داعش کا عدالتی نظام اسلامی شریعت کی ایک واضح اور منظم تحریف تھی، جو مخصوص سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تیار اور منظم کیا گیا تھا۔ اس ظالمانہ نظام کی خصوصیات درج ذیل تھیں:
داعش نے سخت اور غیر انسانی سزاؤں کا استعمال کیا، جو اسلام کی رحمانی روح کے بالکل خلاف تھیں؛ مثلاً اعضاء کاٹنا، سنگسار کرنا اور لوگوں کے سامنے عام محضر میں پھانسی دینا، یہ سب اس کے باوجود کہ اسلام نے حدود کے نفاذ کے لیے فقہی شرائط اور اصول وضع کیے ہیں تاکہ انصاف اور انسانی وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اسلامی فقہ میں ہر حد کے نفاذ کے لیے انتہائی دقیق اور پیچیدہ شرائط مقرر ہیں، جو عملی طور پر ان سزاؤں کے نفاذ کو محدود کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، زنا کے جرم کے ثبوت کے لیے چار عادل گواہوں کی موجودگی لازمی ہے، اور چوری کے جرم میں مال کا شرعی نصاب تک پورا ہونا ضروری ہے، اسی طرح چور تنگدست نہ ہو، لیکن داعش نے یہ تمام شرائط جان بوجھ کر نظر انداز کیں، تاکہ اسلام کو ایک ظالمانہ اور غیر منطقی صورت میں پیش کیا جا سکے۔
یہ تکفیری گروہ خواتین اور بچوں کے حقوق کو کھلے عام پامال کرتا رہا۔ اس نے مذہبی اقلیتوں کی خواتین کو جنسی غلام بنایا اور بچوں کو جنگ کے آلات کے طور پر استعمال کیا۔ حالانکہ اسلام نے خواتین اور بچوں کو خصوصی حقوق دیے ہیں اور ہر قسم کے ظلم پر پابندی لگائی ہے۔
داعش کے نظام کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ نادان لوگوں کے ذریعے تمثیلی (شو کے طور پر) مقدمے چلائے جاتے، ملزم کو دفاع کا حق نہیں دیا جاتا، اور فیصلے پہلے سے مقرر شدہ احکام کے مطابق صادر کیے جاتے تھے۔ یہ سب اس کے انسانی اور خلافِ اسلام ہونے کی واضح مثالیں ہیں۔
داعش نے تکفیر کے اسلامی تصور کا غلط استعمال کیا اور اپنے ہر مخالف کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنا پر مرتد قرار دیا۔ حالانکہ اسلام میں کسی مسلمان کو کافر کہنا ایک نہایت نازک فقہی مسئلہ ہے، جو صرف گہرے علمی غور و فکر اور شرعی اصولوں کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
قرآنِ مجید میں واضح ارشاد ہے:
’’إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَاكُمْ‘‘
ترجمہ: بے شک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔
لیکن داعش نے تقویٰ کا معیار صرف اپنی جماعت سے وفاداری اور تابعیت کو بنا لیا تھا۔
فکری اور فلسفیانہ تجزیے کے مطابق، داعش کا عدالتی نظام اسلام کے فکری اور اخلاقی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا، بلکہ یہ دراصل استعماری طاقتوں کا ایک سیاسی آلہ تھا، جس کے ذریعے درج ذیل مقاصد حاصل کیے جارہے تھے:
۱۔ اسلام کو ایک ظالمانہ، سخت اور غیر انسانی مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا۔
۲۔ مغربی نوجوانوں کو روحانی سکون اور سچائی کی تلاش سے روکنا۔
۳۔ اسلامی ممالک میں فوجی مداخلت کے لیے جواز فراہم کرنا۔
۴۔ امتِ مسلمہ کے درمیان تفرقہ اور خانہ جنگی پیدا کرنا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۷ء کے دوران، جب داعش اپنے عروج پر تھی، یورپی نوجوانوں میں اسلام کے مطالعے اور قبولیت کا رجحان نمایاں طور پر کم ہوا۔ یہی وہ مقصد تھا جس تک داعش کے منصوبہ ساز پہنچنا چاہتے تھے؛ یعنی مغربی نوجوانوں کو اسلام کے رحمت و انسانیت پر مبنی پیغام سے دور کرنا۔
حقیقی اسلام عدل، رحمت اور انصاف کا دین ہے۔ اسلامی شریعت کا عدالتی نظام ان اصولوں پر قائم ہے جو انسانی حقوق اور اجتماعی مفادات دونوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کی اصل روح اور عدل و انسانیت پر مبنی پیغام پیش کرے، تاکہ استعماری اور انسان دشمن منصوبے ناکام ہو جائیں۔




















































