ہندوستان اور افغانستان کے غصب شدہ جغرافیہ میں کفار کی جانب سے پاکستان کے نام سے ایک بڑا اسلام دشمن کافرانہ منصوبہ گزشتہ تقریباً اسی برسوں سے سرگرم ہے، جس کی تمام سرگرمیاں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر امریکہ کی سرپرستی میں چلائی جاتی رہی ہیں۔ پاکستان بیسویں صدی کے پہلے نصف میں اس وقت وجود میں آیا جب برطانیہ ہندوستان میں شکست اور انخلا کے مرحلے سے گزر رہا تھا اور ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ایک اسلامی ریاست کے قیام کی خواہش موجود تھی۔
انگریزوں کو یہ اندیشہ تھا کہ ان کے انخلا کے بعد ہندوستان کے مسلمان برصغیر میں ایک حقیقی اسلامی ریاست اور نظام قائم نہ کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے مسلم لیگ کے بعض خفیہ سازشی عناصر کے ساتھ مل کر ایک سیاسی سازش کے ذریعے پاکستان کو اس مقصد سے وجود میں لائے کہ مسلمانوں کو ایک حقیقی اسلامی نظام سے دور رکھا جائے۔ اسی غرض سے ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ ایجاد کیا گیا، تاکہ اسلامی عقیدہ اور شناخت کے نام پر مسلمانوں کو ایک ایسے حقیقی اسلامی نظام سے محروم رکھا جائے جو دراصل قربانیوں، خون اور شہادتوں کے نتیجے میں قائم ہوتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے وقت بھی بہت سے علماء نے اس کے قیام کی مخالفت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے سیکولر رہنماؤں کے ہاتھوں اسلامی نظام اور مسلمانوں کی مکمل خودمختاری کے دعوے دراصل محض نعرے ہیں جن کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، کیونکہ مسلم لیگ کے اکثر رہنما سماجی اور سیاسی اعتبار سے سیکولر تھے۔
اس بات کی ایک واضح دلیل کہ پاکستانی رجیم کے پاس نہ حقیقی اسلامی مشروعیت ہے اور نہ ہی قومی جواز، یہ ہے کہ مسلم لیگ کے قائدین اور پاکستان کے بانی خصوصاً محمد علی جناح سیکولر نظریات کے حامی تھے۔ ایک سیکولر فکر رکھنے والا شخص کس طرح ایک مسلمان قوم کی حقیقی نمائندگی کرسکتا ہے؟ اور ایک سیکولر فکر سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کی بنیاد رکھے گا؟
پاکستانی رجیم اپنے قیام سے لے کر اسلامی ممالک پر امریکی فوجی یلغاروں تک پاکستان کے اندر اور عالمِ اسلام میں ایک ایسے رجیم کے طور پر جانی جاتی تھی جو بظاہر اسلامی اور مسلمانوں کا ہمدرد سمجھا جاتا تھا۔ مگر پاکستانی رجیم کی اسلام مخالف پالیسیوں، عالمِ اسلام میں مسلمانوں کے خلاف امریکی جارحیت سے براہِ راست تعاون، اندرونِ ملک قبائلی علاقوں پر وحشیانہ بمباری، مساجد اور دینی مدارس کی تباہی، علمائے کرام کی شہادتیں اور اب بے گناہ مسلمانوں کے قتل، گرفتاریوں اور اسلامی شعائر کی توہین کا ناقابلِ برداشت سلسلہ؛ ان سب نے پاکستانی رجیم کی حقیقت ہر مسلمان پر واضح کر دی ہے۔
اگرچہ پاکستانی رجیم اپنے قیام ہی سے ساخت کے اعتبار سے ایک سیکولر رجیم تھا، تاہم خطے کے مسلم عوام کے عقیدہ، دین اور اقدار کے حوالے سے نسبتاً محتاط اور نرم رویہ رکھتا تھا، اور سکیورٹی کے لحاظ سے بھی آج کے مقابلے میں کسی حد تک پُرامن ملک سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جب اس خطے میں پاکستانی رجیم کے سرپرستوں یعنی امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ مفادات کو عملی جامہ پہنانے اور یہاں سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت پیش آئی تو امریکی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی رجیم کی پالیسیوں کا رخ بھی اسی سمت میں موڑ دیا گیا۔ یہی گہری سیاسی تبدیلی تاریخی، جغرافیائی، عقیدتی اور ثقافتی حقائق کے برعکس پاکستان کے اندر موجود تمام مسائل کی بنیادی جڑ بن گئی۔
