گیارھواں سبب جو پاکستان کے زوال کو مزید تیزی سے قریب لا رہا ہے، وہ خطے اور دنیا کی موجودہ صورتحال ہے۔
پاکستان کے قیام سے اب تک شاید یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا میں ایسی جنگیں اور تنازعات جاری ہیں جن سے پاکستان کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ پہلے جب بھی دنیا میں کسی قسم کی جنگ یا ناخوشگوار واقعات پیش آتے تھے تو پاکستانی فوجی جرنیل خوشی سے اس پر جشن مناتے تھے۔
اور ہر مسلمان ملک کی مصیبت اور جنگ کو اپنی ترقی، پیش رفت اور فائدہ سمجھتے تھے۔
وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر جنگ میں اپنے مفادات تلاش کریں۔ افغانستان کے قبضوں سے لے کر سوڈان کی جنگوں تک، یمن، سعودی عرب حتیٰ کہ غزہ کی جنگ تک، ان تمام میں پاکستان کی فوج کے ایک مخصوص شیطانی حلقے نے بہت فائدے اٹھائے ہیں۔ پاکستانی جرنیلوں کے لیے اب یہ ایک عادت بن چکی ہے کہ کس طرح جنگیں پیدا کی جائیں اور کس طرح ان سے اپنے مفادات حاصل کیے جائیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمِ اسلام کی ہر بدبختی میں پاکستان اپنی فوج اور معیشت کی بقا دیکھتا ہے۔ پاکستانی فوجی جرنیل اب یہ سمجھتے ہیں کہ اگر عالمِ اسلام میں امن قائم ہو جائے تو پاکستان کی معیشت صفر ہو جائے گی۔
کیونکہ ان جنگوں میں جو مسلم ممالک پر مسلط کی جاتی ہیں، کفار کو اپنے جاسوسوں اور کرائے کے جنگجوؤں کے لیے بحری اور فوجی اڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستانی جرنیلوں کا اصل پیشہ یہی بن چکا ہے کہ وہ اپنے فوجی اور فضائی اڈے کفار کو کرائے پر دیں۔
لیکن خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے، جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں اور عالمِ اسلام میں تنازعات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، پاکستان اس بار پہلے کی طرح کھلے عام اپنے کرائے کے فوجی اور فوجی اڈے مغرب اور اسرائیل کو نہیں دے سکتا، کیونکہ ممکن ہے وہ ایران کے میزائل حملوں کا نشانہ بن جائے۔ وہ صرف جاسوسی کے کام جاری رکھے ہوئے ہے، مگر پھر بھی ہر لمحہ یہ خطرہ موجود ہے کہ ایران پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے، کیونکہ ایران کی حکومت جانتی ہے کہ خطے میں اسرائیل اور مغرب کے لیے بہت سی جاسوسیاں پاکستانی فوجی رجیم کی طرف سے کی جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ہے، جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور پاکستان اس کا دفاع کرے گا۔ مگر اس وقت جب ایران کی حکومت سعودی عرب پر بھی میزائل حملے کر رہی ہے، پاکستان نے صرف مذمت کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
یہ بھی پاکستان کے مستقبل پر بہت منفی اثر ڈال رہا ہے، کیونکہ سعودی حکومت اب سمجھ رہی ہے کہ پاکستانی فوج جیسی کمزور اور باجاری فورسز کو کرائے پر لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاکستان جو اب بھی سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے قرضوں اور امداد پر چل رہا ہے، اگر اس وقت عرب ممالک اس امداد کو روک دیں تو یہ پاکستان کے زوال کا آغاز ہوگا۔
معلومات کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو بڑی مقدار میں قرضے دیتا ہے، اور خاص طور پر تیل کے معاملے میں پاکستان کا زیادہ تر انحصار سعودی عرب پر ہے۔ سعودی عرب پاکستان کی کتنی مدد کرتا ہے، اس کی تمام تفصیل بیان کرنا تحریر کو طویل کر دے گا۔ مگر اتنا کہنا کافی ہے کہ سعودی عرب اس حد تک مدد کرتا ہے کہ ہر سال حج اور رمضان کے موسم میں پچاس ہزار تک پاکستانی بھکاریوں کو حرمین شریفین میں آنے دیتا ہے، جہاں وہ خیرات کے ذریعے لاکھوں ریال حاصل کرتے ہیں۔ اگر سعودی عرب صرف یہ فقر اور بھیک مانگنے کا راستہ بھی فوجی رجیم پر بند کر دے تو اس سے بھی موجودہ حالات میں پاکستان کو بڑا نقصان پہنچے گا۔
موجودہ وقت میں جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ہے اور سعودی عرب بھی اس بحران میں الجھ چکا ہے، پاکستان ایسی صورتحال سے دوچار ہے کہ اس کا ہر فیصلہ پاکستانی جرنیلوں کے نقصان میں جاتا ہے۔ اگر پاکستان کھل کر امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت کرتا ہے تو وہ ایران کے میزائلوں کا ہدف بن جائے گا، اور پاکستان اس قدر نازک اور کمزور حالت میں ہے کہ سو میزائلوں کے حملے کی بھی تاب نہیں لا سکتا۔
اور اگر وہ سعودی عرب اور امریکہ کی حمایت نہ کرے اور خاموشی اختیار کرے تو پھر سعودی تیل اور مالی امداد اس پر بند ہو جائے گی، اور اسی طرح تمام عرب ممالک میں پاکستانی فوج کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ مستقبل میں کوئی بھی عرب ملک نہ پاکستان کے فوجیوں اور جرنیلوں کو کرائے پر لے گا اور نہ ہی ان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرے گا۔
اسی طرح اگر سعودی عرب پاکستان کو تیل کی برآمدات بند کر دے تو یہ پاکستان کے فوجی رجیم کے لیے سخت دھچکا ہوگا۔
پاکستانی جرنیلوں کو تاریخ میں پہلی بار ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ مسلمانوں کا یہ بحران اور بدبختی ان کے فائدے میں نہیں جا رہی، اور وہ نہیں جانتے کہ اس جنگ اور شر کو کفار کے ساتھ کس طرح تجارت میں بدلیں اور اپنی عیش و عشرت کو کیسے جاری رکھیں۔




















































