تصورِ خلافت سے امت مسلمہ کا اعتماد متزلزل کرنا:
امت مسلمہ کی معاصر تاریخ میں خلافت کے قیام کا تصور اُن عظیم خیالات میں سے ایک رہا ہے، جس نے ہمیشہ جہادی تحریکوں اور تحرکات کو الہام بخشا ہے۔ یہ وہی خلافت ہے جو وحدت، عدل اور شریعت کی حکمرانی کی علامت کے طور پر مسلمانوں کے دلوں میں بلند مقام رکھتی ہے، اور اس کی بحالی ہمیشہ امت مسلمہ کے خوابوں اور آرمانوں میں شامل رہی ہے۔
لیکن گزشتہ دہائی میں ’’داعش‘‘ کے نام سے ایک گروہ کے ابھرنے کے ساتھ یہ تصور شدید بحران کا شکار ہو گیا۔ ایسا بحران جو صرف باہر سے نہیں آیا بلکہ امت کے اندر سے، اور اُنہی لوگوں کے ہاتھوں پیدا ہوا جو خلافت کے دفاع کا دعویٰ کرتے تھے۔
۲۰۱۴ء میں خلافت کے اعلان اور ابوبکر البغدادی کو ’’ خلیفۃ المسلمین‘‘ مقرر کرنے کے ساتھ، داعشی خوارج اس طرح ظاہر ہوئے گویا وہ اسلامی عظمت، جاہ و جلال اور شان و شوکت کے دور کی واپسی کا وعدہ کر رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کے مختلف خطوں سے مخلص اور پرجوش نوجوان اس نیت سے اس جماعت کے ساتھ شامل ہوئے کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کیا جائے۔ لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ اس منصوبے کی حقیقت واضح ہوگئی۔
مبغوض داعشی گروہ نے اپنے ہولناک جرائم کے ذریعے، جیسے وحشیانہ قتلِ عام، تشدد، مسلمانوں کی بالعموم تکفیر، مساجد کو بموں سے اُڑانا، اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کا بےرحمانہ قتل، اسلامی آثارِ قدیمہ کی تباہی اور امت کے جید علماء کی توہین؛ نہ صرف یہ کہ خلافت کی حقیقی نمائندگی نہ کر سکا، بلکہ خلافت کے مقدس تصور کو بھی سخت نقصان پہنچایا، بدنام کیا اور اسے مشکوک بناڈالا۔
داعش نے اپنے شرمناک افعال کے ذریعے خلافت کو ایک خونریز، ظالم اور آمرانہ منصوبہ بنا کر پیش کیا، جس کا نہ تو کسی شرعی رہنمائی پر مبنی خلافت سے تعلق تھا اور نہ ہی امت کی حقیقی خواہشات سے کوئی مطابقت۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ داعش نے عالمِ کفر اور اسلام دشمن قوتوں کی ایک بڑی خدمت یہی کی کہ امت مسلمہ کا خلافت کے تصور و اعتقاد پر اعتماد ختم کردیا۔
اب جب خلافت کے احیاء کی بات کی جاتی ہے، تو اکثر مسلمانوں کے ذہنوں میں سب سے پہلے داعش کے مظالم آتے ہیں۔ وہ تصورِ خلافت جو عدل، اخوت، اتحاد اور شریعت کے نفاذ کی علامت ہونا چاہیے تھا، آج ایک خوفناک اور بدنام منصوبے کے طور پر جانا جاتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے داعش کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس گروہ کو دنیا کے سامنے خلافت کی نمائندہ علامت بنا کر پیش کیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خلافت کا نظریہ عالمی سطح پر، حتیٰ کہ خود بہت سے مسلمانوں کی نظر میں، ظلم و تشدد اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا گیا۔
مغربی میڈیا نے داعش کی سرگرمیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس گروہ کو دنیا کے سامنے خلافت کے نمائندہ کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خلافت کا تصور عالمی سطح پر، اور حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کی نظر میں بھی، ظلم، شدت پسندی اور انتہاپسندی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔
داعش نے اگرچہ بظاہر خلافت کے قیام کا دعویٰ کیا، لیکن عملاً اس عظیم تصور کے ساتھ سب سے زیادہ کھلواڑ اسی گروہ نے کیا۔ اس نے اسلام کے مقدس تصورات کو بدنام کرکے خلافت کی بحالی کے لیے ہونے والی ہر مخلصانہ اور مثبت کوشش کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
آج بہت سی حکومتیں اور ریاستی نظام ہر اُس اسلامی تحریک کو، جو خلافت کے تصور کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے، داعش سے مشابہت کی آڑ میں دباتی ہیں۔ عوامی ذہن بھی ایسے نعروں پر شک سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ داعش کا منصوبہ خلافت کے احیاء کی جانب کوئی مخلص قدم نہیں تھا، بلکہ ایک بہت بڑا فریب اور امت مسلمہ کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔
اس گروہ نے دشمنانِ اسلام کو نقصان پہنچانے سے پہلے، خود امت مسلمہ کے اتحاد کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ نوجوانوں کو گمراہی، شدت پسندی اور انتہاپسندی کی دلدل میں دھکیل دیا، اور سب سے اہم بات یہ کہ خلافت کے پاکیزہ تصور سے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیا۔




















































