اسلام کے بابرکت دین میں مسلمانوں کا قتل، شرک اور کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ اور عظیم ترین جرم ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ بَعْدَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ» (الکبائر، ص 12)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے بعد سب سے بڑا کبیرہ گناہ اس جان کو قتل کرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، سوائے حق کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم الشان میں مؤمن کے قتل پر نہایت سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں، اور مؤمن کے قاتل کے لیے چار سخت سزائیں ذکر کی ہیں:
اوّل یہ کہ قاتل ہمیشہ (یا طویل مدت تک) جہنم میں رہے گا،
دوم یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا،
سوم یہ کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی،
چہارم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} (النساء: 93)
داعشی خوارج ابتدا ہی سے اس عظیم جرم میں آلودہ ہیں، اور اپنے اسلاف کی طرح مسلمانوں کا قتل ان کا مستقل اور دائمی عمل بن چکا ہے۔ دو دن قبل ایک مرتبہ پھر انہوں نے کابل کے علاقے شہرنو میں چینی مسلمانوں کے ایک ریسٹورنٹ پر حملہ کیا اور کئی مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ اس حملے نے داعش کے بارے میں کئی حقائق کو ایک بار پھر واضح کر دیا، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1- نام نہاد خلافت کا جھوٹ
داعشی خوارج اپنے دعوے کے برخلاف کوئی اسلامی خلافت نہیں ہیں جس سے دنیا کے تمام مسلمان، جہاں کہیں بھی ہوں، ولاء رکھتے ہوں۔ مذکورہ حملے میں چینی مسلمان شہری شہید کیے گئے۔ یہ کیسی اسلامی خلافت ہے کہ کسی کو صرف اس بنیاد پر قتل کیا جائے کہ تم چین سے تعلق رکھتے ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، کوئی فرق نہ رکھا جائے؟
داعشی خوارج اسلام کے اس بنیادی اور اصیل تصور سے بالکل ناواقف ہیں کہ کلمۂ توحید کی بنا پر انسان کا خون، خواہ وہ کسی بھی وطن یا علاقے سے ہو، حرام ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آقاؤں کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے چینی مسلمانوں کا خون بہا کر خود کو اللہ کے غضب، لعنت اور عظیم عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔
2- حدیثِ نبوی کی صریح تصدیق
داعشی خوارج کا یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے اس مبارک فرمان کی واضح تصدیق ہے:
«يَقْتُلُونَ أَهْلَ الإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الأَوْثَان» (بخاری)
ترجمہ: وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے۔
داعشی خوارج نے اپنی پوری سیاہ تاریخ میں اسرائیل کے خلاف قتل کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کفار کو مسلمانوں کے مقابلے میں سواں حصہ بھی نہیں مارا۔ ان کا اصل مشن اہلِ اسلام اور مسلمانوں کا قتل ہے۔
یہ لوگ صہیونی ریاست کے ان درندوں کو کیوں نہیں مارتے جو فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، مگر کابل کے ایک ہوٹل میں غریب اور بے گناہ چینی مسلمانوں کو قتل کر دیتے ہیں؟ یقیناً، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ان پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، اور قہار رب انہیں سخت عذاب دے گا۔ یہ ملعون اور مغضوب لوگ دنیا کے مستکبر اور ظالم طواغیت، جو درپردہ ان کے آقا ہیں، پر حملے کیوں نہیں کرتے اور انہیں کیوں نہیں مارتے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ داعش اسلام کے نام پر انسان کے بھیس میں درندے ہیں، جو مسلمان کے سوا کسی اور کو اپنا شکار نہیں سمجھتے۔
3- امت کے لیے نفع نہیں بلکہ نقصان
یہ حملہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ داعشی خوارج امت کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ اس کے نقصان کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ خود کو امت مسلمہ کا محافظ کہتے ہیں، تو اس حملے سے امت کا کونسا دفاع ہوا؟ کیا مسلمانوں کو قتل کر کے امت کی حفاظت کی جاتی ہے؟ کیا اس قتل کے ذریعے کفار کے قبضے سے کوئی اسلامی سرزمین آزاد کرائی گئی؟ ان بے گناہ مؤمنوں کے خون بہانے سے امت کو کون سا فائدہ حاصل ہوا؟
قاتلهم الله أنى يؤفكون!




















































