امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد، جیسا کہ توقع تھی، افغانستان کے ہر کونے میں خوارج کےمفسد اڈوں کو ختم کر دیا گیا۔ اس گروہ کے تمام ارکان نے، اعلیٰ کمانڈروں سے لے کر عام افراد تک، اپنے اعمال کی سزا پائی اور مکمل طور پر تحلیل ہو گئے۔
اس کے بعد، اس نفرت انگیز گروہ کی تباہ کن سرگرمیاں بہت حد تک رک گئیں، لیکن پھر بھی وہ وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہے؛ وہ حملے جنہوں نے ایک بنیادی سوال اٹھایا: اب جب کہ داعش کا فتنہ افغانستان میں ختم ہو چکا ہے، تو اس گروہ کے پیچھے کون کھڑا ہے اور کون اسے فنڈنگ کر رہا ہے اور افغانستان بھیج رہا ہے؟
ابتدائی دنوں میں شاید اس سوال کا جواب تلاش کرنا کچھ مشکل تھا، لیکن آہستہ آہستہ داعش کےگمراہ ارکان کی گرفتاریوں اور ان کے اعترافات کی روشنی میں، ایک خفیہ راز بے نقاب ہوا اور خوارج کے فنڈرز نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کے لیے واضح ہو گئے۔
ہاں! گرفتار شدہ داعشیوں کے اعترافات کے مطابق، اس گروہ کے ارکان نہ صرف افغانستان سے باہر پاکستان کی جانب سے ملک میں بھیجے جاتے تھے، بلکہ افغانستان پہنچنے سے پہلے انہیں تمام ضروری تربیتیں پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کی نگرانی میں افغانستان کو تباہ کرنے کے لیے دی جاتی تھیں۔
پاکستان اور داعش کے تعاون کا دعویٰ ابتدائی طور پر کچھ میڈیا اداروں کی جانب سے اٹھایا گیا، لیکن جب پاکستان نے ان ناپاک اعمال کو جاری رکھا، تو امارت اسلامیہ نے باضابطہ طور پر پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ داعش کے ساتھ مل کر افغانستان اور دیگر ممالک کے خلاف تباہ کن اعمال میں مدد اور فنڈنگ کر رہا ہے۔ یہ دعویٰ اگرچہ ابتداء میں پاکستانی حکام کی جانب سے مسترد کیا گیا، لیکن جلد ہی یہ ناقابل تردید حقیقت کی شکل اختیار کر گیا۔
کچھ عرصہ قبل، جب پاکستان نے افغانستان کی سرزمین پر حملہ کیا، لیکن اسے امارت اسلامیہ کے بہادر سپاہیوں کے سخت ردعمل اور شدید انتقام کا سامنا کرنا پڑا، تو وہ اپنی غلطی پر پچھتایا اور سیز فائر کی درخواست کی۔ اس سیز فائر نے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جس کا پہلا مرحلہ قطر میں اور دوسرا مرحلہ ترکی میں منعقد ہوا۔
لیکن سیز فائر کے موضوع کے علاوہ، جو چیز اس بحث کا بنیادی حصہ ہے، وہ پاکستان کی جانب سے امارت اسلامیہ کے نمائندوں کی منطقی اور عقلمندانہ درخواست کو مسترد کرنا ہے؛ وہ درخواست جس میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ داعش خوارج کے ساتھ تعاون اور فنڈنگ کا سلسلہ بند کر دے۔ لیکن پاکستان نے مکمل بے شرمی سے یہ درخواست مسترد کر دی!
اب سوال یہ ہے کہ اگر داعش کے اڈے پاکستان کی سرزمین میں نہیں ہیں اور آئی ایس آئی کی نگرانی میں داعشی تربیت نہیں پاتے، جبکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، تو پھر اس نے امارت اسلامیہ کی درخواست کیوں مسترد کی اور خوارج کے وجود کا انکار کیوں نہیں کیا؟
اس کے علاوہ، داعش کے ارکان اور اس کے اعلیٰ حکام کا نامعلوم افراد کی جانب سے قتل ہونا بھی اس دعوے کا واضح ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر، نصرت ولد امیر محمد نامی شخص، جو ابوذر کے نام سے جانا جاتا تھا، پاکستان کے شہر پشاور میں قتل ہوا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۳ء میں کابل اور پڑوسی صوبوں کے کچھ حملوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا تھا اور پاکستان میں "پہلوان” کے نام سے ایک اہم مرکز کی قیادت کرتا تھا۔
نتیجے میں، تمام شواہد اور قرائن واضح کرتے ہیں کہ داعشی خوارج کی جڑیں اور اصل پناہ گاہ پاکستان میں ہے۔ یہ ملک اس نفرت انگیز گروہ کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ افغانستان، خطے اور دنیا کا استحکام خراب کرے اور امارت اسلامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھائے۔ یہ پاکستان کی وہ فریب کارانہ پالیسیاں ہیں جو نہ صرف افغانستان کی سلامتی بلکہ پورے خطے کی امن و امان کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔




















































