قصاص کا قانون ایک حکیمانہ اور فطرت کے خالق کی طرف سے بنایا گیا قانون ہے۔ قصاص اسلام کے حدود اور سزاؤں کے اہم احکام میں سے ہے، جسے قرآن کریم نے معاشرے کی نجات اور زندگی کا سبب قرار دیا ہے۔ قصاص کے حکم کے نفاذ کا مقصد یہ ہے کہ بے جا اور غیر منصفانہ انتقام ختم ہو جائیں، اور مجرم کو عام لوگوں کو قتل کرنے یا زخمی کرنے کی جرات نہ ہو۔
یہ قانون ایک صحت مند، محفوظ اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ہے جس میں ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت اور باہمی ذمہ داریایوں کا لحاظ ہو۔ معاشرتی زندگی کے اہم ستونوں کی حفاظت کے لیے قصاص ایک الہی قانون ہے جو افراد کی زندگی کی حفاظت کے مقصد سے وضع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے خون کو بہت قیمتی اور محترم قرار دیا ہے۔ حجۃ الوداع کی خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے خون، مال اور عزت کو بیت اللہ کے حرمت کے برابر حرمت والا قرار دیا۔
عموماً قتل دو قسم کا ہے:
۱: قتلِ عمد
۲: قتلِ خطا
(البتہ فقہی اعتبار سے پانچ اقسام ہیں)
قتلِ عمد وہ ہے جس میں قاتل مکمل ارادے، منصوبے اور نیت کے ساتھ ایک انسان کو قتل کرے، اور قتل خطا وہ ہے جس میں ارادے کے بغیر غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا جائے۔
پہلی صورت میں قانون یہ ہے کہ قاتل کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا، یعنی قصاص۔ انسانوں کی اکثریت نے پوری تاریخ میں اسی قانون کی پیروی کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر وہ معاشرہ جس نے قصاص کا قانون نافذ کیا، وہاں انسان کا خون محترم رہا، اور ہر وہ معاشرہ جس نے قصاص کے قانون سے منہ موڑا، وہاں انسان کا خون پانی سے بھی سستا ہو گیا، معاشرہ بد نظمی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔
اسی انتشار کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قصاص کے قانون کو "حیات” کے طور پر نازل کیا۔
لغت میں قصاص کسی واقعہ کے اثرات کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں تاکہ اس کی اصل تک پہنچ سکیں، اور شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے کہ مجرم کو وہی سزا دی جائے جو اس نے دوسرے انسان کو نقصان پہنچایا ہو۔
قصاص ایک قدیم انسانی قانون ہے جو انسان کی ابتدائی نسلوں سے لے کر آج تک باقی ہے۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں کا رواج یہ تھا کہ اگر ان کی قبیلے کا ایک شخص قتل ہو جائے، تو وہ کوشش کرتے کہ قاتل کے پورے قبیلے کے لوگوں کو قتل کریں۔ کبھی کبھی ایک انسان کے بدلے ایک پورے قبیلے کو ختم کر دیتے۔ یہ حالت طویل جنگیں اور وحشت پیدا کرتی تھی۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے عدل کا قانون نازل کیا۔ اسلام نے قصاص کو ذاتی انتقام کی بجائے قانونی اور عدالتی فریم ورک میں داخل کیا۔
اسلام نے اجازت نہیں دی کہ لوگ سڑکوں اور بازاروں میں انتقام کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کریں۔ اسلام نے یہ کام قاضی، عدالت اور عدل کے فریم ورک تک محدود کر دیا۔ اسلام نے وہ غلط عرفی قوانین ختم کیے جن میں ایک انسان کے بدلے درجنوں انسان قتل کیے جاتے تھے۔ قرآن کریم نے سورۃ المائدہ، آیت ۴۵ میں فرمایا:
«وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ، وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ، وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ، وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ، وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ…»
آیت کا مفہوم اور مطلب یہ ہے کہ:
جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور زخم کے بدلے زخم ہے۔ اور اگر کوئی معاف کر دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ اگر تمہارا ایک شخص قتل ہوا ہو تو صرف قاتل سے قصاص لو، نہ اس کے گھرانے سے اور نہ قبیلے کے دیگر لوگوں سے۔ قصاص ایک ایسا منصفانہ قانون ہے کہ آج تک کوئی دوسرا قانون نہیں آیا جس کے نفاذ سے نہ مقتول کا گھرانہ ناراض ہو اور نہ مجرم کو غیر منصفانہ چھوڑ دیا جائے۔
قصاص عبرت کا قانون ہے کہ دوسرے لوگ قتل کی جرات نہ کریں، اور معاشرہ خونریزی سے بچایا جائے۔
اسلام ہر معاملے میں حقیقت کے پہلو دیکھتا ہے۔ انسانی خون کے معاملے میں مقتول کے وارثوں کا حق بھی عدل کے ساتھ محفوظ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قصاص کا اصل فلسفہ سورۃ البقرہ، آیت ۱۷۹ میں یوں بیان کیا:
«وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ»
یعنی:
"اے عقل والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، شاید تم پرہیزگار بن جاؤ۔”
یعنی قصاص کا ہدف قتل نہیں ہے، بلکہ معاشرے کی زندگی اور سلامتی ہے۔ قصاص فرد اور معاشرے کی زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔
کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قصاص ایک اور انسان کو ختم کر دیتا ہے، حالانکہ رحمت تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ کوئی انسان قتل نہ کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر رحم اچھا نہیں ہوتا۔ قاتل پر رحم کرنا دراصل بے گناہ لوگوں پر ظلم ہے۔ اگر قاتل کو چھوڑ دیا جائے تو کل وہ کسی اور کو قتل کرے گا، اور معاشرے میں قتل و غارت می تیزی آئے گی، تو دراصل قصاص انسانیت کے ساتھ دوستی ہے، نہ کہ دشمنی۔ ایک مجرم کو قتل کرنا درجنوں بے گناہ انسانوں کی زندگی بچاتا ہے۔ یہ موت نہیں بلکہ معاشرے کی زندگی ہے۔
پاک اور صحتمند معاشرہ دین، زندگی، مال، عزت، عقل اور دیگر بنیادی حقوق کی حفاظت پر قائم ہے۔ یہ وہ اصول ہیں جنہیں امت کے علما اور فقہا نے معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اسلام کی سزاؤں کا ہدف دینی اور معاشرتی نظام کی حفاظت ہے۔ یہ ہدف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اصلاح اور تربیت کی راہ سے یا سزا کے خوف سے ان کاموں سے باز رہے جو معاشرے کو انتشار کا شکار کرتے ہیں اور انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان اس ملک میں اسلام کے سیاسی نظام کی نمائندگی کرنے والا حاکم نظام ہے، اسی بنیاد پر اس کی شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ ناجائز قتل کی روک تھام، ظالم قاتلوں کی روک تھام اور انہیں عبرت ناک سزا دینے کے لیے قصاص کا حکم نافذ کرے۔ الحمد للہ، پچھلے چند سالوں میں ہم نے مختلف صوبوں میں قصاص کے نفاذ کے شاہد رہے ہیں، اور آج خوست صوبے میں بھی ایک قاتل کے بارے میں قصاص کا شرعی حکم نافذ ہوا۔
یہاں ایک اہم مسئلے کا ذکر ضروری ہے: کچھ لوگ (خاص طور پر داعش اور دیگر باغی) یہ بے جا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے حدود اور قصاص نافذ نہیں کرتی، لیکن آج کی واقعہ کے نفاذ نے ثابت کر دیا کہ یہ سب بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے ہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے قائدین، خاص طور پر عدلیہ، اس معاملے میں کسی کے دباؤ کو قبول نہیں کرتی اور نہ کسی کی دھمکی یا شرط پر شرعی سزاؤں کے نفاذ سے ہاتھ کھینچے گی۔
البتہ سمجھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت کے مطابق حدود اور قصاص کے نفاذ کے لیے خاص شرعی شرائط موجود ہیں۔ بسا اوقات یہی شرائط پوری نہیں ہوتیں، اسی وجہ سے بعض مقدمات میں قصاص نافذ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر: جرم کے ثبوت میں شرط یہ ہے کہ مجرم مجاز شرعی عدالت کے سامنے اپنی رضامندی سے، بغیر جبر اور اکراہ کے، اپنے جرم کا اقرار کرے، یا جرم کے بارے میں دو عادل گواہ تمام شرائط پوری کر کے عدالت میں گواہی پیش کریں۔
اس قسم کا شرعی ثبوت بہت مشکل ہے، اور درجنوں مقدمات میں بہت کم ایسے واقعات ہوتے ہیں جن میں قصاص کے نفاذ کی تمام شرعی شرائط پوری ہوں۔
دوسری طرف حدود اور قصاص کے بارے میں فقہی قاعدہ ہے کہ بالشبھات تُدرأ الحدود؛ یعنی معمولی شک کی صورت میں حد اور قصاص نافذ نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح، ایسے مقدمات میں جن کی سزا کا نتیجہ ایک انسان کی زندگی کا خاتمہ ہو، اس میں بہت احتیاط ضروری ہے۔ اسی وجہ سے قصاص کے واقعات کی تعداد کم نظر آتی ہے۔
اس کے علاوہ ہمارا معاشرہ ایک روایتی اور قبائلی معاشرہ ہے۔ بسا اوقات سفید ریش بزرگوں اور علما کی ثالثی کی برکت سے مقتول کی فیملی قاتل کو معاف کر دیتی ہے، جو قصاص کے نفاذ کی کمی کی ایک اہم وجہ ہے۔
تو مجموعی طور پر کوئی ایسی بات نہیں کہ امارت اسلامیہ نے شرعی سزاؤں کے معاملے میں کسی دباؤ کے سامنے سر جھکایا ہو، اور نہ اس نے کسی مادی مطالبات اور مفادات کی خاطر شریعت کے احکام میں کمزوری اور سستی کی ہو۔ امارت شرعی عدل کے نفاذ کے معاملے میں اپنا اسلامی موقف آخر تک برقرار رکھے گی، اور حدود اور قصاص کو شریعت کے قواعد کے مطابق اپنے مقام پر نافذ کرے گی۔




















































