2021ء میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد، طالبان کی قیادت میں قائم ہونے والے امارت اسلامیہ افغانستان کو تقریباً چار سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران عالمی برادری نے ہچکچاہٹ، خاموشی اور مشروط رویوں کے ذریعے افغانستان کے نئے سیاسی نظام سے خود کو دور رکھا۔ لیکن کل روس کی جانب سے امارت اسلامیہ افغانستان کو باضابطہ حکومت کے طور پر تسلیم کرنا اس سفارتی سرد مہری میں پہلا بڑا شگاف ثابت ہوا۔
یہ فیصلہ صرف ایک علامتی یا رسمی قدم نہیں، بلکہ ایک بڑا اسٹریٹجک اقدام ہے، جو افغانستان، وسطی ایشیا، چین، اسلامی دنیا اور حتیٰ کہ مغربی طاقتوں کے سیاسی و علاقائی توازن پر گہرا اثر ڈالے گا۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے پہلے دورِ اقتدار (1996-2001) میں صرف تین ممالک، پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسے باضابطہ حکومت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ اس وقت روس نے تماشائی کا کردار ادا کیا اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کے ساتھ ہم آہنگی میں طالبان کی مخالفت کی۔
لیکن موجودہ صورتحال پچھلے حالات سے یکسر مختلف ہے۔ آج روس کا یہ موقف تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک طرف امارت اسلامیہ افغانستان نے پچھلی حکومتوں کے برعکس نظم و نسق، سکیورٹی اور انتظام کا نیا معیار قائم کیا ہے، اور دوسری طرف روس نے خود کو مغربی بلاک سے الگ کر کے اپنا جدا راستہ اختیار کیا ہے۔ اسی لیے ایک مستحکم، مغرب سے الگ اور نظریاتی حکومت روس کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے ایک قیمتی موقع سمجھی جاتی ہے۔
یوکرین جنگ کے بعد روس کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی آئی، مغرب کی طرف سے اقتصادی پابندیوں، سیاسی تنہائی اور نیٹو کی توسیع کے خدشات نے ماسکو کو مجبور کیا کہ وہ اپنے پڑوسی علاقوں میں ایسے اتحادی تلاش کرے جو مغرب کے اثر سے آزاد ہوں۔ افغانستان کو وسطی ایشیا، چین، پاکستان اور ایران کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک حیثیت حاصل ہے، جو روس کے علاقائی مفادات کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
روس کے اس فیصلے کے پیچھے کئی بنیادی عوامل ہیں:
وسطی ایشیا کی سرحدوں کا تحفظ:
افغانستان سے داعش یا دیگر مسلح گروہوں کے پھیلاؤ کا خطرہ ہمیشہ روس کے لیے باعثِ تشویش رہا ہے۔ اب امارت اسلامیہ افغانستان کی طرف سے ان گروہوں کی سرکوبی اور سرحدی نظم کی مضبوطی ماسکو کے لیے اطمینان بخش پیش رفت ہے۔
منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام:
امارت اسلامیہ افغانستان کی طرف سے افیون کی کاشت پر عملی پابندی اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کی کوششیں روس کے لیے براہِ راست داخلی سیکیورٹی اور سماجی فوائد فراہم کرتی ہیں۔
مغرب مخالف بلاک کی تشکیل:
روس، چین، ایران اور افغانستان کے درمیان باہمی تعاون مغرب کے یک طرفہ تسلط کے مقابلے میں ایک متبادل عالمی نظام پیش کر سکتا ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کی داخلی سرگرمیاں اور کامیابیاں:
امارت اسلامیہ افغانستان کی بین الاقوامی قبولیت کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ مغرب کا وہ پروپیگنڈا تھا، جو طالبان کو غیر مہذب، غیر ذمہ دار اور انتہا پسند قرار دیتا تھا۔ لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں:
