تاریخِ اسلام ان تحریکوں اور گروہوں سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے امت مسلمہ کی اصلاح، رہنمائی اور نجات کا دعویٰ کیا، مگر ان میں سے اکثر تحریکیں امت کی رہنمائی کی بجائے خود بحران اور تباہی کا ذریعہ بن گئیں۔
اس سلسلے کی سب سے واضح اور بدنام مثال داعشی گروہ ہے، جو ایک طرح سے خوارج کی راہ کا تسلسل سمجھا جاتا ہے؛ وہ گروہ جو اسلام کی ابتدائی صدیوں میں دین کے دفاع اور امت کی اصلاح کے نعرے کے تحت غیر اسلامی اعمال انجام دیتا رہا۔ آج کے خوارج بھی دین کے نام اور امت کی نجات کے نعروں کے سائے میں، حقیقت میں اسلامی معاشروں پر تباہی اور بربادی مسلط کر رہے ہیں۔
خوارج پہلی بار صفین کی جنگ کے بعد تاریخ اسلام میں ابھرے۔ وہ خود کو حق کا مدافع سمجھتے تھے، مگر دین کی غلط تفسیر کی وجہ سے مسلمانوں کو دو گروہوں، حق اور باطل میں تقسیم کر دیا اور جو کوئی ان کے نظریے سے متفق نہ ہوتا، اسے تکفیر کر کے موت کی سزا سنائی جاتی تھی۔
اسلامی شریعت کی یہ سخت اور غلط تفسیر تشدد اور تفرقہ کی ایک نئی لہر لے آئی۔ داعشی گروہ اکیسویں صدی میں اسی خوارجی فکر کی ایک جدید شکل ہے؛ ایسا گروہ جو خود کو برحق خلافت کا حقدار سمجھتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ امت کی نجات کی واحد راہ ان کی پیروی ہے۔
داعش اگرچہ امت کی نجات کے نعرے کے تحت ابھری، مگر بہت جلد خود امت کے لیے دورِ حاضر کی سب سے بڑی مصیبت بن گئی؛ داعش کی مصیبتیں امت مسلمہ کے لیے وسیع اور گہری تھیں، جن کی کچھ اہم مثالیں اس تحریر میں بیان کی جائیں گی۔ وہ شہر اور بنیادی انفراسٹرکچر جہاں داعش خوارج نے قدم رکھا، شام، عراق اور دیگر علاقوں میں مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ہزاروں افراد بے گھر اور بے آسرا ہو گئے۔
داعش نے مختلف اسلامی جماعتوں کی تکفیر اور اقلیتوں پر حملوں کے ذریعے امت کی وحدت کو نشانہ بنایا۔ شیعہ اور سنی مسلمانوں، مختلف قوموں اور یہاں تک کہ مسلمان پڑوسیوں کے درمیان تعلقات اس گروہ کے تشدد کی وجہ سے شدید خراب ہوئے۔ ان اعمال نے بیرون ممالک کے لیے مداخلت کے دروازے کھول دیے اور وہ درزیں پیدا کیے جو نہ صرف سیاسی، بلکہ ثقافتی اور نفسیاتی نقصانات بھی آنے والی نسلوں تک پہنچائیں گے۔
اس کے علاوہ، داعش نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور شاندار پروپیگنڈہ کے ذریعے ایک پاکیزہ اور انصاف پر مبنی معاشرے کا جھوٹا منظر پیش کیا۔ اس دھوکہ باز پروپیگنڈہ نے بہت سے قابل اور حق کے متلاشی نوجوانوں کو دھوکہ دیا۔ ان نوجوانوں میں سے بہت سے امت کی نجات کے وعدوں کی امید میں خود کو ہلاکت کی راہ پر ڈال بیٹھے اور دنیا و آخرت دونوں ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ داعشی خوارج کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ امت کی نجات تشدد اور انتہا پسندی کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی۔ حقیقی اسلام امن، انصاف اور اعتدال کا دین ہے، اور ہر وہ کوشش جو مسخ شدہ ورژن کو مسلط کرنے کے ذریعے کی جائے، نہ صرف بے فائدہ ہے بلکہ خود امت کے لیے ایک نیا بحران جنم دیتی ہے۔




















































