گزشتہ چند مہینوں میں افغانستان نے بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا، اور کوشش کی کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم ہو اور موجودہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنی مذموم پالیسی پر بدستور قائم ہے، نہ وہ اپنے عوام کے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی افغانستان کے ساتھ مسائل کا حل چاہتی ہے۔
پاکستانی فوج مسلسل بے گناہ شہریوں، عورتوں اور بچوں کے قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
آئندہ افغانستان کا وار صرف انتقام تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ وہ ہر اس خطرے کے خلاف اقدام کرے گا جو افغانستان کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بنے، خواہ یہ خطرہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہو یا پاکستانی فوج کے کرائے کے پراکسی گروپوں کی طرف سے۔
الحمدللہ، امارت اسلامیہ اس صلاحیت کی حامل ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کے تمام اہداف، بالخصوص پاکستان کے حساس عسکری اہداف اور پاکستانی پراکسی گروپوں کے مراکز کو نہایت دقیق انداز میں نشانہ بنا سکتی ہے۔
پاکستانی فوج کے مغرور اور متکبر جرنیلوں کی ایک معمولی غلطی بھی پاکستان کے لیے نہایت حساس عسکری اور شہری تنصیبات کی تباہی کی صورت میں بھاری قیمت کا باعث بن سکتی ہے۔
افغانستان کسی صورت اپنے فضائی و زمینی حریم کی خلاف ورزی اور اپنے امن و استحکام کے خلاف خطرات کو برداشت نہیں کرے گا۔
افغانستان جانتا ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس کے بعد پاکستانی خفیہ ادارے کہاں گئے، کن مفرور افراد کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، اور اب صوبۂ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سابق مفرور اربکیوں (ملیشیا) کو کس مقصد کے لیے منظم کیا جا رہا ہے۔
افغانستان جانتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے کرم، اورکزئی، خیبر، مہمند اور باجوڑ کے علاقوں میں داعش کی تنظیم نو کس مقصد کے لیے جاری ہے، اور افغانستان اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ چترال میں کیا سرگرمیاں جاری ہیں۔
افغانستان تمام نقل و حرکت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے بارے میں مکمل انٹیلی جنس معلومات رکھتا ہے۔
پاکستان جس بہانے کو بنیاد بنا کر افغانستان پر بمباری کرتا ہے اور شہری آبادی کا قتلِ عام کرتا ہے، افغانستان بالآخر وہ بہانہ بھی پاکستانی فوج سے چھین لے گا اور دنیا پر ثابت کرے گا کہ موجودہ دور میں افغانستان کے امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور خود کفالت کا اصل دشمن پاکستان ہے۔
ہم ایک بار پھر واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ اگر پاکستانی فوج نے دوبارہ کسی حملے کی غلطی کی تو اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی اور اسے شدید پشیمانی کا سامنا کرنا ہوگا، ان شاء اللہ۔
اسی طرح اگر پاکستانی فوج افغانستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے پراکسی گروپوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے تو افغانستان کے پاس اس میدان میں پاکستان سے زیادہ وسائل موجود ہیں، اور اگر افغانستان ان وسائل کے استعمال پر مجبور ہوا تو پھر پاکستان خود سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔



















































