جنگ سے پہلے قریش کی سیاسی چالیں:
اگرچہ قریش کی تعداد مسلمانوں کے لشکر سے زیادہ تھی، لیکن اس کے باوجود وہ مطمئن نہیں تھے اور اپنی فتح کے بارے میں بدگمانی میں مبتلا تھے۔ چنانچہ انہوں نے کوشش کی کہ مسلمانوں کی صفوں میں رخنہ ڈالیں۔ انہوں نے انصار کو پیغام بھیجا کہ ’’ہمارا تم سے کوئی جھگڑا نہیں، ہمیں اور ہمارے چچا زاد (رسول اللہ ﷺ) کو آپس میں لڑنے دو۔‘‘ مگر انصار کے پُختہ عزم اور مضبوط ایمان کے سامنے یہ مکّارانہ کوشش کہاں کامیاب ہو سکتی تھی!
انصار نے قریش کی امیدوں کے بالکل برعکس جواب بھیجا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنی پختہ حمایت کا اعلان کیا۔
قریش نے ایک اور حربہ بھی آزمایا۔ قبیلہ اوس کا ایک سابق سردار اور راہب، جو اسلام دشمنی کی وجہ سے مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تھا، اس نے قریش کو کہا تھا کہ ’’اوسی لوگ مجھے دیکھتے ہی میرا کہنا مان لیں گے۔‘‘ چنانچہ وہ جنگ کے میدان میں آگے بڑھا اور پکار کر بولا: ’’میں ابو عامر ہوں!‘‘
اس کا مقصد یہ تھا کہ اوس کے لوگ اس کی طرف لپک آئیں۔ مگر اوس والوں نے ایسا جواب دیا کہ اس کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں۔ انہوں نے کہا: ’’تیری مراد کبھی پوری نہ ہو، اے فاسق!‘‘
اس کے بعد ابو عامر نے اپنے ہی قبیلے کے مقابلے میں محاذ سنبھالا اور سخت جنگ میں مشغول ہوگیا۔
دو بدو مقابلہ:
دونوں لشکر صف آرا تھے، تلواریں نیاموں سے نکل چکی تھیں اور تیر کمانوں پر چڑھائے جا چکے تھے۔ اس دوران مشرکین میں سے ایک شخص— طلحہ بن ابی طلحہ العبدرِی— لڑائی کے لیے آگے بڑھا اور مبارزت کا اعلان کیا۔ مسلمانوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ مقابلے کے لیے نکلے، آگے بڑھے اور مقابلے میں اسے قتل کر دیا۔ یوں اس کا تکبّر بھی اس کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ عمومی جنگ شروع ہونے سے پہلے انفرادی لڑائی میں مشرکین کے کئی نامی گرامی افراد مارے گئے۔
عمومی جنگ کا آغاز:
اس انفرادی لڑائی نے مشرکین کے جذبات کو مزید بھڑکا دیا، انتقام کی آگ ان کے دلوں میں اور تیز ہوگئی، چنانچہ انہوں نے پوری قوت سے عام حملے کا حکم دے دیا۔ یوں عمومی جنگ چھِڑ گئی۔ تین ہزار کا لشکر سات سو کے مقابلے میں تلواریں سونت کر جھپٹا۔ مشرکین نے مسلمانوں پر بھرپور حملہ کیا۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور تلواروں کی جھنکار ایک ساتھ گونج رہی تھی۔ انتقام سے لبریز سینے، بھیڑیوں کی طرح مسلمانوں کی صفوں کی طرف لپکے، مگر اسلامی لشکر کی صفیں ٹوٹیں، نہ ہی منتشر ہوئیں۔
دونوں فوجیں ایک دوسرے میں گتھم گتھا تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تاریخِ اسلام اس منظر کا مشاہدہ کر رہی ہے؛ گویا ان لمحات میں مجاہدین کی شجاعت رقم ہو رہی ہو اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن رہی ہو۔
جنگ شدت اختیار کر گئی۔ مشرک عورتیں اشعار پڑھتی ہوئی مردوں کو بھڑکا رہی تھیں۔ ان عورتوں میں سرکردہ ہند بنت عتبہ تھی، جس کے خاندان کے کئی افراد بدر میں مارے گئے تھے۔ وہ پورے زور و شور سے جنگ کا رخ بدلنے اور بدر کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔
جنگ ہر سمت سے جاری تھی، لیکن جس کے ہاتھ میں جھنڈا ہوتا، اس کے گرد معرکہ سب سے زیادہ شدید ہوتا؛ کیونکہ اس زمانے میں جب بھی لشکر کا پرچم زمین پر گرتا، اسے شکست کی ابتدا سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ علم بردار اپنی جانیں قربان کر دیتے مگر پرچم کو گرنے نہیں دیتے۔
انفرادی لڑائی کے نتیجے میں بنو عبدالدّار خاندان کے دس آدمی قتل ہو گئے۔ اس کے بعد ایک غلام ’’صواب‘‘ نے جھنڈا اٹھایا۔ اس نے کافی دیر تک پرچم اونچا رکھا، مگر کچھ ہی دیر بعد اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے گئے اور پرچم زمین پر گر پڑا۔ اس کے ساتھ ہی مشرکین کے لشکر کی کمر ٹوٹ گئی؛ مرد اور عورتیں سب ایمان کی قوت کے سامنے پست ہو کر میدان چھوڑنے لگے، جیسے بدر کا منظر ایک بار پھر لوٹ آیا ہو۔
یہ غزوے کا پہلا مرحلہ تھا، جس میں فتح مسلمانوں کا مقدر بنی۔ مشرکین کے تمام علم بردار ایک کے بعد ایک مارے گئے۔ نہ عورتوں کے جوش دلانے والے اشعار کوئی کام آئے، نہ بنو عبدالدّار کا سخت مقابلہ۔
لیکن اس غزوہ کا دوسرا مرحلہ کچھ ایسا تھا کہ پلڑا مشرکین کی طرف جھک گیا اور بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ اس مرحلے کی تفصیل آئندہ تحریر میں بیان کی جائے گی، إن شاء اللہ۔




















































