کچھ غلط فہمیاں اور ان کے جوابات:
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے عبارت سے غلط فہمی:
دیوبندی اکابر علمائے کرام میں سے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی کتاب ارشادات مدنی کے صفحہ 221 پر ایک عبارت ہے جس میں اس شخص کے کفر پر صراحت ہے جو مسلمانوں کے خلاف کافروں کے صف میں جنگ کرتا ہے۔ عبارت اس طرح ہے:
> "تیسری صورت قتل مسلم کی یہ ہے کہ کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ ہو کر ان کی فتح و نصرت کے لیے مسلمانوں سے لڑے یا لڑائی میں ان کا اعانت کرے اور جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جنگ ہو رہی ہو، تو وہ غیر مسلموں کا ساتھ دے۔ یہ صورت اس جرم کی کفر و عدوان کی انتہائی صورت ہے، اور ایمان کی موت اور اسلام کے نابود ہو جانے کی ایک ایسی اشد حالت ہے جس سے زیادہ کفر و کافری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔” (ارشادات مدنی، ص: 221)
وضاحت:
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا عبارت سلف صالحین اور اہل سنت کے اکثریتی متقدمین و متاخرین کے موقف کے خلاف نہیں ہے۔ تمام سلف اور اکثریتی متقدمین و متاخرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کافروں کے صف میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتا ہے اور اس کا کوئی دنیاوی مقصد یا ہدف نہیں ہے، بلکہ صرف اس لیے جنگ کرتا ہے کہ کافر فتح یاب ہوں اور مسلمان شکست کھائیں، تو یہ صورت کفر ہے۔ کیونکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس شخص کو اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی ہے، اور وہ کفر اور کافروں سے محبت رکھتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں یا کسی کفر پر مبنی دین سے محبت کرنا کفر ہے۔
تاہم، اگر کوئی شخص کچھ دنیاوی اغراض یا مقاصد، جیسے مال، خاندانی رشتہ داری، قومی تعصب، یا اس طرح کے دیگر دنیاوی مقاصد کے لیے کافروں کی حمایت کرتا ہے، تو یہ گناہ کبیرہ ہے، کفر نہیں۔ البتہ یہ کفر کا ذریعہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس طرح کے عمل سے آہستہ آہستہ اس کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے، اور کفر اور کافروں سے محبت جنم لیتی ہے۔ اس بارے میں ہم نے پہلے اہل سنت والجماعت کے سلف اور اکثریتی متقدمین و متاخرین کے متعدد نصوص اور عبارات ذکر کیے ہیں۔
ماہنامہ دارالعلوم دیوبند نے اپنی اشاعت (جمادی الثانیہ 1434 ہـ ق، اپریل 2013ء) میں تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات میں حضرت مدنی رحمہ اللہ کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ اس میں حضرت مدنی رحمہ اللہ نے کافروں کی موالات کو حرام قرار دیا، کفر نہیں کہا۔
تاہم، انہوں نے تکفیر بھی کی، لیکن حرام کو حلال کرنے کی بنیاد پر۔ جیسا کہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کی عبارت ہے:
> "آپ نے اعلان کیا کہ ’حکومت برطانیہ کی فوج میں شامل ہونا حرام ہے۔‘ لوگوں کو سمجھایا کہ برطانیہ کی ناپاک پالیسی ہندوستانی فوجوں سے مسلمانوں کو قتل کرانے والی ہے۔ وہ ان کے گھر، مال و دولت لوٹتی ہے، انہیں بے عزت و بے آبرو کراتی ہے۔ اگر کوئی فوجی اس چیز کو حلال سمجھے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ شرعی حیثیت سے کسی قسم کی مدد حکومت برطانیہ کی کرنا حرام ہے، ہر قسم کی موالات اور تعاون حرام ہے، مسلمانوں پر ترک موالات فرض ہے۔”
