پاکستانی رجیم کی طرف سے دینی اقدار اور اپنی خواہش کے مطابق بنائے گئے مدارس کے ساتھ سیاسی سودے بازی کوئی نئی بات نہیں۔ اس ملک کے فوجی حکمرانوں اور سویلین حکومتوں کو ہٹانے والے آمروں نے اپنے اقتدار کی بقا، ذاتی مفادات اور عالمی ظالموں کے ساتھ ڈیل کے لیے ہمیشہ دین کا بھی ناجائز استعمال کیا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مفتی اور مدرسے بناتے ہیں، پھر انہیں اپنی سیکولر سوچ اور سیاست کو دینی رنگ دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال جامعۃ الرشید کے نام نہاد مفتیوں کی طرف سے ان فوجی افسران کی تعریف ہے جن کے ہاتھ اپنی ہی قوم اور ہزاروں بے گناہ شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جو دن رات عالمی طاقتوں کی دہشت گردی، داعشی خوارج اور دیگر فتنوں کے لیے غیر ملکیوں کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم کی پوری تاریخ اسلام مخالف جرائم سے بھری پڑی ہے جو بدقسمتی سے بار بار دہرائی جاتی ہے اور پاکستان کے مسلمان عوام کے ماتھے پر سیاہ داغ بن چکی ہے۔ ان جرائم میں لال مسجد کی شہادت، جامعہ حفصہ میں قتلِ عام، دینی علماء کا خفیہ اور اعلانیہ قتل، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بیچنا، تحریک لبیک کے کارکنوں کا قتل، اور فلسطین کی جاری جدوجہد میں یہودی رجیم کی حمایت شامل ہیں۔ ان پر آنکھیں بند کرنا کبیرہ گناہ سے کم نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم جیسے فوج کے ایجنٹ اور جعلی مفتی اس فوج کو “اسلامی فوج” کہتے ہیں، قرآن و حدیث کا سودا کرتے ہیں اور فتویٰ دیتے ہیں کہ اس نام نہاد اسلامی فوج سے لڑنا جائز نہیں۔ جامعۃ الرشید کے ایجنٹ مفتیوں نے تو امارت اسلامیہ افغانستان کے بارے میں بھی زبان درازی کی اور فوج اور اسلام آباد رجیم کی ہدایت پر پاکستانی عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی کہ وہ اسلامی نظام نہیں، پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار اور ٹی ٹی پی کی حامی ہے۔ لیکن کتوں کے بھونکنے سے قافلے رکا نہیں کرتے۔ امارت اسلامیہ ایک پاکیزہ اسلامی نظام کی حیثیت سے پوری دنیا میں چمک رہی ہے، اس نے عملی طور پر اسلامی نظام لا کر افغانستان میں مکمل امن قائم کیا اور نصف صدی سے جاری جنگ ختم کر دی۔
اب پاکستان اپنے برے اعمال کا پھل خود چکھ رہا ہے۔ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ اور فوج کے اندر موجود اقتدار کے لالچی گروہوں کے ظلم و زیادتی کا نتیجہ ہے جو خیبر پختونخوا اور دیگر غیر پنجابی علاقوں پر مسلط کیا گیا۔ مفتی عبدالرحیم کے جھوٹ اور خیانت کا بھی طویل ریکارڈ ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ افغانستان جا کر پھر لوگوں کو دھوکہ دے دے گا، لیکن امارت اسلامیہ سیاہ و سفید، حقیقی علماء اور آئی ایس آئی کے بنائے ہوئے جعلی مفتیوں کو اچھی طرح پہچانتی ہے، اسی لیے اسے اس کی اصل اوقات دکھا کر واپس بھیج دیا گیا۔ شاید یہی بے عزتی ہی وجہ ہے کہ اب جامعۃ الرشید اور اس کے مفتی فوج کے ترجمان بن کر امارت اسلامیہ کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، مگر ان شاء اللہ اس کا نقصان خود ان ایمان فروشوں اور اسلام آباد کی قاتل فوج کو پہنچے گا۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پاکستانی رجیم عوامی اور جمہوری مشروعیت سے بالکل محروم ہے۔ سابق وزیراعظم اپنی پوری کابینہ اور پارٹی قیادت سمیت ناحق جیل میں ہے، آرمی چیف نے اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے اپنا اقتدار وزیراعظم اور صدر سے بھی بلند کر لیا، جس پر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے متعدد اراکین نے استعفے دے دیے، لیکن فوج کے کنٹرول میں میڈیا اس پر پردہ ڈال رہا ہے۔ پھر بھی ایمان فروش درباری علماء انہیں دین کے نام پر مشروعیت کی چادر اوڑھا رہے ہیں۔
یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اسرائیل سمیت تمام اسلام دشمن طاقتوں سے تعلقات قائم کیے اور امریکی صدر کی چاپلوسی کا ریکارڈ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کرائے کی فوج کو اسلامی یا قومی فوج سمجھا جائے۔ یہ دراصل ایک ایجنٹ فورس اور کرائے کے قاتلوں کا گروہ ہے جس میں درحقیقت عام فوجی قربانی کا بکرا بنتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جامعۃ الرشید اور اس کے مفتی ایک ایسے نظام کی تعریف کر رہے ہیں جس نے دنیا بھر کے یہودیوں سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، سینکڑوں علمائے حق کو قتل کیا، بدنام کیا اور عالمی طاقتوں کے ہاتھ بیچ ڈالا، وہ فوج جس پر خیبر پختونخوا میں سینکڑوں مساجد، مدارس، مکاتب اور عام شہریوں کے قتل کا گناہ ہے، جو مساجد میں کتے چھوڑتی ہے اور قرآن کریم کے نسخوں کو اپنے ناپاک بوٹوں سے روندتی ہے۔
انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ حق پرست مسلمان اور پاکستانی عوام کبھی ان درباری مفتیوں اور چند مدارس کی چاپلوسی سے دھوکہ نہیں کھاتے، نہ ہی وہ جعلی قومی لیڈر جو اپنی گلی محلوں میں بھی نہیں پہچانے جاتے اور فوج کی پشت پناہی میں امارت اسلامیہ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں، پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ امارت اسلامیہ اہلِ حق علماء پر مبنی شرعی نظام ہے، جو عوام میں گہرا نفوذ رکھتا ہے اور ایمان فروشوں کے پروپیگنڈے کبھی اسے کمزور نہیں کر سکیں گے۔




















































