داعش خراسان (ISKP) کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی پاکستان سے گرفتاری کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
سلطان عزیز عزام ایک طویل عرصے سے داعش خراسان کا ترجمان اور اس کی پروپیگنڈا سرگرمیوں کا مرکزی کردار رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ (UN) کی مانیٹرنگ ٹیم کی ۲۰۲۵ء کی رپورٹس اور حالیہ سکیورٹی اطلاعات کے مطابق؛ سلطان عزیز عزام کو داعش خراسان (ISKP) کے آفیشل میڈیا ونگ ’’العزائم فاؤنڈیشن‘‘ کا بانی اور سربراہ قرار دیا گیا ہے۔
العزائم فاؤنڈیشن داعش خراسان کا بنیادی میڈیا پلیٹ فارم ہے، جو بھرتیوں، نظریاتی مہمات اور حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یاد رہے، سلطان عزیز عزام اپنے علمی پسِ منظر میں ایک صحافی اور شاعر ہے، جس کی وجہ سے اُسے العزائم فاؤنڈیشن کو ایک جدید اور کثیر لسانی میڈیا نیٹ ورک کے طور پر تشکیل دینے میں مدد حاصل ہوئی تھی۔
اسی لیے سلطان عزیز عزام اس فاؤنڈیشن کے تحت ’’وائس آف خراسان‘‘ (Voice of Khorasan) جیسے رسائل اور دیگر صوتی و بصری مواد کی نگرانی کرتا تھا۔ تاہم، سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کے بعد سے العزائم فاؤنڈیشن کی میڈیا سرگرمیاں اور پروپیگنڈا آپریشنز بڑے پیمانے پر معطل یا متاثر ہوئے ہیں۔
سلطان عزیز عزام کے بارے میں ایک خبر دسمبر ۲۰۱۸ء میں یہ سامنے آئی تھی کہ وہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیر آگام (Pachir Agam) اور بعض رپورٹس کے مطابق ضلع خوگیانی کے علاقے وزیر تنگی میں ایک امریکی فضائی کارروائی میں مارا گیا ہے۔
سابقہ افغان حکام اور امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ سلطان عزیز عزام کو ایک ڈرون حملے (Airstrike) میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
اگرچہ تب امریکی اور افغان حکام نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، لیکن بعد میں یہ خبر غلط ثابت ہوئی۔
بعد ازاں سلطان عزیز عزام نے پاکستان میں ایک محفوظ مقام سے اپنا صوتی پیغام جاری کرکے اپنی ہلاکت کی تردید کی تھی، تاہم اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اس حملے میں زخمی ہوا تھا۔
اس سے قبل فروری ۲۰۱۶ء میں بھی افغان حکومت نے اس کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، مگر وہ چند ماہ بعد دوبارہ منظر عام پر آ گیا اور طالبان کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہا تھا۔
یاد رہنا چاہیے کہ امارتِ اسلامی افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی سمیت متعدد عالمی اداروں کی رپورٹس میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پختونخوا میں داعش کے تربیتی اڈے پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کی نگرانی میں مکمل طور پر فعّال ہیں۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی داعش کے ارکان کو مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں موقع بہ موقع استعمال کرتی رہتی ہے۔
جب کہ ان رپورٹس کی تصدیق حالیہ وہ واقعات بھی کرتے ہیں، جن میں پاکستان کے شہر کراچی، پشاور اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کی جانب سے داعش کے کچھ ارکان کو قتل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ امارتِ اسلامی افغانستان نے اگست ۲۰۲۱ء میں اپنے دوبارہ قیام کے بعد خصوصاً افغانستان میں داعش کے خلاف سخت کارروائیاں انجام دینا شروع کی تھیں، جن کی وجہ سے داعش کو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ملنا ناممکن ہو گئے تھے۔
چناںچہ داعش افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان چلی گئی اور اُس نے وہاں اپنے لیے محفوظ ٹھکانے بنا لیے تھے، جنہیں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی اور فوج نے اس لیے سہولت کاری کرتے ہوئے تحفظ فراہم کیا تھا، تاکہ موقع آنے پر داعش کو امارتِ اسلامی افغانستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔
اس سلسلے میں امارتِ اسلامی افغانستان کے سابق اور شہید وزیر امور برائے مہاجرین حاجی خلیل الرحمٰن حقانی کو ۱۱ دسمبر ۲۰۲۴ء کو کابل میں وزارتِ امورِ مہاجرین کے احاطے میں ظہر کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلتے وقت ایک خودکش حملے میں شہید کر دیا گیا تھا۔ جب کہ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش (ISKP) نے قبول کی تھی۔
