جعلی دستاویزات کی تیاری کے ذرائع اور طریقے
جعلی دستاویزات، داعش اور اس جیسے نیٹ ورکس کے لیے مالی غبن، بینفٹ فراڈ اور شناخت کی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ دستاویزات مختلف طریقوں سے حاصل کی جاتی ہیں، کچھ براہِ راست مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے اور کچھ سائبر فراڈ کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان کی اہم حکمتِ عملیاں بیان کی گئی ہیں:
۱: دلالوں اور لیبارٹریوں کے ذریعے جعلی دستاویزات کی تیاری:
بہت سے یورپی اور ایشیائی ممالک میں ایسی “ٹکنیکل لیبارٹریز” اور جعل سازی کے نیٹ ورکس موجود ہیں جو دستاویزات میں ردوبدل، نقل یا نئی تیاری کرتے ہیں، اور درج ذیل طریقوں سے کام کرتے ہیں:
1- ماہر افراد پاسپورٹس، شناختی کارڈز اور رہائشی دستاویزات کی اعلیٰ معیار کی جعلی نقول تیار کرتے ہیں۔
2- اصل دستاویزات کی حفاظتی خصوصیات (ہولوگرام، بارکوڈ، چِپ) کی نقل کی جاتی ہے۔
3- خصوصاً ایسی دستاویزات بنائی جاتی ہیں جو سرکاری اسکینرز اور ابتدائی سیکیورٹی ٹیسٹوں سے گزر جائیں۔
4- یہ لیبارٹریز داعش نیٹ ورک کے لیے جعلی دستاویزات کا ایک بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔
۲: اسمگلرز کے نیٹ ورکس کے ذریعے:
انسانی اسمگلرز اور غیر قانونی سفر کے نیٹ ورکس جعلی دستاویزات کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن کے نمایاں طریقۂ کار درج ذیل ہیں:
1- اسمگلرز جعلی پاسپورٹس اور شناختی کارڈز کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
2- جو افراد یورپ غیر قانونی طور پر جانا چاہتے ہیں، وہ انہی نیٹ ورکس کے ذریعے جعلی شناختیں حاصل کرتے ہیں۔
3- بعد میں یہ اسمگل شدہ شناختیں داعش کی مالی کارروائیوں میں بینفٹ فراڈ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
4- بعض اسمگلرز دستاویزات کی منتقلی کے لیے خفیہ راستے رکھتے ہیں جن کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
۳: حقیقی افراد کی شناخت کی چوری (Identity Theft):
یہ طریقہ خاص طور پر سائبر جرائم میں اضافے کے ساتھ عام ہوا ہے اور درج ذیل انداز میں انجام دیا جاتا ہے:
1- لوگوں کی ذاتی معلومات ہیکنگ، ڈیٹا بیس لیکس یا لیک سائٹس کے ذریعے چرائی جاتی ہیں۔
2- یہ معلومات (نام، تاریخِ پیدائش، پتہ، قومی نمبر) جعلی دستاویزات بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
3- شناخت کا اصل مالک اس بات سے بے خبر رہتا ہے کہ اس کے نام پر سماجی امداد کی درخواست درج ہو چکی ہے۔
4- داعش بعض اوقات ان افراد کی شناخت چراتی ہے جو یورپ میں رہتے ہیں مگر متعلقہ نظاموں سے کم تعامل رکھتے ہیں۔
۴: لوگوں سے دستاویزات کے بدلے رقم دینا یا چوری کرنا:
جعلی تیاری کے علاوہ، داعش لوگوں سے اصل دستاویزات بھی حاصل کرتی ہے، کچھ رضاکارانہ طور پر، کچھ جبر سے اور کچھ رقم کے عوض۔ یہ عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے:
1- براہِ راست امداد لینے والے بعض افراد رقم کے بدلے اپنے کارڈز اور دستاویزات دے دیتے ہیں۔
2- بے گھر، منشیات کے عادی یا معاشی مشکلات کے شکار افراد چند سو یورو کے عوض اپنی دستاویزات فروخت کر دیتے ہیں۔
3- جیب تراشوں اور گھریلو چوروں کے ذریعے دستاویزات چرائی جاتی ہیں۔
4- بعد ازاں ان دستاویزات میں جعلی معلومات شامل کر کے امداد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
5- یہ طریقہ اس لیے مؤثر ہوتا ہے کہ دستاویزات اصل ہوتی ہیں اور ان کے پکڑے جانے کا امکان کم ہوتا ہے۔
نظام کے ناجائز استعمال کا طریقہ
جب جعلی دستاویزات، بدلی ہوئی شناختیں اور چوری شدہ معلومات مجرمانہ نیٹ ورکس کے ہاتھ لگتی ہیں تو سماجی امداد کا نظام باآسانی دھوکے کا شکار بن جاتا ہے۔ یہ عمل داعش کے مالی نیٹ ورکس کو ایک اہم اور مستقل ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ جعلی یا چوری شدہ دستاویزات کے ذریعے مجرم افراد مختلف شناختوں کے تحت امدادی پروگراموں میں خود کو رجسٹر کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ہی شخص بیک وقت کئی افراد (Multiple Identities) کے طور پر درج ہو جاتا ہے۔
ناجائز استعمال کیسے کیا جاتا ہے؟
۱- متعدد نام، متعدد درخواستیں:
دھوکے باز ایک نام کے تحت بے روزگاری الاؤنس لیتے ہیں، دوسرے نام سے خاندانی امداد میں خود کو رجسٹر کرتے ہیں، اور تیسرے نام کے تحت پناہ گزینی یا جنگی متاثرین کے لیے مخصوص امداد حاصل کرتے ہیں۔
۲- متعدد شناختوں کے نام پر امداد حاصل کرنا:
ایک شخص جعلی دستاویزات کے ذریعے کئی گنا فوائد حاصل کرتا ہے، دو مختلف شناختوں کے نام پر فوائد، تین مختلف ناموں کے تحت بے روزگاری اور خاندانی معاونت، حتیٰ کہ چار شناختوں تک رجسٹریشن، اور ہر ایک کے تحت الگ الگ امداد وصول کی جاتی ہے۔
یورپ کے متعدد کیسز میں ثابت ہو چکا ہے کہ ایک ہی شخص تین یا چار شناختیں استعمال کر کے ماہانہ دسیوں ہزار یورو حاصل کرتا ہے۔
۳- ریاستی نگرانی سے بچ نکلنا:
درج ذیل تین عوامل کے باعث یہ دھوکہ دہی اکثر نگرانی سے اوجھل رہتی ہے:
1- شناختیں مختلف شہروں اور ریاستوں میں رجسٹر کی جاتی ہیں۔
2- دستاویزات کی چِپس، بارکوڈز اور ڈیٹا بیسز میں جزوی تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔
3- مختلف ناموں کے لیے علیحدہ بینک اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جعلی دستاویزات کا معیار اتنا بلند ہوتا ہے کہ وہ اکثر انتظامی اہلکاروں یا خودکار نظاموں کے ابتدائی ٹیسٹوں سے گزر جاتی ہیں۔




















































