اسلام ایک وسیع اور جامع دین ہے۔ مسلمانوں کے نظریات اور افکار ایسے ہونے چاہییں، جیسے اسلام کا تقاضا ہے۔ اگر ہم اسلام کا وسیع مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اسلام میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط، بلکہ اسلام ایک معتدل اور میانہ رو دین ہے۔
اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں سے بھی یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر مسلمان میں کشادہ ذہنی، اعلیٰ ظرفی اور وسعتِ نظری ہونی چاہیے۔ اسے ہر چیز کو اسلام کے دائرے میں رہ کر دیکھنا چاہیے اور اپنی طبیعت، خود پسندی اور خود غرضی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہر مسلمان، خصوصاً وہ شخص جس کے ہاتھ میں مسلمانوں کا اقتدار ہو، فکری جمود کے دائرے سے نکل کر وسیع النظر ہونا چاہیے۔
اگر کوئی ایسا شخص سامنے آئے جو خود کو مسلمان کہتا ہو اور اسلام سے اپنی نسبت بھی ظاہر کرتا ہو، لیکن ہر چیز کو اسلام کے دائرۂ نظر سے نہ دیکھتا ہو، بلکہ افراط یا تفریط کی طرف مائل ہو، تو یا تو وہ جہالت کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہوگا اور اسلام کی اس بنیادی روح سے ناواقف ہوگا، یا دوسرے گمراہ کرنے والوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہوگا، یا پھر اس پر خود پسندی، انانیت اور اپنی طبیعت کی حکمرانی ہوگی، جو خود بھی جہالت ہی کی ایک قسم ہے۔
اسلام مسلمانوں کی روح اور اعتدال پر قائم دین ہے۔ اسلام کسی ایک زمانے تک محدود نہیں اور نہ ہی کسی ایک قوم، ملت یا وطن کے ساتھ خاص ہے، بلکہ اسلام نبی علیہ السلام کے زمانے سے لے کر قیامت تک کے لیے ہے اور اس کا یہ چراغ روشن رہے گا۔ چنانچہ اسلام کا دائرۂ اثر وسیع ہونے کی وجہ سے اس کے پیروکار کوئی بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ وہ میانہ روی کا حامل ہو، تاکہ ہر شخص اسلام کے سائے تلے اچھی زندگی گزار سکے۔
اگر ہم تاریخی پس منظر کی طرف جائیں اور اسلام کے آغاز سے منحرف اور گمراہ گروہوں کی روش کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ انہیں کبھی بھی ایک وسیع جغرافیائی خطے پر طویل مدت تک اقتدار اور ذمہ داری حاصل نہیں رہی۔ اگر کبھی انہیں اقتدار ملا بھی تو تھوڑے ہی عرصے میں وہ اس سے محروم ہوگئے، کیونکہ وہ اسلام کے اس بنیادی مقصد سے محروم تھے جو میانہ روی، توسط اور اعتدال ہے۔
اب اگر ہم عصر حاضر کے خوارج (داعش) کو دیکھیں تو وہ اہل السنۃ والجماعۃ پر کفر کے فتوے چسپاں کرتے ہیں، تحریف شدہ عقائد پیش کرتے ہیں اور اسلام کے احکام میں تحریف کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ دوسری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں ہیں اور ان کے مفادات کے لیے کھیل رہے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے مسلمانوں کو کچلا جائے اور اسلامی نظام کی ترقی کا راستہ روکا جائے۔
یا پھر وہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے ناواقف ہیں اور ان پر جہالت غالب ہے، اسی لیے وہ مسلمانوں کے خلاف کفر کے فتوے لگاتے ہیں اور ان میں انتہا پسندی بے حد بڑھ چکی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ: ” بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا ". (رواه مسلم)
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو اسے فرماتے: لوگوں کو خوش خبری دو، انہیں متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اسلام کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے اور اسے دوسروں تک بھی اچھے انداز میں پہنچانا چاہیے۔ اسے تنگ نظری، افراط، تفریط اور انانیت سے بچنا چاہیے۔ اسی طرح مسلمان کو وسیع النظر ہونا چاہیے اور تکفیری عقائد سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جس طرح اسلام میانہ روی کا دین ہے، اسی طرح اس کے پیروکاروں کو بھی میانہ رو اور اعتدال کا حامل ہونا چاہیے۔


















































