1947 سے لے کر اب تک، پاکستان نے مختلف اقوام کو ملا کر ایک متحدہ قوم بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش زیادہ تر فوج اور حکمران اشرافیہ کی جانب سے جبر، فوجی تسلط اور سیاسی بالادستی پر مبنی رہی ہے۔ اس مرکزی پالیسی کا سب سے بھاری نقصان بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور دیگر محکوم قوموں کو اٹھانا پڑا ہے۔
پاکستان اب ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جن کا نام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں، منظم مظالم اور اندرونی استبداد سے منسلک ہے۔ محکوم قوموں پر تشدد، ثقافتی یلغار اور معاشی استحصال کی پالیسیوں نے نہ صرف ان کے تشخص، آزادی اور ترقی کی راہ روکی، بلکہ پاکستان کے لیے گہرا اندرونی عدم استحکام بھی پیدا کیا۔
خاص طور پر، بلوچستان اور پشتون علاقے فوج کی جانب سے عسکری آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدگیوں کی وجہ سے شدید انسانی بحران سے دوچار ہیں۔ یہ تحریر ان مظالم کا مختصر تجزیہ ہے اور عوام کو حق کے لیے جدوجہد کی دعوت دیتی ہے۔
*بلوچستان میں جاری فوجی مظالم:*
2000 کی دہائی سے بلوچستان پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے سخت عسکری تسلط کے زیر اثر ہے۔ ہزاروں سیاسی کارکن، سول سوسائٹی کے ارکان، طلبہ اور عام شہریوں کو "ریاست مخالفت” کے الزام میں گرفتار کیا گیا، ہراساں کیا گیا اور "جبری طور پر غائب” کیا گیا۔ متعدد لاشیں تشدد کے بعد عوامی مقامات پر پھینکی گئیں، جو نہ صرف خوف پھیلانے کا ایک طریقہ ہے، بلکہ عوام کی جائز آواز کو دبانے کے لیے ایک منظم مہم سمجھی جاتی ہے۔
یہ صورتحال انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، لیکن بدقسمتی سے نہ پاکستان کا عدالتی نظام اور نہ ہی عالمی دباؤ ان جرائم کو روک سکا۔ قدرتی وسائل کا استحصال، معاشی محرومی اور ثقافتی یلغار کے ساتھ مل کر، یہ مظالم بلوچ عوام کے لیے مزاحمت کا واضح جواز بن گئے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلح اور سول مزاحمت دونوں جاری ہیں، جو استعمار کے خلاف ایک واضح ردعمل ہے۔
*پشتون علاقوں کو دہشت گردی کے نام پر کچلنا:*
2004 سے، فاٹا، وزیرستان، باجوڑ، خیبر، سوات اور دیگر پشتون علاقے پاکستانی فوج کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر سخت فوجی آپریشنز کا میدان بنے ہوئے ہیں۔ یہ آپریشنز، جو بظاہر سکیورٹی کے قیام کے لیے کیے جاتے ہیں، عملی طور پر عام شہریوں کے خلاف جنگ ہیں۔ ہزاروں بے گناہ افراد ہلاک، لاکھوں گھر تباہ، اور ہزاروں لوگ جبراً اپنے علاقوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ، اکثر اوقات ان دہشت گرد عناصر (مثلاً داعش) کے خلاف نہیں لڑی گئی جنہیں ریاستی سرپرستی حاصل ہے، بلکہ متاثرہ عوام سے قربانی لی گئی۔ فضائی بمباری، آرٹیلری سے بمباری، قید خانوں، چیک پوسٹوں، دہشت گردی کے الزامات اور ماورائے عدالت قتل سے لے کر نفسیاتی دباؤ تک، ہر چیز نے عوام کے ذہنوں پر خوف کے پہرے بٹھا رکھے ہیں۔ یہ صورتحال نہ سکیورٹی کی علامت ہے، نہ امن کی کوشش، بلکہ ایک خطے کی منظم سرکوبی کی کوشش ہے۔
*جبری گمشدگیوں کا سلسلہ:*