*نظم و نسق اور انتظام:*
امارت اسلامیہ افغانستان نے کابل اور تمام صوبوں میں پولیس، عدلیہ، تعلیم، صحت اور مالیاتی نظام منظم کیے ہیں۔ کرپشن کے خلاف جنگ، ٹیکسوں کی وصولی اور سکیورٹی کی بہتری عملی طور پر نظر آتی ہے۔
سکیورٹی صورتحال:
چار دہائیوں کی جنگوں کے بعد، افغانستان میں پہلی بار عمومی استحکام اور امن و امان قائم ہوا ہے۔ سڑکیں، شاہراہیں اور دیہی علاقے حکومتی اختیار میں آ چکے ہیں۔
اقتصادی خود مختاری کی کوشش:
امارت اسلامیہ نے عالمی امداد کے بجائے داخلی وسائل سے حکومت چلانے کی کوشش کی ہے، جو طویل مدتی خود مختاری کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
روس کے اقدام کا عالمی اثر:
روس کا یہ قدم ایک ملک کی سرحدوں سے آگے، ایک بڑی عالمی سیاسی تبدیلی کی ابتدا ہے۔ اس کے درج ذیل اثرات ہوں گے:
عالمی جمود کا خاتمہ:
یہ اقدام چین، ایران، ترکی، قطر اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی راستہ ہموار کرے گا کہ وہ امارت اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کریں۔
اسلامی دنیا میں نظریاتی ہلچل:
یہ فیصلہ ان اسلامی ممالک کے لیے ایک عملی چیلنج ہے جو مغربی جمہوری ماڈلز کے حامی ہیں۔ اگر امارت اسلامیہ افغانستان ایک نظریاتی حکومت کے طور پر کامیابی حاصل کرتی ہے، تو یہ ایک فکر انگیز سوال ہوگا کہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر سیاست کیوں نہ ہو؟
مغرب کا سیاسی ناکامی:
روس کا اقدام اس مغربی بیانیے کی نفی ہے جو امارت اسلامیہ کو ناقابل قبول سمجھتا تھا۔ یہ امریکہ کے لیے اس نظریاتی اور سفارتی شکست کی علامت ہے جو کابل میں جمہوری نظام کے سقوط کے بعد بھی جاری رہی۔
اقوام متحدہ پر دباؤ:
اگر دیگر ممالک، خصوصاً چین، روس کے اس اقدام کی پیروی کرتے ہیں، تو یہ اقوام متحدہ کے نظام پر دباؤ بڑھائے گا کہ وہ امارت اسلامیہ کو افغانستان کے قانونی نمائندے کے طور پر تسلیم کرے۔
مغرب کے لیے غور و فکر کا لمحہ:
روس کا یہ قدم مغربی پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی ناکام پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ افغانستان میں جمہوریت مسلط کرنے کی کوشش ناکام ہو چکی، فوجی مداخلت ایک پرانا اور مردہ ماڈل بن چکا، اور نظریاتی استحکام کے مقابلے میں وہ بیانیے کی جنگ ہار چکے ہیں۔ اگر مغرب اب بھی امارت اسلامیہ افغانستان کو نظر انداز کرتا ہے، تو وہ نہ صرف افغانستان میں اپنا باقی ماندہ اثر و رسوخ کھو دے گا، بلکہ وسطی ایشیا میں چین، روس اور افغانستان کے ایک نئے بلاک کو روکنے سے بھی قاصر رہے گا۔
عالمی سفارت کاری کا ایک نیا باب:
روس کی طرف سے امارت اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کرنا صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات کی تبدیلی نہیں، بلکہ عالمی تعلقات کے نقشے میں ایک نیا باب ہے۔ دنیا اب دو دھڑوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو آزاد قوموں کے فیصلوں کا احترام کرتی ہیں، اور دوسری طرف وہ قوتیں جو اب بھی پرانے استعماری تسلط کے خواب سے نہیں جاگتیں۔
افغانستان نے ثابت کیا کہ حقائق پر جتنی بھی آنکھیں بند کی جائیں، بالآخر دنیا کو حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ، اس حقیقت کو تسلیم کر لے اور ایک آزاد، نظریاتی اور باوقار افغانستان کو عالمی برادری کے مکمل رکن کے طور پر قبول کرے۔




















