اس عبارت کے تناظر میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ نے برطانوی فوج میں ملازمت یا تقرری کو حرام قرار دیا۔ لیکن اگر کوئی شخص مذکورہ جرائم کو اپنے لیے حلال سمجھتا ہے، تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ اللہ کے حرام کردہ کو حلال کرنا یا اسلام کے مقابلے میں کفر سے محبت کرنا کفر ہے۔
*مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ:*
جس زمانے میں تحریک ترک موالات چل رہی تھی، اس وقت علماء کی ایک خاص جماعت کے علاوہ اکثریت علمائے کرام اور مسلمان اس تحریک کے ساتھ تھے۔ علمائے کرام ترک موالات کو فرض سمجھتے تھے اور برطانویوں کے ساتھ موالات کو حرام قرار دیتے تھے، کفر نہیں۔ جن لوگوں نے موالات اختیار کی تھی، انہیں وہ فاسق اور ظالم سمجھتے تھے، کافر یا مرتد نہیں کہتے تھے۔ جیسا کہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے ایک استفتاء کے جواب میں فرمایا:
> "دشمنان خدا و رسول، دشمنان اسلام، اور دشمنان مسلمین سے ترک موالات کرنا ایک دینی فریضہ ہے، جس کے متعلق قرآن مجید میں صاف و صریح احکام اور ناقابل تاویل نصوص و تصریحات موجود ہیں۔ دوپہر کے وقت سورج کے وجود سے انکار ممکن ہے، لیکن قرآن و حدیث جاننے والے کے لیے ترک موالات کے فریضے سے انکار ممکن نہیں۔ قرآن پاک میں نہ صرف ایک دو مقامات پر بلکہ متعدد مواقع پر اس عظیم الشان فریضے کا ذکر کیا گیا اور اس پر عمل نہ کرنے والوں کو عذاب اور غضب کبریائی سے ڈرایا گیا ہے۔
> ایک جگہ ارشاد ہے: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ﴾ (المجادلہ) یعنی اے پیغمبر! تم اس جماعت کو جو خدا تعالیٰ کی مقدس ہستی اور روز جزا پر یقین و ایمان رکھتی ہو، دشمنان خدا و رسول سے موالات، یعنی دوستی اور نصرت کے تعلقات رکھتے ہوئے نہ پاؤ گے۔ گویا یوں فرمایا گیا کہ حضرت حق اور یوم آخرت پر ایمان اور دشمنان خدا و مکذبین روز جزا سے موالات ایسی متضاد باتیں ہیں کہ ایک دل میں ان کا جمع ہونا ممکن نہیں۔
> دوسری جگہ فرمایا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ﴾ (الممتحنہ) یعنی ایمان والو! ہمارے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، یعنی ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہ رکھو۔
> تیسری جگہ ارشاد ہے: ﴿اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قَاتَلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوْا عَلٰٓى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾ (الممتحنہ) یعنی جو لوگ تم سے دینی لڑائی لڑیں، تمہیں تمہارے گھروں سے نکالیں، اور نکالنے والوں کی مدد و معاونت کریں، اللہ تعالیٰ تمہیں ایسے لوگوں کی موالات سے منع کرتے ہیں، اور جو ان سے موالات کرے گا وہ ظالم ہے۔
> آج کل جن اعدائے اسلام کے ساتھ ترک موالات کا مسئلہ زیر بحث ہے، ان میں یہ تینوں باتیں پوری طرح موجود ہیں: دینی جنگ، گھروں سے اخراج، اور اخراج کی مدد۔ انہوں نے یہ تینوں کام کیے ہیں، تو قرآن پاک کے اس صاف و صریح حکم کے مطابق ان اعدائے اسلام سے موالات حرام ہے، اور موالات کرنے والے ظالم ہیں۔” (کفایت المفتی، جلد: 9، ص: 412)
*امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ کے عبارت سے غلط فہمی:*
کچھ اکابر کی عبارات سے بعض اوقات یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ گویا انہوں نے مطلق موالات کو کفر اور ارتداد کہا ہے، جیسے امام ابوبکر جصاص رحمہ اللہ کی درج ذیل عبارت سے:
*عبارت:*
"کافر مسلمان کا ولی نہیں ہو سکتا۔ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ کافر نہ تو تصرف میں اور نہ ہی نصرت میں مسلمان کا ولی ہو سکتا ہے۔ یہ آیت کافروں سے براءت اور ان سے دشمنی واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ ولایت دشمنی کے بالکل متضاد ہے۔ جب ہمیں یہود و نصاریٰ سے ان کے کفر کی وجہ سے دشمنی کا حکم دیا گیا، تو ان کے علاوہ دیگر کافر بھی اسی حکم میں شامل ہیں۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کفر ایک ہی ملت ہے۔
> ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ﴾۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودی نصرانی پر ولایت کا مستحق ہے اس حالت میں جب کہ وہ نابالغ یا مجنون ہو، جیسے کہ اگر مقتول یہودی ہوتا تو وہ اس کا مستحق ہوتا۔ اسی طرح ان کے درمیان نکاح کی ولایت بھی اسی طرح ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے درمیان بعض کے بعض کی ولایت کی وجہ سے وراثت کا جواز ہے، اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ کفر ایک ہی ملت ہے، خواہ اس کے مذاہب اور طریقے مختلف ہوں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے درمیان باہمی نکاح جائز ہے، یعنی یہودی نصرانی عورت سے اور نصرانی یہودی عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ یہ احکام ان کے آپس کے معاملات میں ہیں۔ لیکن ان کے اور مسلمانوں کے درمیان معاملات میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے احکام میں نکاح اور ذبیحہ کے جواز کے حوالے سے فرق ہے۔
> ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾۔ یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بنو تغلب کے نصرانیوں کا حکم بنو اسرائیل کے نصرانیوں کے حکم جیسا ہے، یعنی ان کے ذبیحہ کھانے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے حوالے سے۔ ابن عباس اور حسن سے بھی یہی روایت ہے۔ اور ﴿مِنْكُمْ﴾ سے مراد عرب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر اس سے مراد مسلمان ہوتے تو جو کافروں کی موالات کرتا وہ مرتد ہو جاتا۔”
*وضاحت:*
یہاں موالات سے مراد کامل موالات ہے، جسے بعض لوگ "موالات تامہ” یا "موالات مطلقہ عامہ” کہتے ہیں۔ موالات تامہ اس موالات کو کہتے ہیں جو عقیدوی فساد کی بنیاد پر ہو۔ کیونکہ سلف کے نزدیک مطلق موالات کفر نہیں ہے۔ بلکہ سلف اسے درجوں میں تقسیم کرتے ہیں، جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ اور دیگر سلف و اکابر کی عبارات سے یہ موضوع پہلے واضح کیا جا چکا ہے۔
کیونکہ اگر مطلق موالات کفر اور ارتداد ہوتا، تو اس میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ، ابو لبابہ بن المنذر، سعد بن عبادہ، اور فرات بن حیان رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آ جاتے، کیونکہ ان حضرات کے بعض اعمال جو پہلے بیان کیے گئے، موالات کی ایک قسم تھے۔
جیسا کہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاوی، جلد سات، صفحہ 523 پر فرمایا:
> "کبھی کوئی مسلمان کافر سے محبت کرتا ہے یا اس کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مدد کرتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل گناہ ہے، لیکن کفر نہیں، کیونکہ یہ عمل اس نے عقیدے کی بنیاد پر نہیں کیا، بلکہ رشتہ داری یا کسی اور ضرورت کی وجہ سے کیا۔ جیسا کہ وہ (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں:
> الأصل الثاني: أن شعب الإيمان قد تتلازم عند القوة ولا تتلازم عند الضعف، فإذا قوي ما في القلب من التصديق والمعرفة والمحبة لله ورسوله أوجب بغض أعداء الله، كما قال تعالى: ﴿وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالنَّبِىِّ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِيَآءَ﴾ وقال: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ﴾.