پاکستانی رجیم ہمیشہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور ان کی مدد کرتی رہی ہے۔ کفار کے اشارے پر مسلمانوں کا خون بہایا گیا، مسلمانوں کے وطن اور گھروں کو تباہ کیا گیا۔ پاکستانی رجیم کی خفیہ ایجنسیوں کے امریکہ کی CIA اور اسرائیل کی MOSSAD کے ساتھ طویل عرصے سے گہرے اور ناقابلِ انقطاع روابط قائم ہیں، اور افرادی تربیت، معلومات کے تبادلے اور ہر طرح کے تعاون میں ایک دوسرے کی مدد کی جاتی رہی ہے اور کی جا رہی ہے۔
پاکستانی رجیم کی حقیقت جاننے کے لیے تاریخی کتابوں کی کھوج کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس ریاست کی عمر ابھی صرف آٹھ دہائیاں ہے اور اس کے تمام اعمال مسلمانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور سنے ہیں۔ تاہم اس کھلی حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لیے چند مثالیں قارئین کے سامنے پیش کی جاتی ہیں:
۲۰۰۱ء میں افغانستان پر امریکی حملہ:
جب سوویت یلغار کو پسپا کرنے کے بعد اسلام کے حقیقی سپاہیوں نے افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے عنوان سے ایک حقیقی اسلامی نظام قائم کیا تو وہ پوری اسلامی دنیا میں مسلمانوں کی بیداری اور اجتماع کا آخری مرکز اور امید بن گیا۔ دنیا بھر کے مسلمان جو کئی برسوں سے مکمل اسلامی نظام کی برکتوں سے محروم تھے، اس مرتبہ انہوں نے اللہ جلّ جلالہ کی اس عظیم نعمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کے اندر اپنے اپنے ممالک میں اسلامی نظام قائم کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ شعوری طور پر کفار کے ناپاک تسلط سے نجات حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے لگے۔
امریکہ، جس نے مسلمانوں کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر رکھا تھا اور ان خطوں کے قدرتی وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا، مسلمانوں پر امارتِ اسلامیہ کے مثبت اور فطری اثرات کو اپنے مفادات اور تسلط کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھتا تھا۔ چنانچہ امریکہ نے سب سے پہلے امارتِ اسلامیہ پر سخت پابندیاں عائد کیں اور اپنے وسیع پروپیگنڈا نظام کو امارت کو کمزور اور بدنام کرنے کے لیے سرگرم کر دیا۔ اس کے بعد اس نے امارت کے پڑوس میں قائم اپنے ایک کٹھ پتلی رجیم کے ذریعے افغانستان پر حملہ کیا، اسلامی نظام کو گرا دیا اور مسلمانوں کو ایک عظیم نعمت سے محروم کردیا۔
پاکستانی رجیم نے اپنی فضائی حدود اور ہوائی اڈے امریکہ کے اختیار میں دے دیے۔ ایک مشہور سروے، جس کا ذکر آج کل عام زبانوں پر ہے، کے مطابق پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر تقریباً ستاون ہزار فضائی حملے کیے گئے۔ اسی طرح پاکستانی حکومت کے انٹیلیجنس نیٹ ورک نے امارت کے سینکڑوں مجاہدین کو زندہ گرفتار کر کے چند ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کر دیا۔ امارتِ اسلامیہ کے سفیروں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، درجنوں قائدین کو شہید کر دیا گیا اور بعض رہنما تو آج تک لاپتہ ہیں۔
مزید برآں، پاکستانی انٹیلیجنس کے افسران نے امریکیوں کو افغانستان کے اندر مختلف راستوں، اسلحہ کے ذخائر اور اسٹریٹجک مقامات کی نشاندہی کی، جس کے نتیجے میں ان مقامات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
