یکم اکتوبر 2026 کے روز مدینہ منورہ کے ‘طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن’ پر ہونے والے حوثیوں کے ڈرون حملے نے مشرقِ وسطیٰ کے پہلے سے سلگتے سکیورٹی منظرنامے کو ایک نئی اور خطرناک نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ یمن کے حوثی باغیوں نے روایتی طور پر اس حملے کی تردید شاید اس لیے کی ہے کہ وہ بخوبی جانتے ہوں گے کہ حرمین شریفین جیسی مسلم امہ کی آخری ‘ریڈ لائن’ کو پار کرنے کی ذمے داری لینا انہیں اسلامی دنیا سے ایک شدید ردعمل کا نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم سعودی انٹیلی جنس کی جانب سے جائے وقوعہ سے ملنے والے ‘ایرانی ساختہ ڈرون کے بقایا جات اور فارنزک شواہد’ انگلیوں کو براہِ راست حوثی ہجوم کی طرف اُٹھاتے ہیں۔
حوثیوں کی یہ تردید پہلی نظر میں محض ایک سکیورٹی بریفنگ کا حصہ دکھائی دیتی ہے، لیکن گہرائی میں اُتریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حوثیوں کا یہ حملہ دراصل 7 اگست 2026 کو قائم ہونے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کی تزویراتی گہرائی اور اس کے اراکین کے ردعمل کی حد کو جانچنے کی ایک گہری عسکری مشق تھی۔ بظاہر حوثی یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اگر مدینہ منورہ کے حصار کو چیلنج کیا جائے تو ‘مکہ معاہدے’ جیسے اس نوائیدہ عسکری اتحاد کا جواب کس حد تک عملی اور ہولناک ہو سکتا ہے؟
تاہم اس بحران پر پاکستان جیسے کلیدی رکن کا ردعمل بین الاقوامی برادری کے لیے حیران کن حد تک روایتی ہی رہا ہے۔ اسلام آباد نے شدید ترین الفاظ میں مذمت تو کی… لیکن زمین پر کوئی ایسا واضح، جرات مندانہ یا عسکری ردعمل بھی سامنے نہیں آیا، جو حوثیوں کے طرزِ عمل اور ڈرون کے پُرزوں سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر ایران جیسے پشت پناہ کے دل میں ‘بازدار خوف’ پیدا کر سکتا۔
پاکستان ایک ‘بظاہر مسلم ایٹمی طاقت’ ہے… اس کی یہ ‘سفارتی خاموشی’ محض کسی تساہل کا نتیجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ‘لین دین کی سفارت کاری’ (Transactional Diplomacy) کا ایک کلاسک شاہکار ہے… جس کے پیچھے پیچیدہ جیو پولیٹیکل اُلجھنیں کارفرما اور وہ معاشی مجبوریاں پوشیدہ ہیں، جن کا تذکرہ شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لندن و نیویارک کے رہائشیوں کے سامنے کھڑے ہو کر کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہم دنیا بھر کے شدت پسندوں (مجاہدین) کو پاکستان میں انگیج نہ کرتے تو یہ لوگ آج لندن و نیویارک کی گلیوں میں آزادنہ گھوم رہے ہوتے۔ اس لیے آپ سب کو پاکستان کی معاشی مدد کرنی چاہیے، کیوں کہ پاکستان دراصل مغرب و امریکا کے تحفظ کی جنگ لڑ رہا ہے۔
چناں چہ مکہ معاہدے کے حوالے سے خاموشی کا پہلا تانا بانا پاکستان اور ایران کے دیرینہ، مگر نازک روابط سے جُڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ، خصوصا سعودیہ وغیرہ کی دفاعی پیچیدگیوں میں مستقل بازدار عسکری تنصیبات قائم کرنا ایک ایسا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جس کی قیمت اسے اپنی طویل ایرانی سرحد پر چکانا پڑ سکتی ہے۔ حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف کے حوثیوں کے خلاف سخت بیانات اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورۂ ریاض پر ایرانی علمی حلقوں کی جانب سے آنے والی کھلی تنقید کہ جس میں پاکستان کو ‘دوست اور دشمن کا فرق’ یاد دلاتے ہوئے آنکھیں کھلی رکھنے کی تنبیہ کی گئی تھی… یہ ظاہر کرتی ہے کہ تہران اسلام آباد کی ہر نقل و حرکت کو مانیٹر کر رہا ہے۔
دوسرے تانے بانے کے طور پر مزید برآں پاکستان کے ریاستی اور عسکری ڈھانچے میں اہم عہدوں پر موجود بااثر شیعہ برادری اور ملک کے اندرونی فرقہ وارانہ توازن کو برقرار رکھنا اسلام آباد کے لیے بظاہر پہلی ترجیح ہے۔ چناں چہ پاکستان پسِ پردہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سعودی فضائی حدود کی مانیٹرنگ میں تو تعاون کر سکتا ہے، لیکن حوثیوں کے خلاف عملی جارحیت سے گریز پا ہی رہے گا، تاکہ پراکسی وار کا یہ رُخ اس کے اپنی فوجی سرزمین راولپنڈی کی طرف نہ مڑ جائے۔