پاکستان میں جبری گمشدگی ایک عام اور منظم رجحان بن چکی ہے، جس کا خاص ہدف بلوچستان اور پشتون علاقے ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں بغیر عدالتی یا قانونی عمل کے لوگوں کو گرفتار کرتی ہیں، قید کرتی ہیں اور انہیں خاندانوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سے چھپاتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ انسانی وقار کی کھلی توہین بھی ہے۔ بہت سے گمشدہ افراد بعد میں تشدد کے نشانات کے ساتھ مردہ پائے جاتے ہیں، یا پھر ہمیشہ کے لیے لاپتہ رہتے ہیں۔
عالمی اداروں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے جبری گمشدگیوں پر ورکنگ گروپ نے ان اقدامات کو "جرائم” قرار دیا اور پاکستان پر روکنے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جبری گمشدگیوں کا مقصد عوام کو خوفزدہ رکھنا، مزاحمتی آوازوں کو دبانا اور سیاسی عدم استحکام کے ذریعے اپنا تسلط بڑھانا ہے۔ یہ سلسلہ ایک منظم ظلم کی شکل میں ہے، جو نہ صرف قانون کے دائرے سے باہر ہے، بلکہ انسانیت کے دائرے سے بھی باہر ہے۔
*معاشی استحصال:*
بلوچستان، جو پاکستان کے سب سے زیادہ قدرتی وسائل جیسے گیس، سونا، کرومایٹ، کوئلہ وغیرہ سے مالا مال ہے، وہاں کے لوگ غربت، ناخواندگی، صحت کی سہولیات کی کمی اور بے روزگاری کے بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ یہ وسائل مرکزی حکومت اور پنجاب کی نجی کمپنیوں کے ذریعے نکالے جاتے ہیں، لیکن اس کی آمدنی یا تو فوج کو جاتی ہے یا حکمران طبقات کی جیبوں میں۔ مقامی عوام کو نہ ملکیت کا حق دیا گیا، نہ منافع میں شراکت، اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کی گئیں۔
اس قسم کا استحصال صرف معاشی ناانصافی نہیں، بلکہ ایک قوم کی صلاحیتوں کو سلب کرنے کا عمل ہے۔ جب ایک قوم کو اس کے قدرتی حقوق، وسائل اور دولت سے محروم کیا جاتا ہے، تو یہ حالت معاشی غلامی کی سب سے واضح شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی استحصال سیاسی بے اختیاری اور سماجی بدامنی کا بنیادی محرک بن چکا ہے۔
*شناخت کا قتل اور ثقافتی استعمار:*
پاکستان میں بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور دیگر محکوم قوموں کی زبان، تاریخ، ادب اور ثقافتی اقدار کو سرکاری اداروں، تعلیمی نصاب اور ریاستی میڈیا میں یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا یا مسخ کیا گیا۔ تعلیمی نظام صرف پنجاب کے حکمران قوم کی تاریخی اور سیاسی روایات کو پیش کرتا ہے اور دیگر قوموں کی جدوجہد، تہذیب اور کردار کا ذکر یا تو نہیں ہوتا یا منفی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ پالیسی ثقافتی استعمار کی ایک نرم لیکن گہری شکل ہے۔ جب ایک قوم اپنی شناخت، زبان اور تاریخ سے ناواقف ہو جاتی ہے، تو اس کا سیاسی شعور، سماجی فخر اور حق مانگنے کی جرات بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی کوششیں جو قوموں کو ان کی حقیقی شناخت، ثقافتی افتخار اور تاریخی ورثے سے جدا کرتی ہیں، حکمرانوں کے لیے تسلط کو قائم رکھنے کی ضمانت دیتی ہیں، لیکن محکوم قوموں کی شناخت کے قتل کے لیے خطرناک قدم سمجھی جاتی ہیں۔
*مسلح اور سول جدوجہد:*
پاکستان کی جانب سے محکوم قوموں پر منظم مظالم، شناخت کے قتل اور معاشی استحصال کے خلاف، اب قومیں مزاحمت کی مختلف شکلیں اپنا رہی ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرست گروہ جیسے بی ایل ایف اور بی آر اے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد آزادی، علاقائی اختیار اور انصاف کا حصول ہے۔ اس کے باوجود، وہاں سول آوازیں بھی موجود ہیں جو انسانی حقوق، ثقافتی شناخت اور سیاسی شراکت کا مطالبہ کرتی ہیں۔