دوسری طرف امارت اسلامی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے داعش کے اس خود کش بمبار کی نگرانی اور سہولت کاری کرنے والے کو گرفتار کر لیا تھا، جس نے تفتیش کے دوران اقرار کیا تھا کہ ان دونوں (خودکش بمبار اور سہولت کار) کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے اس دہشت گردی کے لیے ہدایات دے کر بھیجا گیا تھا۔
امارتِ اسلامی افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے فکری چینل ’’المرصاد‘‘ نے شہید حاجی خلیل الرحمٰن حقانی کی برسی پر داعش کے مذکورہ گرفتار سہولت کار کا اعترافی ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا۔
دوسری طرف داعش خراسان (ISKP) کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی اگست اور دسمبر ۲۰۲۵ء کی رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ: ’’داعش خراسان کا بنیادی دائرۂ اثر اب بھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں موجود ہے اور یہ گروہ اپنی کارروائیوں کے لیے فرضی سرحد پار کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے فرضی سرحدی علاقوں میں داعش نے اپنے نیٹ ورک کو مضبوط کیا ہے اور بعض مقامات پر بچوں کی نظریاتی تربیت اور خودکش حملوں سے متعلق سرگرمیوں میں بھی ملوث پائی گئی ہے۔
رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ نے داعش خراسان کو ’’جنوبی ایشیا، بالخصوص پاکستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک سنگین سکیورٹی خطرہ‘‘ قرار دیا ہے، جو پاکستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق داعش خراسان نے اب ’’علاقائی کنٹرول کے بجائے شہری جنگ (Urban Warfare) کی حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کے تحت اس کے عناصر بڑے شہروں میں روپوش ہو کر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔‘‘
اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے Urban Warfare دعوے کی تصدیق داعش کے کارکنان کے پاکستان کے مختلف شہروں میں قتل سے بھی ہوتی ہے۔
جیسا کہ داعش کا محمد احسانی عرف ’’انور‘‘ نامی انتہائی اہم کمانڈر ستمبر ۲۰۲۵ء کے آواخر میں پشاور شہر میں قتل ہوا تھا۔
اسی طرح نومبر ۲۰۲۵ء کے وسط میں پنجاب کے علاقے میں داعش کا ’’برہان عرف زید‘‘ نامی کارکن قتل ہوا تھا۔
افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق نمائندۂ خصوصی زلمے خلیل زاد نے برہان کو داعش کا اہم کمانڈر قرار دیا تھا۔
یہاں دل چسپ امر یہ بھی ہے کہ مارچ ۲۰۲۵ء کے وسط (تقریباً ۱۱ سے ۱۵ مارچ کے درمیان بلوچستان میں برسرِ پیکار علیحدگی پسند عسکری تنظیم ’’بلوچ لبریشن آرمی‘‘(BLA) کے جنگجوؤں نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دریائے بولان کے قریب واقع داعش (ISKP) کے مرکزی تربیتی اڈے پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا تھا۔
مختلف رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں داعش کے تقریباً ۳۰ ارکان ہلاک ہوئے تھے، جن میں جمہوریہ ترکیہ، بھارت، جمہوریہ تاجکستان اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل تھے۔
چناں چہ داعش (ISKP) کے میڈیا ونگ ’’العزائم فاؤنڈیشن‘‘ نے مئی ۲۰۲۵ء میں ایک ویڈیو جاری کرکے پہلی بار اس شکست کا اعتراف کیا اور بلوچ گروپوں کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ کردیا۔
بتایا جاتا ہے، BLA کی جانب سے یہ ’’انتقامی حملہ‘‘ اس لیے کیا گیا تھا کہ داعش نے BLA کے ایک کارکن کی پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کو جاسوسی کی تھی۔
چناںچہ اس واقعے نے بلوچستان میں جاری کشیدگی کو ایک نیا رخ دیا، جہاں اب قوم پرست گروہ اور عالمی شدت پسند تنظیمیں ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہیں۔
یہاں مزید دل چسپ صورتِ حال تب سامنے آئی، جب بجائے خود پاکستان کی انٹیلی جنس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس ’’خوشی کا تاثر لیے ہوئے‘‘ یہ رپورٹس کرتے دکھائی دے رہے تھے کہ؛ ’’بلوچ علیحدگی پسندوں اور داعش کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔‘‘
تجزیہ کاروں نے اس یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ؛ ان واقعات سے اوّل تو یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مستونگ میں داعش خراسان واقعی موجود ہے اور بڑی تعداد میں موجود ہے۔