تاہم اس اسٹریٹجک محتاط رویّے کا سب سے اہم اور فیصلہ کن رخ خالصتاً معاشی ہے۔ پاکستان اِس وقت جس معاشی بحران سے نبرد آزما ہے، اس حالت میں وہ کسی دوسرے ملک کے لیے ‘مفت کی جنگ’ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جولائی 2026 میں پاکستان نے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر مالیت کے تیل کی رعایت پر مبنی ایک ایسی سہولت مانگی تھی، جو 15 سال کے طویل ادھار پر مشتمل ہو، جس پر سود کی شرح محض 1 فیصد ہو اور پہلے 5 سال کوئی ادائیگی نہ کرنی پڑے۔
وژن 2030 کے تحت اپنی معیشت کو جنگوں سے دور رکھ کر مستحکم کرنے کا خواہش مند سعودی عرب پاکستان کے اس طویل مدتی معاشی اُدھاری مطالبے پر دستخط کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حوثیوں کی دراندازی کے باوجود مکہ معاہدے پر جوابی عسکری عمل درآمد کے حوالے سے حالیہ خاموشی دراصل ریاض پر یہ دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ہے کہ ‘اگر سعودیہ کو حرمین یا خود کے تحفظ کے لیے پاکستان کی روایتی اور ایٹمی طاقت کی ‘سکیورٹی گارنٹی’ درکار ہے تو اُسے پاکستان کو طویل مدتی معاشی لائف لائن فراہم کرنا ہوگی۔
اس سفارتی شطرنج میں تلخی اُس وقت مزید بڑھ گئی، جب ستمبر 2026 میں سعودی عرب کی بڑی توانائی کمپنی ‘ڈیلٹا انٹرنیشنل انرجی’ نے پاکستان کی تمام تر درخواستوں اور ‘خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل’ (SIFC) کی پیش کشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان کی امارت اسلامی حکومت کے ساتھ ہراب وغیرہ صوبوں میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے 200 ملین ڈالر کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
اِس وقت کابل کے ساتھ ٹی ٹی پی کے نام نہاد اور خودساختہ معاملے پر شدید سکیورٹی کشیدگی پیدا کرنے والے پاکستان کے لیے سعودیہ کا کابل کو معاشی سہارا دینا اور پاکستان میں سرمایہ کاری روکنا ایک بڑا سفارتی دھچکا تھا۔ اس سے قبل کہ جب سعودیہ کو اندازہ ہوا کہ پاکستان ایران کو روکنے میں ناکام رہا ہے تو اس نے پاکستان کو ایک خاموش پیغام دیتے ہوئے مکہ معاہدے میں ترکیہ جیسی بڑی اور باوقار طاقت کو شامل کیا، تاکہ پاکستان کا متبادل تلاش کیا جا سکے۔ تاہم پاکستان نے اپنی غیر ضروری موجودگی کے باوجود اس معاہدے سے نکلنے کے سفارتی دھچکے سے بچنے کے لیے اس کا حصہ رہنا تو پسند کیا، مگر اپنی عسکری خدمات کی رفتار کو بظاہر جان بوجھ کر سست کر دیا۔
اس صورتِ حال سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت حرمین شریفین کا تحفظ مسلم امہ کے لیے جذباتی طور پر جتنا بھی اہم ہو، جیو پولیٹیکل زمین پر پاکستان کے لیے یہ ‘سکیورٹی کے بدلے معاشی ریلیف’ کا ایک پچیدہ کھیل بن چکا ہے۔ اگر سعودی عرب پاکستان کے 15 سالہ ادھار تیل کے مطالبے اور اندرونی سرمایہ کاری کے وعدوں پر نظرثانی نہیں کرتا تو پاکستان مکہ معاہدے میں ترکیہ کے پیچھے محض ایک ثانوی (Secondary) اور علامتی کردار ادا کرنے پر ہی اکتفا کرے گا اور اس کا رسپانس صرف مذمتی بیانات تک محدود رہ سکتا ہے۔
طویل مدت میں یہ سرد مہری پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے روایتی بلاک سے دور دھکیل کر چین اور پاکستان میں شیعہ لابی کی وجہ سے ایران کے ساتھ ایک متبادل اسٹریٹجک الائنس کی طرف لے جا سکتی ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو مستقل طور پر تبدیل نہ بھی کرے، لیکن یہ پاکستان کے لیے عالمِ اسلام کے اہلِ سنت بلاک سے دُوری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔


















































