پاکستانی فوج کے قیام کے ساتھ ہی اس کی مالی اعانت اور آمدنی کے اہم ذرائع کے طور پر نیابتی جنگوں، جاسوسی اور دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کو اختیار کیا گیا۔ افغانستان اور سوویت یونین کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج مضبوط ہوئی، اور بعد ازاں امریکہ اور افغانستان کی جنگ کے زمانے میں بھی اسے رسد کے راستوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔
پاکستانی جرنیلوں کے نزدیک اگر خطے میں، خصوصاً ہمسایہ ممالک میں، بدامنی نہ ہو تو انہیں معاشی مشکلات بلکہ زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب پاکستانی جرنیل پہلے بنگلہ دیش اور بعد ازاں کشمیر کی بدامنی سے حاصل ہونے والے فوائد اور آمدنی سے محروم ہو گئے تو انہوں نے افغانستان کا رخ کیا۔ تقریباً چالیس برس تک انہوں نے افغانستان کی بدامنی سے وسیع فوائد حاصل کیے اور انہی حالات کی بدولت ایٹمی ہتھیاروں کے مالک بھی بن گئے۔
تاہم تقریباً پانچ برس سے ان جرنیلوں کا یہ کاروبار ٹھپ پڑا ہوا ہے، کیونکہ چالیس برس بعد افغانستان باخبر اور باشعور حکمرانوں کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ افغانستان کے موجودہ حکمران پاکستانی جرنیلوں کی ہر چال اور فریب سے آگاہ ہیں اور ان کی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
پاکستانی جرنیل اب ایک جھوٹی امید کے سہارے بدامنی کے نئے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ داعش کے نام سے قائم کی گئی اس منصوبہ بندی کی طرف دنیا کی توجہ مبذول ہوگی اور شاید ایک مرتبہ پھر انہیں بعض مالی امدادیں اور مراعات حاصل ہو جائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے سابق جمہوری نظام کے بعض سابق اربکیوں اور ان کے کرتا دھرتاؤں کو جنوبی پختونخوا اور بلوچستان میں دوبارہ جمع کیا گیا ہے اور انہیں منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ خطے میں ایک بار پھر بدامنی پیدا کی جا سکے۔ تاہم پاکستانی جرنیلوں کا یہ منصوبہ ناکامی کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ افغان حکمران اس سے پوری طرح باخبر ہیں۔ ان عناصر کے منظم ہونے یا افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کی سرگرمیاں آغاز ہی میں ناکام بنا دی جاتی ہیں۔
اسی طرح افغان عوام اور بلوچستان و خیبر پختونخوا کے باشندے بھی اب پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہو چکے ہیں اور نہیں چاہتے کہ پاکستانی جرنیلوں کا یہ کاروبار ان کے علاقوں میں مزید جاری رہے۔ پاکستانی جرنیل کوشش کر رہے ہیں کہ انہی شرپسند عناصر (داعش اور سابق جمہوری اربکیوں) کو پشتون علاقوں میں برقرار رکھا جائے، لیکن انہیں مقامی آبادی کی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلوچستان کے پشین اور کچلاغ کے باشندوں نے اسی مسئلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے کھلے الفاظ میں کہا کہ ان افراد کی موجودگی اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
پاکستانی جرنیلوں کا برسوں پرانا اور اب ٹھپ پڑا کاروبار، اپنی اس آخری جھوٹی امید سے بھی محروم ہونے کے قریب ہے۔ ایک طرف افغانستان کی موجودہ حکومت ان سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس قسم کے منصوبوں اور مذموم سازشوں کے مقابل خاموش نہیں رہے گی، بلکہ ان کے عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی انہیں ناکام بنانے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان کی سرزمین دوسرے ممالک، خصوصاً افغانستان کے عوام، کے خلاف استعمال ہو۔ اسی وجہ سے پاکستانی جرنیلوں کے لیے اپنی پرانی پالیسیوں کو جاری رکھنا دن بہ دن دشوار سے دشوار تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔



















