*فوج کا "مقدس” بت ٹوٹ رہا ہے:*
طویل عرصے سے فوج نے خود کو "قوم کا محافظ”کے طور پر پیش کیا، لیکن اب عوام سمجھ چکے ہیں کہ فوج نے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی استعمار کو فروغ دیا ہے۔ بلوچستان، پشتون علاقوں اور حتیٰ کہ سندھ میں، لوگ فوج کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
*قوم سازی کا ناکام منصوبہ:*
پاکستانی نظام نے مختلف قوموں کو اسلام کے نام پر متحد رکھنے کی کوشش کی، لیکن اس کی بجائے قومی تعصب، زور اور ناانصافی کا ماحول پیدا کیا۔ قوم سازی کی ناکامی اب تقسیم کے خطرے تک پہنچ چکی ہے۔
*عالمی خاموشی:*
عالمی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں، جغرافیائی اہمیت اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں۔ یہ خاموشی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم کو مزید حوصلہ دیتی ہے اور قربانیوں کی تعداد بڑھاتی ہے۔
*مظالم کے تسلسل کی بنیادی وجوہات:*
پاکستان میں مظالم اور استبداد کا تسلسل زیادہ تر فوج کے غالب کردار کا نتیجہ ہے۔ فوج خود کو ریاست کا اصل حکمران سمجھتی ہے، اس طرح کہ سیاسی اقتدار، عدالتی نظام، تعلیمی نصاب اور میڈیا اس کے براہ راست یا بالواسطہ اثر و رسوخ کے تحت ہیں۔ اس ڈھانچے میں عوام کے جائز مطالبات کو سکیورٹی کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو حق، انصاف یا خود مختار شناخت کی بات کرتا ہے، اسے "ریاست کا دشمن” سمجھا جاتا ہے۔
قوم پرست آوازوں کے خلاف جبر کا رویہ اس لیے ہے کہ فکری آزادی، قومی شناخت اور سیاسی شراکت کی راہ روکی جائے۔ فوج تنقید، احتساب اور عوامی دباؤ کی بجائے خوف، خاموشی اور کنٹرول کا ماحول پروان چڑھاتی ہے۔ یہی بنیادی حالت مظالم کےسلسلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
*شعوری مزاحمت کی ضرورت:*
پاکستان کی فوج اور حکمران نظام کی جانب سے محکوم قوموں جیسے بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور دیگر قوموں پر منظم مظالم، معاشی استحصال، جبری گمشدگیاں، ثقافتی استعمار اور سیاسی سرکوبی، صرف اقتدار کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں، نہ کہ قوم سازی کی پالیسی۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہے، بلکہ قوموں کی حقوق کی جنگ کو بھی جواز فراہم کرتی ہے۔
اسی بنیاد پر، ان قوموں کو اب مظلومیت کی حالت سے نکلنا چاہیے، اپنے حقوق کو پہچاننا چاہیے، اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہیے اور اپنے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے سول، سیاسی اور فکری جدوجہد میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ جدوجہد شعور، اتحاد، ثقافتی افتخار اور نظریاتی سوچ پر مبنی ہونی چاہیے۔ صرف وہی قومیں اپنا مقدر بدل سکتی ہیں جو ظلم کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، اپنا حق مانگتی ہیں اور اجازت نہیں دیتی کہ کوئی غیر ان کی شناخت، معیشت اور مستقبل پر قبضہ کریں۔
اب انتظار کا وقت نہیں، بلکہ عمل کا وقت ہے، بیداری، مزاحمت اور آزاد، باوقار زندگی کے مطالبے کا وقت۔




















