دوم یہ کہ داعش کی یہ جوابی کارروائی درحقیقت پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کے اشاروں پر تھی، تاکہ بلوچ آزادی پسندوں کو پاکستان کی اس ’’پراکسی پر حملے‘‘ کا سبق سکھایا جا سکے۔
اب حالیہ دنوں میں داعش کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کی خبر اِن حالات میں منظرِ عام پر ’’آئی‘‘ ہے، جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ؛ داعش کے ترجمان کی یہ مضحکہ خیز گرفتاری امریکہ کو یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ پاکستان خطے میں موجود ’’دہشت گردی کی جنگ‘‘ میں اب بھی امریکہ کے اتحادیوں کی صفِ اوّل میں موجود ہے۔
پاکستان کی فوج کے تاریخی کردار کے حوالے سے خصوصی تجربہ رکھنے والے افراد رائے پیش کر رہے ہیں کہ؛ سلطان عزیز عزام کی گرفتاری دراصل دنیا، خصوصاً امریکہ کو یہ ثابت کرنے کی تگ و دو ہے کہ پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ جن میں دیگر سمیت داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری بھی شامل ہے۔
چناںچہ یہی وجہ ہے کہ اس گرفتاری پر پاکستانی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ؛ ’’یہ گرفتاریاں ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جاری کارروائیوں کا حصہ ہیں، جو خطے میں بدامنی اور عدمِ استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔‘‘
تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو فرد پہلے ہی پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناک کے نیچے سرگرم ہے، اس کی گرفتاری کا کیا معنی ہے…؟
ان کا کہنا ہے؛ یہ دیکھنا چاہیے کہ سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کی خبر آج ۱۸ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ہی کیوں منظرِ عام پر آئی ہے؟
اس حوالے سے آج ہی کی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو یہ دل چسپ اتفاق سامنے آتا ہے کہ؛ امارتِ اسلامی افغانستان کی انٹیلی جنس نے ایک خبر نشر کی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ۲۶ نومبر ۲۰۲۵ء کو تاجکستان میں چینی شہریوں پر ہونے والے ڈرون حملے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرلیا ہے، جن سے تفتیش کے دوران یہ واضح ہوا ہے کہ اوّل تو اس ڈرون حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے باہر سے کی گئی تھی اور دوم یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس منصوبہ بندی کی ڈوریں کون ترتیب دے رہا تھا…!
امارتِ اسلامی کی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے یہ خبر جیسے ہی میڈیا پر عام ہوئی تو پاکستان کے انٹیلی جنس اور فوج سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس اچانک اور عجیب (لیکن متوقع طور) سے اس خبر کے حوالے سے دفاعی رویّہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
بتایا جا رہا ہے کہ تاجکستان میں ہونے والے ڈرون حملے کی وجہ سے امارتِ اسلامی افغانستان کے علاوہ چین اور تاجکستان بھی شدید ناراض تھے۔ جب کہ امارتِ اسلامی کی انٹیلی جنس کی جانب سے مذکورہ ڈرون حملے کے ذمہ داران کی گرفتاری سے حاصل ہونے والی معلومات کا سِرا ’’کچھ ڈرے ہوئے لوگوں‘‘ تک پہنچ رہا ہے۔ اور ممکنہ طور پر سلطان عزیز عزام کی گرفتاری خود کو ’’پاک‘‘ دکھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اِنہی حالات میں یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ سلطان عزیز عزام کا نام امریکی محکمہ خارجہ (US State Department) نے سال ۲۰۲۱ء میں خصوصی عالمی دہشت گردوں (SDGT) کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
جب کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
لیکن سب سے اہم انکشاف اقوامِ متحدہ کی اُس رپورٹ میں ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ: ’’پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سلطان عزیز عزام کو مئی ۲۰۲۵ء میں ہی ’’گرفتار‘‘ کر لیا تھا۔‘‘
دوسری جانب کچھ لوگ بجائے دیگر، داعش کو خبردار کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ: ’’آپ پاکستان کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے قربانی کی ایک بکری کے مانند ہیں۔ جب تک فوج کو آپ کی ضرورت ہوگی، وہ آپ کا دودھ دھو کر پیتی رہے گی اور جب اُسے گوشت کھانے کی طلب ہوگی تو وہ آپ ہی کو قربان کردے گی۔‘‘




















