> اور کبھی کسی شخص کو رشتہ داری یا ضرورت کی وجہ سے ان سے دوستی ہو جاتی ہے، تو یہ گناہ ہے جو اس کے ایمان کو کمزور کرتا ہے، لیکن وہ اس سے کافر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا جب انہوں نے مشرکین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ خبریں لکھ کر بھیجیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾۔ اسی طرح سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے افک کے واقعے میں ابن ابی کے حق میں حمایت کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ اس سے پہلے صالح آدمی تھے، لیکن قومی تعصب نے انہیں اس طرف لے گیا۔ اسی شبہ کی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے حاطب کو منافق کہا اور فرمایا: ’اے رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑاؤں۔‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’یہ وہ شخص ہے جس نے بدر میں شرکت کی۔‘ عمر رضی اللہ عنہ نے اس شبہ کی بنا پر انہیں منافق کہا تھا۔ اسی طرح اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سعد بن عبادہ سے کہا: ’تم جھوٹ بولتے ہو، خدا کی قسم ہم اسے ضرور قتل کریں گے، تم تو منافق ہو جو منافقوں کی طرفداری کر رہے ہو۔‘”
اسی طرح علامہ ابن عاشور رحمہ اللہ نے اپنے تفسیر التحریر والتنویر، جلد چھ، صفحہ 230 پر آیت ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْيَهُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ﴾ کے بارے میں فرمایا:
> "ظاہراً یہ آیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کافروں سے دوستی ان کے دین میں داخل ہونے کے مترادف ہے، کیونکہ اس کے معنی بعضیت کے بغیر پورے نہیں ہوتے۔ لیکن جب تک کسی مسلمان کا عقیدہ درست ہو، یعنی وہ ایمان رکھتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہو، اور منافق نہ ہو، تو وہ یقیناً مومن ہے۔ لہٰذا، اس آیت کو تاویل کی ضرورت ہے۔ مفسرین نے اس کی دو طرح تاویلیں کی ہیں: یا تو ’ولایت‘ سے مراد کامل ولایت ہے، یعنی ایسی ولایت جس میں کافروں کا دین پسند ہو اور اسلام پر طعن و تنقید کیا جائے۔
> یا پھر یہ تشبیہ بلیغ ہے، یعنی وہ شخص عذاب کے لحاظ سے کافروں جیسا ہے۔ ابن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے افعال، جیسے حمایت وغیرہ، سے ان کی موالات کرتا ہے، لیکن ان کا عقیدہ نہیں اپناتا اور ایمان میں خلل نہیں ڈالتا، وہ مذمت اور عذاب کے لحاظ سے ان کے ساتھ ہے۔ اہل سنت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب تک کوئی شخص کفر کو پسند نہ کرے اور کافروں کی حمایت اس بنیاد پر نہ کرے، وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، البتہ یہ بڑی گمراہی ہے۔
انہوں نے ایک خطرناک قسم کی موالات کا ذکر کیا جو اندلس کے بعض کمانڈروں اور جنگجوؤں نے کی تھی، جب وہ نصرانیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑے۔ اس بارے میں اندلس کے علماء سے استفتاء بھی کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے کفر کی فتویٰ نہیں دی، بلکہ کہا کہ یہ بڑا گناہ ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں تعاون ہے۔
ابن عاشور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن فقہاء نے اس استفتاء کے جواب میں اس آیت سے استدلال کیا، انہوں نے ان لوگوں کی تکفیر نہیں کی، بلکہ آیت کو تاویل پر محمول کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ موالات جو اندلس کے کمانڈروں اور جنگجوؤں نے کی تھی، کفر کی موالات کے بعد سب سے نچلا درجہ ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:
> وقوله: ﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾ (من) شرطیة تقتضي أن كل من يتولاهم يصير واحدا منهم، جعل ولايتهم موجبة كون المتولي منهم، وهذا بظاهره يقتضي أن ولايتهم دخول في ملتهم؛ لأن معنى البعضية هنا لا يستقيم إلا بالكون في دينهم. ولما كان المؤمن إذا اعتقد عقيدة الإيمان واتبع الرسول ولم ينافق كان مسلما لا محالة، كانت الآية بحاجة إلى التأويل، وقد تأولها المفسرون بأحد تأويلين: إما بحمل الولاية في قوله: ﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ﴾ على الولاية الكاملة التي هي الرضى بدينهم والطعن في دين الإسلام، وإما بتأويل قوله: ﴿فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ﴾ على التشبيه البليغ، أي فهو كواحد منهم في استحقاق العذاب.
اس آیت میں موالات سے منع کرنے میں مبالغہ ہے، کیونکہ اس وقت جب یہ آیت نازل ہوئی، مسلمانوں کے حالات نازک تھے۔ ان کے ارد گرد منافقین، کمزور ایمان والے، یہود، اور مشرکین تھے۔ لہٰذا، امت کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ ہر اس چیز سے مکمل اجتناب کیا جائے جس سے شبہ پیدا ہو۔




















































