آج دنیا میں جہاں جدید ترقی اور ٹیکنالوجی اپنے عروج پر پہنچی ہے، وہیں جنگوں کی نوعیت اور شکل بھی مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ دنیا کی بڑی اور استعماری طاقتیں کوشش کر رہی ہیں کہ روایتی جنگوں کے جانی و مالی نقصانات سے خود کو ہر ممکن حد تک محفوظ رکھیں، اور اس کے بجائے ایک اور خطرناک جنگ کی طرف متوجہ ہو جائیں، جو پروپیگنڈے اور ذہنی دباؤ کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔
اس جنگ میں جدید سائنسی ترقی کے تمام جائز و ناجائز ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں، اور اس کا واحد مقصد دشمن کو کمزور کرنا اور مکمل طور پر مٹا دینا ہوتا ہے۔
اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے خلاف کفری طاقتوں کی تاریخی جنگ بھی اب اسی فکری و تبلیغی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، کیونکہ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ کفار ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف براہِ راست میدانِ جنگ میں شکست کھاتے آئے ہیں۔ اسی شکست کا ازالہ کرنے کے لیے انہوں نے جنگ کے اس دوسرے پہلو یعنی سرد اور فکری جنگ کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔
اس جنگ میں کفار اور اسلام دشمن ممالک بھی براہِ راست ملوث ہیں۔ وہ حتی المقدور کوشش کرتے ہیں کہ اپنے تمام تر پروپیگنڈا وسائل، ذرائع ابلاغ، نشریاتی مراکز اور ٹیکنالوجی کے جالوں کو مسلمانوں، بالخصوص مسلم نوجوانوں کو گمراہ کرنے، ان کا حوصلہ توڑنے اور اُن کے دلوں سے یقین ختم کرنے کے لیے استعمال کریں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اسلامی ملکوں کے اندر بھی کچھ نام نہاد اسلامی گروہوں کو جنہیں تاریخ میں خوارج کہا جاتا ہے؛ ایک نئی خفیہ فتنہ انگیزی کے طور پر پروان چڑھایا اور مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
ایسی ہی ایک معاصر جماعت ’’داعشی فتنہ‘‘ ہے، جسے کفری طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے، اسلامی نام اور شعائر کے غلط استعمال کے ذریعے تخلیق کیا۔ اس جماعت نے آج ظلم و وحشت کی ایک سیاہ اور مکروہ تاریخ پیچھے چھوڑی ہے، جس کی نمایاں مثالیں عراق، شام اور کچھ عرصہ افغانستان میں سابقہ جمہوریت کے زیرِ سایہ سامنے آئیں۔
داعش نے ابتدا میں یہ کوشش کی کہ خراسان کے نام پر، بیرونی قابضین اور سابقہ جمہوریت کی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی سے، خود کو ایک طاقتور اور خالص اسلامی گروہ کے طور پر منوائے۔ لیکن امارتِ اسلامی کے مجاہدین کی سخت جدوجہد اور قربانیوں کے بعد وہ ٹکڑوں میں بکھر گئے اور نیست و نابود ہوئے۔ شکست خوردہ اور تباہ حال گروہوں کی ایک واضح خصوصیت یہ ہے کہ وہ مایوسی کے عالم میں نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ کی طرف رخ کرتے ہیں تاکہ اپنے وجود کو طاقتور اور زندہ ظاہر کر سکیں۔
داعش نے افغانستان میں اپنی شرمناک شکست اور مایوسی کے بعد بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا مہم شروع کی، جسے وہ مغربی سرپرستی میں اپنے مخصوص ذرائع ابلاغ اور خبروں کے نیٹ ورکس کے ذریعے چلاتے ہیں۔ اس طرح کے پروپیگنڈے میں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اثر میں لائیں اور خود کو ایک طاقتور قوت کے طور پر پیش کریں۔ مگر حقیقت سے وہ ناآشنا ہیں کہ ان کا یہ خودنمائی پر مبنی شور، دراصل ان کے ظلم، وحشت اور شکست خوردگی کی ایک واضح نشانی ہے۔
یہ گروہ انسانی لاشوں کو مسخ کرنے، جلانے اور سر کاٹنے جیسے سنگین جرائم سے بھی گریز نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ غصہ اور انتقام جو انہیں میدانِ جنگ میں شکست کی صورت میں ملا، کسی نہ کسی شکل میں ظاہر کر سکیں۔
