پاکستان کا نظام کیسا ہے، اس میں کتنی خامیاں ہیں، اس کا حکومتی ڈھانچہ کس حد تک حاکم اور بااختیار ہے وغیرہ, اس سب کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے اور اس کی بہت سی خامیاں گنوائی جا سکتی ہیں۔ لیکن اسی پاکستان میں، جس کا نظام کمزوریوں اور خامیوں سے بھرا ہوا ہے، ایک ایسا ادارہ بھی موجود ہے جس سے زیادہ کامیاب ادارہ شاید پوری دنیا میں نہ مل سکے، اور وہ فوجی ادارہ ہے۔
پاکستان کے نظام کے الف سے یا تک کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں اس ادارے کی مداخلت نہ ہو۔ پورے ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں جو مقررہ حدود سے آگے بڑھ کر اس فوجی ادارے پر تنقید کر سکے۔ بات یہ ہے کہ فوج پر تنقید کرنے والے بہت ہیں، لیکن انہیں بھی صرف اسی حد تک تنقید کی اجازت دی گئی ہے جسے یہ ادارہ خود برداشت کر سکتا ہے، وہ بھی اس لیے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فوج پر کسی بھی قسم کی تنقید نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان کی تاریخ نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ جب بھی کسی شخص نے، خواہ وہ کسی بھی شعبے اور کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتا ہو، فوجی ادارے پر ایسی تنقید کی جو اس کی مقررہ حدود سے تجاوز کرتی ہو، تو اسے اس طرح خاموش کر دیا گیا کہ بعد میں نہ صرف وہ، بلکہ اس سے دور و نزدیک وابستہ لوگ بھی دوبارہ ایسی تنقید کی جرأت نہیں کرتے اور اس حد کے قریب جانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے یہ ادارہ ایک انتہائی کامیاب ادارہ ہے۔
لہٰذا اگر اپنی طاقت، اثر و رسوخ اور بالادستی برقرار رکھنے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ادارہ ایک بے مثال کامیاب ادارہ ہے۔ کچھ لوگ شاید کہیں کہ ہم یہ بات کیسے مان لیں کہ یہ ایک کامیاب ادارہ ہے، حالانکہ انگریزوں کی غلامی اور تابع داری سب پر عیاں ہے اور اس حوالے سے اس پر بہت سی تنقیدیں بھی کی جاتی ہیں؟
لیکن ان لوگوں کے یہ اعتراضات اسی وقت قابلِ قبول اور قابلِ سماعت ہیں جب پہلے کوئی یہ ثابت کرے کہ گویا یہ ادارہ مسلمانوں کا ادارہ ہے، مسلمانوں نے اس کی بنیاد رکھی ہے یا یہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع کے لیے بنایا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، یہ ابتدا ہی سے انگریزوں کا بنایا ہوا ادارہ ہے، اس کی بنیاد انگریزوں نے رکھی، اس کے پہلے سربراہ اور حکمران بھی انگریز تھے اور ادارے کا مجموعی ڈھانچہ بھی انگریزوں کے طرز اور خاکے پر قائم ہے۔
ذرا غور کریں! کیا صرف لباس اور یونیفارم بدلنے سے کسی ادارے کی بنیاد اور ماہیت تبدیل ہو سکتی ہے؟ جو فوج ’’رائل انڈین آرمی‘‘ (Royal Indian Army) کے نام سے انگریزوں کی فوج کا حصہ تھی، ہندوستان کی تقسیم کے بعد اسی فوج کو صرف پاکستانی لباس پہنا دیا گیا، تو کیا صرف اس تبدیلی کی بنیاد پر ہم اس فوج کو مسلمانوں کی فوج کہہ سکتے ہیں؟
پھر ہندوستان کی تقسیم کے بعد، ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء تک اسی فوج کی قیادت بھی انگریزوں کے ہاتھ میں تھی:
۱۔ جنرل سر فرینک میسروی (General Sir Frank Messervy): ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء سے ۱۰ فروری ۱۹۴۸ء تک۔
۲۔ جنرل سر ڈگلس گریسی (General Sir Douglas Gracey): ۱۱ فروری ۱۹۴۸ء سے ۱۶ جنوری ۱۹۵۱ء تک۔
تو جس فوج کے سربراہ اس مدت تک انگریز رہے ہوں، اس فوج کو اسلامی اور مسلمانوں کی فوج کیسے کہا جا سکتا ہے؟
آئیے، ان سب کے باوجود یہ بھی مان لیتے ہیں کہ یہ فوج اسلامی فوج ہے، لیکن پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ اب تک اس فوج نے مسلمانوں کو نقصان اور تکلیفیں تو پہنچائی ہیں، لیکن فائدہ کیا پہنچایا ہے؟ کیوں؟ مسلمانوں کی فوج تو ایسی نہیں ہوتی۔
اس سے واضح ہو گیا کہ یہ فوجی ادارہ دراصل انگریزوں کا ادارہ اور ان کے مفادات کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے۔ اس میدان میں یہ ادارہ مکمل کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے اور انگریزوں کے ساتھ اپنی مضبوط وفاداری کا زبردست ثبوت پیش کر رہا ہے۔ شاید انگریزوں کی تاریخ میں ان کا اتنا بڑا وفادار کوئی اور نہ ملے جتنا یہ فوج ہے۔
یہ بلا وجہ نہیں ہے کہ اس ادارے کو اتنی زیادہ مراعات دی گئی ہیں۔ پوری دنیا میں شاید کسی ملک کے فوجی ادارے کو اتنے وسیع اختیارات نہیں دیے گئے ہوں گے جتنے اس فوجی ادارے کو حاصل ہیں۔ یہ بھی بلا وجہ نہیں ہے کہ اس فوج کی جوہری طاقت بھی تسلیم کی گئی ہے، اس میں ضرور کوئی راز ہے! صرف ایک راز نہیں، بلکہ پوری کہانی ابتدا سے انتہا تک مشکوک ہے!
ذرا غور کریں: جس فوج کو بھارت کے خلاف F-16 طیارے استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو، کیا وہ فوج بھارت کے خلاف جوہری طاقت استعمال کرنے کا اختیار رکھ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں!
تو پھر، اس استدلال کی بنیاد پر یہ جوہری طاقت بھارت کے خلاف اس ادارے کو نہیں دی گئی، بلکہ انگریزوں کی حفاظت اور مسلمانوں کو کچلنے کے لیے دی گئی ہے۔
مختصراً، جب تک یہ فوجی ادارہ اس ملک پر مسلط ہے، اس وقت تک اس ملک میں امن کا خواب دیکھنا بھی بے فائدہ ہے، بلکہ یہ صورتِ حال پورے اسلامی خطے کے لیے نقصان کا باعث ہے۔
آج پوری دنیا کے واحد اسلامی نظام، امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف بھی یہی ادارہ سر درد بن کر کھڑا ہے۔ یہی وہ فوج ہے جسے تمام خرابیوں کی جڑ قرار دیا جاتا ہے۔ جب تک اس ادارے کو اقتدار سے نہ ہٹایا جائے، اس وقت تک بدامنی اسی طرح جاری رہے گی، وما علینا الا البلاغ۔



















































