جب سلطان محمد فاتح اپنی فوج کے کسی دستے کے پاس سے گزرتا تو وہ ان کے سامنے غیرت اور حوصلے کی باتیں کرتا اور کہتا:
’’ قسطنطنیہ کی فتح کے ذریعے تمہیں عزت، دائمی عظمت اور بے شمار اجر و ثواب ملے گا۔ یہ شہر ان تمام سازشوں اور فتنوں سے آزاد ہو جائے گا جو مختلف امراء اور ظالموں نے انسانیت کے خلاف کیے ہیں۔ جو سپاہی سب سے پہلے قسطنطنیہ کی دیواروں پر اسلامی پرچم لہرائے گا، اُسے بھرپور انعام دیا جائے گا، وسیع جاگیر عطا کی جائے گی اور امت کی تاریخ میں اس کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔‘‘
علماء اور مشائخ فوج کے درمیان گھومتے رہتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کی فضیلت کے بارے میں قرآنِ کریم کی آیات تلاوت کرتے۔ وہ سپاہیوں کو یاد دلاتے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پانے والوں کے لیے عظیم مرتبہ اور اجر ہے۔ وہ ان شہیدوں کا ذکر کرتے جو ان سے پہلے قسطنطنیہ کی فتح کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر چکے تھے۔
وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی کرتے اور سپاہیوں سے کہتے:
’’ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت ابو ایوب انصاری کے گھر ٹھہرے تھے، اور یہ عظیم صحابی بعد میں اسی علاقے کے ارادے سے نکلے۔ سفید ریش ہونے تک انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جہاد کیا تاکہ اس شہر کو اسلام کے سایے تلے لے آئیں۔‘‘
اسی طرح اسلامی لشکر میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہوا اور مجاہدین کے دل جذبے کے طوفان سے لبریز ہو گئے۔
جب سلطان محمد فاتح اپنی خیمہ گاہ میں واپس آیا تو اس نے لشکر کے کماندانوں کو بلایا، انہیں آخری ہدایات دیں اور ان سے مخاطب ہو کر کہا:
’’جب قسطنطنیہ ہمارے ہاتھ میں آئے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہمارے بارے میں پوری ہو جائے گی۔ ہم اس معجزے کے عملی مظہر ہوں گے جس کی بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ یہ فتح ہماری مقدر کی لکیر ہے۔ اپنے بچوں کو بتا دینا کہ یہ عظیم کامیابی، جو قریب ہے، ہماری تقدیر میں لکھی گئی ہے۔
اس فتح کے ذریعے اسلام کی عزت، قوت اور شان بلند ہو گی۔ ہر سپاہی کو چاہیے کہ شریعت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کی بنیاد بنا لے اور ہر اس چیز سے بچے جو دین کے منافی ہو۔
سنو! کلیساؤں کی بے حرمتی مت کرو، عبادت گاہوں کی پاکیزگی کو نقصان نہ پہنچاؤ، بے گناہ لوگوں کو تکلیف نہ دو، کمزور بچوں، عورتوں اور ان لوگوں کو درگزر کرو، جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔‘‘
دوسری جانب قسطنطنیہ کے بازنطینی بادشاہ نے بھی شہر کے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے کہا:
’’خدا کے حضور گریہ و زاری کرو، دعائیں کرو، شاید اللہ ہمیں اس محاصرے سے نجات دے دے!‘‘
عورتیں، بچے اور مرد سب کلیسا میں جمع ہو گئے، وہ روتے، فریاد کرتے اور دعائیں مانگتے تھے۔
بادشاہ نے ایک طویل اور فصیح خطاب کیا، جو اس کی آخری تقریر بھی ثابت ہوئی۔ اس نے لوگوں کو تاکید کی:
’’اگر میں جنگ میں مارا جاؤں تو تم موت تک لڑنا، نصرانیت کا دفاع کرنا اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرنا‘‘!
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ قسطنطنیہ کے بادشاہ کی یہ تقریر انتہائی مؤثر تھی، مجلس میں موجود لوگ چیخ چیخ کر رونے لگے۔ تقریر کے بعد بادشاہ آیا صوفیا کے کلیسا گیا، وہاں اس نے اپنی آخری عبادت کی، پھر واپس اپنے دربار میں آیا، سب کو آخری سلام دیا، ہر ایک کے چہرے کو غور سے دیکھا اور سب سے مصافحہ کیا۔
بادشاہ کی بیویاں، بچے اور خادم سب رو رہے تھے اور بادشاہ سے آخری وداع کر رہے تھے۔ عیسائی مؤرخین نے اس منظر کو بہت جذباتی الفاظ میں بیان کیا ہے۔ جو کوئی بھی یہ منظر پڑھتا ہے، وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ:
"اگر وہاں پتھر میں بھی جان ہوتی اور یہ منظر دیکھتا تو اس کی آنکھوں سے بارش کی طرح آنسو بہہ نکلتے۔‘‘
قسطنطین نے اپنی اہل خانہ کو خدا کے سپرد کیا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کی فرضی تصویر کے سامنے، جو دیوار پر لٹکی ہوئی تھی، خاموش دعا کی، اس کے بعد اس نے جنگی لباس پہنا اور آدھی رات کو اپنے بااعتماد ساتھی فرانٹزتس کے ساتھ محل سے باہر نکلا اور ایک بار پھر شہر کے محافظوں کی حالت کا جائزہ لیا۔
اس نے عثمانی لشکر کی نقل و حرکت بھی دیکھی۔ عثمانی فوج نے خشکی اور سمندر دونوں اطراف سے حملے کی مکمل تیاری کر رکھی تھی۔ سلطان محمد فاتح بھی اپنی خیمہ گاہ سے باہر آیا، آسمان کی طرف دیکھا اور دعا کی:
’’یا اللہ! ہم پر مہربانی فرما، اور ہم پر اپنی رحمت کی بارش نازل فرما!‘‘
اسی لمحے بارش کی بوندیں برسنے لگیں، گرد و غبار بیٹھ گیا اور لشکر کے لیے پیش قدمی آسان ہو گئی۔




















