ان کے پروپیگنڈا وسائل میں ویڈیوز، میگزین، نشریاتی ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شامل ہیں، جن پر وہ نہایت سنجیدگی اور وسعت کے ساتھ اپنے خیالات پھیلاتے ہیں۔ یہ خود کو طاقتور، اسلام کے وارث اور ایک حاکم تحریک کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ اپنی جدوجہد کو جائز اور اسلامی ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیات، احادیث اور فقہی مسائل کی تحریف کرتے ہیں تاکہ عام مسلمانوں کو دھوکہ دیں اور اپنی صفوں میں شامل کریں۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے آن لائن میڈیا چینلز اور سوشل نیٹ ورکس کے پتے کسی سے پوشیدہ نہیں، اور یہ بھی واضح ہے کہ ان کے بانی، سرپرست اور پروگرام ڈیزائن کرنے والے کون ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک نہ تو ان کے پلیٹ فارمز ہیک کیے گئے، نہ بند کیے گئے، بلکہ روز بروز مزید پیشرفت کے ساتھ فعال ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ خود اس بات کا بڑا ثبوت ہے کہ داعشی عناصر استعماری قوتوں کے ہاتھ میں آلہ ہیں؛ فکری اور سرد جنگ کے میدان میں ایک ایسا روبوٹ، جسے اسلامی شناخت کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان داخل کیا گیا ہے۔
داعش کے لسانی اور بصری پیغامات کئی زبانوی اور مواد کی کمزوریوں، تحریفات اور تضادات سے بھرے ہوتے ہیں۔ اکثر ان میں ترجمے کا گمان ہوتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اصل مواد شاید اُن کے آقاؤں کی زبان میں تیار ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ اسلامی اقدار سے گہری وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں، حقیقت میں وہ صرف ایک آلہ کار ہیں۔ دین اور اسلامی شعائر کے حوالے سے افغان عوام کا دینی شعور اور سیاسی بیداری اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ عام لوگ بھی اصلی اور جعلی مجاہدوں میں فرق کر سکتے ہیں۔ امارتِ اسلامی کا گزشتہ چار سالہ اقتدار اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ صرف یہی نظام حقیقی اسلام اور شرعی حکومت کی درست نمائندگی کر سکتا ہے۔
داعش نے بارہا کوشش کی کہ اسلامی خلافت کے نام کی نفسیاتی کشش سے فائدہ اٹھائے، اور نوجوانوں، خصوصاً نو عمر نوجوانوں کو اپنے پروپیگنڈے، خیالی فضائل اور جھوٹے دعوؤں سے متاثر کرکے اپنی صفوں میں شامل کرے، اور بعد ازاں انہیں استعماری مقاصد کے لیے بے دردی سے استعمال کرے۔ انہوں نے بعض سادہ لوح اور کم تجربہ نوجوانوں کے پاکیزہ اسلامی جذبات سے بھی ناجائز فائدہ اٹھایا، انہیں خلافت کے عظیم خواب، شہادت، جنت اور دنیاوی آسائشوں کا جھانسہ دیا، اور ڈالرز میں اعلیٰ تنخواہوں کا وعدہ کر کے اپنی طرف مائل کیا۔ ان میں سے بیشتر نے بعد میں پچھتاوے کا اظہار کیا اور ان کے خاندانوں نے بھی ان کی اس غلطی کا ادراک کر لیا۔
دوسری جانب، انہوں نے ان نوجوانوں، خواتین، بوڑھوں اور بزرگوں کو نشانہ بنایا جو ان کی گمراہ دعوت کو مسترد کرتے ہیں یا ان کے منحرف راستے سے انکار کرتے ہیں۔ ان افراد کو قتل، قید اور لاپتہ کیے جانے کی دھمکیاں دی گئیں، جو ان کے نام نہاد ’’اسلامی اخلاق‘‘ اور ’’خلافت کے سپاہی‘‘ ہونے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ یہ سب اہلِ عقل و ضمیر مسلمانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اس کفری استعماری فتنہ کو پہچانیں، اور اس شکست خوردہ شیطانی گروہ کے جال سے نکل کر حقیقی اسلام کی پناہ میں آئیں۔




















































