سلطان محمد فاتح نے بڑی مساجد اور مدارس میں ائمہ مقرر کیے، اور پرانے عہدوں کے ساتھ ساتھ نئے عہدے بھی شامل کیے۔ بڑی مساجد کے عہدوں میں خاص طور پر امام، خطیب، مؤذن اور محافظ شامل ہوتے تھے۔ ان عہدوں کے امیدوار بڑے مدارس کے فارغ التحصیل ہوتے تھے اور یہ مدارس امراء اور وزراء کے مالی تعاون سے چلتے تھے۔ یہ امراء اور وزراء اس کارِ خیر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ تمام افراد براہِ راست سلطنت کے مفتی اعظم کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ بڑے صوبوں میں فوج کے قاضی اس نگرانی کی ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ رہے چھوٹے صوبے، تو وہاں مساجد کے ائمہ تمام دینی امور کی نگرانی کرتے تھے، خاص طور پر دیہات میں امام ہی پوری ذمہ داری سنبھالتا تھا۔
وہ مدارس جو سرکاری اہلکاروں کی تربیت کرتے تھے، ان میں تعلیم کے تین درجے ہوتے تھے۔ پہلا درجہ صوفتا کہلاتا تھا، جو ابتدائی درجہ تھا۔ دوسرا درجہ ان لوگوں کا تھا جنہیں فراغت کے بعد دانشور کا لقب دیا جاتا تھا۔ تیسرا اور آخری درجہ مدرسین کا تھا۔ سلطان مراد ثانی کے دور میں صوفتا کی تعداد نوے ہزار (۹۰,۰۰۰) تھی، اور سلطنت کے تمام امور میں ان لوگوں کی آراء لی جاتی تھیں۔
مال، دولت اور فوج پر گھمنڈ نہ کرو، اہلِ شریعت کو اپنے سے دور نہ کرو۔ شریعت کے احکام کے خلاف کوئی کام نہ کرنا۔ دین ہمارا مقصد ہے، ہدایت ہمارا منہج ہے، اور انہی دونوں میں ہماری کامیابی ہے۔ سلطان محمد فاتح اپنے جانشین کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ دولت یا لشکر کی کثرت پر مغرور نہ ہو اور اسے یہ شایاں نہیں کہ وہ علماء کو اپنے سے دور کرے۔ سلطان اسے سمجھاتے ہیں کہ شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کرے، کیونکہ شریعت کے خلاف عمل دنیا میں زوال کا سبب بنتا ہے اور آخرت میں ہلاکت کا۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت سے دوری کے اثرات دینی، سماجی، سیاسی اور معاشی تمام شعبوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔
عثمانیوں کی قوت، عزت اور شرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے وابستہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت نافذ کی، اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور لوگوں کو دینِ حق کی طرف بلایا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی کے آخری لمحے تک عزت و عظمت عطا کی۔ چنانچہ محمد فاتح اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: دین ہمارا مقصد ہے اور ہدایت ہماری راہ ہے۔ کامیابی اور کامرانی کا سبب یہی ہے۔
اپنے نفس کو برائیوں اور گناہوں سے پاک رکھنا اور اسے نیکیوں کی طرف آمادہ کرنا دینی خدمت کا نتیجہ ہے۔ اسی وجہ سے دینی رہنماؤں کا پیدا ہونا اس دین کی خدمت کا ثمر ہے۔ یہ عمل انسان کو جرائم سے روکتا ہے اور اسے اپنے نفس کے محاسبے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان کے نزدیک دین کے احکام مقدم ہو جائیں تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے، اور وہ ہمیشہ کے لیے گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس طرح دین کی خدمت اور شریعت کی پاسداری لوگوں کے درمیان اتحاد پیدا کرتی ہے اور ایک اسلامی سلطنت کے تمام باشندے عدل و انصاف سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ دین کو مضبوطی سے تھامنا برکتوں کے نزول اور مسلسل نعمتوں کے حصول کا سبب بنتا ہے۔ ایسا نہیں کہ آخرت میں بہترین بدلہ پانے کا راستہ کچھ اور ہو اور دنیا میں کامیابی کا راستہ کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے ایک ہی راستہ مقرر کیا ہے، اور وہ راستہ اسلام ہے۔
اسلامی احکام کے نفاذ سے دلوں میں برکتیں پیدا ہوتی ہیں، اور اسی کے ساتھ دنیا کی برکتیں اور آخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تھوڑی سی چیز میں بھی برکت ڈال دیتا ہے تاکہ اس سے درست طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔ شریعت کے پھیلاؤ کے نتیجے میں ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے جو اپنے دین اور نظریے کی حفاظت میں قوی ہوتا ہے۔ قرآن و سنت ایسا سرچشمہ ہیں جن میں ایک مسلمان فرد، پورا مسلم معاشرہ اور پوری امتِ مسلمہ کی حکومت کی تعمیر کے لیے ہر چیز موجود ہے۔ قرآن و سنت پر عمل کرنے سے پوری قوم کا حوصلہ بلند ہوتا ہے اور لوگ اعلیٰ اخلاق اور ترقی کے عملی میدانوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، کیونکہ شریعت اپنے اندر ہر ترقی یافتہ معاشرے کی اخلاقی زندگی کی حفاظت کے تمام اصول رکھتی ہے۔




















































