تھی کہ پاکستان مذاکراتی میز پر مسئلے کے حل کے لیے نہیں بلکہ الزام تراشی، دباؤ ڈالنے اور اپنے مؤقف کی توجیہ کرنے کے لیے آیا تھا۔ پاکستانی وفد کا مقصد افغان وفد کو اس طرح قائل کرنا تھا کہ وہ TTP کے حملوں جیسے داخلی مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال دے۔ یہ غیر منطقی اور غیر حقیقت پسندانہ موقف مذاکرات کے ماحول پر براہِ راست منفی اثر ڈالنے کا سبب بنا۔
قطر اور ترکی کے نمائندے پاکستانی وفد کے رویّے پر حیران رہ گئے۔ ان پر واضح ہو گیا کہ افغان وفد منطق، آداب اور وضاحت کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا، جبکہ پاکستانی وفد صرف دباؤ اور توہین آمیز زبان استعمال کر رہا تھا۔ اس صورتحال نے ثالث ممالک کے اعتماد پر بھی اثر ڈالا اور پاکستان کی سیاست کی مکروہ صورت حال کو مزید نمایاں کر دیا۔
افغان وفد نے قومی خودمختاری اور اپنی سرزمین کے استعمال نہ ہونے کے اصول پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ TTP پاکستان کے ارکان افغانستان کی شہری نہیں ہیں، اس لیے ان پر کنٹرول افغانستان کی ذمہ داری نہیں بن سکتی۔ یہ مؤقف بین الاقوامی قانون کے مطابق بھی منصفانہ ہے اور ایک خودمختار ریاست کی اصولی پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، ترکی مذاکرات کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی برادری کے سامنے ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی کہ امارتِ اسلامی افغانستان کا مؤقف منطق اور اصولوں پر مبنی ہے، جبکہ پاکستان کی پالیسی اب بھی دھوکے، دباؤ اور دوغلے پن پر استوار ہے۔
پاکستانی وفد نے اپنی ناتجربہ کاری، بےادبی اور بیرونی دباؤ کے تحت اپنا مؤقف کمزور کر دیا اور ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ وہ امن کے بجائے تنازعہ اور پڑوسیوں کو پریشان کرنے کی پالیسی کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم پاکستان کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ زور، بےادبی اور فریب کے سہارے افغانستان کی معزز عوام سے کوئی امتیاز یا فوقیت حاصل نہیں کی جا سکتی، مذاکرات کا واحد راستہ احترام، صداقت اور باہمی اعتماد ہے۔




















































