داعش کے وہ اقدامات جو ان کی نام نہاد اسلامی خلافت کے دعوے کے ساتھ میل نہیں کھاتے، چند اہم نکات کی صورت میں درج ذیل ہیں:
۱۔ بے رحم تشدد اور ظلم
داعش بارہا بے گناہ عام شہریوں پر حملے کرتی رہی ہے، لوگوں کو اذیت دیتی ہے اور ان کے خاندان تباہ کر دیتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلام کے عدل، رحمت اور انسانی وقار کے اصولوں کے خلاف ہے۔
۲۔ اسلامی شریعت کی غلط تعبیر
داعش اسلامی قوانین کی سخت اور غیر منطقی تعبیر پیش کرتی ہے جو اکثر اوقات اسلامی تعلیمات کے اصل ماخذ سے متصادم ہوتی ہے۔ وہ اسلام کا پیغام دہشت اور وحشت کے ذریعے پھیلاتی ہے، حالانکہ اسلام کی بنیاد رحمت اور انصاف پر ہے۔
۳۔ بے جا تکفیر اور تفرقہ
داعش مسلمانوں کو بلاوجہ کافر قرار دیتی ہے اور ان پر حملے کرتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اسلامی اتحاد کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ اسلام مسلمانوں کے درمیان اخوت، برداشت اور صبر کی تعلیم دیتا ہے۔
۴۔ داخلی اور عالمی امن کے لیے خطرہ
داعش دنیا کے مختلف خطوں میں دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دیتی ہے جو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ یہ اعمال اسلامی خلافت کے استحکام اور عدل کے قیام کے برعکس ہیں۔
نامور عالمِ دین یوسف القرضاوی اپنی کتاب فقہ الجہاد میں داعش کے افعال کو سختی سے رد کرتے ہیں اور انہیں اسلام کے اصولوں کی مسخ شدہ تعبیر قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق داعش اسلام کی رحمت، عدل اور انسانی وقار کے خلاف عمل کرتی ہے۔
سیاسی محقق اور مصنف ولید فارس اپنی تحریر داعش: بین الرؤیة والواقع (الشرق الأوسط) میں لکھتے ہیں کہ داعش ’’اسلامی خلافت‘‘ کے نام پر اپنا نام نہاد جواز تراشتی ہے، لیکن درحقیقت وہ دہشت، وحشت اور بدامنی کو فروغ دیتی ہے۔ ان کے نزدیک داعش کے اقدامات اسلامی سیاسی و مذہبی فلسفے سے متصادم ہیں اور دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
اسی طرح ڈیوڈ وڈ اپنی کتاب The History of Jihad: From Muhammad to ISIS میں بیان کرتے ہیں کہ داعش اسلام کی تاریخ اور دینی متون کو بگاڑ کر اپنے تشدد اور وحشت کو جائز ٹھہراتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ داعش نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ داعش درحقیقت اسلام کے دوبارہ اتحاد اور خلافت کی حقیقی روح کو سبوتاژ کرتی ہے تاکہ مسلمان ایک پرچم تلے مجتمع نہ ہو سکیں۔
ہم اس موضوع پر ایک مستقل کالم کے تحت سو سے زائد سوالات اور نکات پر تفصیل سے بحث کریں گے تاکہ داعش کا اصل چہرہ پہچانا جا سکے۔ امید ہے قارئین ہماری تحریروں کو سنجیدگی اور تحمل سے پڑھیں گے اور اپنی آراء ہمارے ساتھ ضرور شئیر کریں گے۔
داعش سے متعلق سو سوالات:
کیا داعش کے پسِ پشت کسی خاص حلقے، ملک یا خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے؟ اگر ہے تو کن ممالک اور کن مقاصد کے لیے؟
جواب:
اس حوالے سے مختلف آرا، تحریریں اور کتب موجود ہیں۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ داعش کے پیچھے خطے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کا خفیہ ہاتھ ہے جو اپنے مخصوص اہداف کے لیے اس تنظیم سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔ البتہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمارا تجزیہ حتمی نہیں، بلکہ اس پر فیصلہ قارئین کے اختیار میں ہے۔
جب داعش نے ’’اسلامی خلافت‘‘ کے نام پر سر اٹھایا، ابتدا میں کئی اسلامی جماعتیں خوش ہوئیں کیونکہ انہیں گمان تھا کہ یہ کفار کے خلاف جہاد کی نئی لہر ثابت ہو گی۔ لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ داعش اسلام کے نام پر ایسے افعال انجام دے رہی ہے جو اسلام کی اصل روح اور عدل کے منافی ہیں، اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے بجائے مسلمانوں کے مابین خونریزی اور تفرقے میں اضافہ کر رہے ہیں۔
عالمی سیاست میں ہمیشہ ایسے عناصر، مخصوص گروہ اور خفیہ حلقے موجود ہوتے ہیں جو اپنے مفادات کے لیے مذہبی یا سیاسی جماعتوں سے کام لیتے ہیں۔ داعش کے بارے میں بھی کئی تجزیات ہیں کہ یہ تنظیم خطے کی ازسرنو تقسیم، بعض حکومتوں کی کمزوری اور کچھ قوتوں کی مضبوطی کے لیے استعمال کی گئی۔
پہلا مقصد:
ایران نے خطے کی سیاست میں مسلسل اپنا اثر بڑھایا تھا، خصوصاً شام میں جہاں اس وقت کی حکومتی قوتوں کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ داعش کے ابھرنے کے وقت اس کے حملے زیادہ تر شیعہ برادری پر مرکوز رہے، جس کے نتیجے میں شام و عراق کا توازن بگڑ گیا۔ یہ صورتحال ایران اور عراق کے درمیان پرانے تاریخی تنازعات کے دوبارہ زندہ ہونے کا باعث بھی بنی۔
دوسرا مقصد:
عراق، صدام حسین کے دور میں ایک مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ملک تھا، لیکن امریکہ کے حملے کے بعد اس کا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ داعش کا ابھرنا یوں دکھائی دیا جیسے عراق کی ازسرنو تعمیر کی ذمہ داری اسے سونپی گئی ہو، لیکن حقیقت میں اس نے سنی اور شیعہ کے درمیان مذہبی کشمکش کو مزید بڑھادیا۔ کچھ محققین کے مطابق اس منصوبے میں برطانوی انٹیلی جنس کا بھی کردار تھا تاکہ عراق میں ایک طویل المدتی بحران برپا کر کے اس کی استحکام کی راہ روکی جا سکے۔




















