اسی طرح امریکی قبضے کے آخری دن تک پاکستان کی سڑکیں امریکی افواج کے اسلحہ اور جنگی سامان کی ترسیل کے لیے ایک محفوظ راستہ بنی رہیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر پاکستانی رجیم نے امریکہ کی مدد نہ کی ہوتی تو امریکی فوجی کبھی بھی افغانستان کی سرزمین پر قدم نہ رکھ پاتے۔ افغانستان میں اسلامی نظام کے خاتمے اور بیس سال تک افغانوں کے معصوم خون کے بہائے جانے کا بنیادی ذمہ دار پاکستانی رجیم ہی ہے۔
اسی کے علاوہ پاکستانی حکومت کی تاریخ مسلمانوں کے قتل و ستم کے واقعات سے بھی بھری ہوئی ہے۔ ستر کی دہائی میں جب فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری تھی تو اس دوران اردن کے امریکہ نواز حکمرانوں نے فلسطینی مہاجرین کے خلاف نہایت وحشیانہ فوجی کارروائیاں کیں، جن میں پینتیس ہزار(۳۵،۰۰۰) سے زیادہ مظلوم فلسطینی مسلمان مہاجرین کو انتہائی ظلم و بربریت کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ ان کارروائیوں کی قیادت پاکستانی رجیم کے ایک بریگیڈ کے پاس تھی جس کے سربراہ بریگیڈیئر ضیاء الحق تھے۔ بعد ازاں ضیاء الحق پاکستانی رجیم کے سربراہ بھی بنے۔
پاکستانی رجیم کے مطالعے سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس نظام میں اکثر وہی افراد آگے لائے جاتے ہیں جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوتے ہیں، جو مسلمانوں کے مقابلے میں سخت دل اور بے رحم ہوں، کفار کے وفادار اور ان کے احکام کے تابع ہوں، اور جن کے ماضی میں ظلم و ناانصافی اور قتل و غارت کی تاریخ موجود ہو۔
۱۹۷۱ء میں پاکستانی رجیم کے مظالم اور بنگال کی آزادی:
۱۹۴۷ء سے لے کر ۱۹۷۱ء تک پاکستان کی موجودہ جغرافیائی حدود کے علاوہ مشرق کی جانب ایک دور دراز خطہ بھی اس کا حصہ تھا جسے بنگال کہا جاتا تھا اور جہاں کی اکثریت مسلمان آبادی پر مشتمل تھی۔ لیکن ابتدا ہی سے پاکستانی رجیم کے مظالم اور غلط پالیسیوں نے بنگال کے مسلمانوں میں اس نظام کے خلاف نفرت اور آزادی کی خواہش کو جنم دیا۔
شیخ مجیب الرحمن کی قیادت میں بنگال کے مسلمان پُرامن انداز میں پاکستانی رجیم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے رہے، مگر یہ نااہل، عوامی حمایت سے محروم اور اقدار سے خالی رجیم ہمیشہ خطے کے مسلمانوں کی ہر جائز آواز کو بغاوت قرار دیتا رہا اور ان مطالبات کا جواب قتل و غارت، تشدد اور قید و بند کی صورت میں دیا گیا۔
آخرکار بنگال کے مسلمانوں نے پاکستانی رجیم کے مظالم کے خلاف بغاوت کر دی۔ پاکستانی رجیم نے بنگال پر مسلسل شدید بمباری کی، مگر سخت مزاحمت کے بعد پاکستانی رجیم کے ہزاروں بزدل سپاہی بنگال کے مسلمانوں کے ہاتھوں قیدی بن گئے اور بہت سے مارے گئے۔ اس طرح پاکستانی رجیم کو ایک شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بنگال کے مسلمانوں نے بنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک قائم کرلیا۔
پاکستانی رجیم کے بے شمار مظالم کو ایک مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں: حق پرست علماء کا قتل، قومی رہنماؤں کا قتل اور لاپتہ کرنا، عوام کا انفرادی یا اجتماعی قتل، پرامن احتجاجوں پر گولی چلانا؛ یہ سب پاکستانی رجیم کے روزمرہ کے اعمال ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے پاکستانی رجیم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
پاکستانی رجیم کے ایمان فروش علماء، بے ضمیر سیاستدان اور کرایہ دار قاتل فوجی سب مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور مسلمانوں کے گزشتہ اسی برسوں کے خون اور زخموں کے ذمہ دار ہیں۔ اگر فوج مسلمانوں کا خون بہانے والی ہے، تو علما اور سیاستدان اسے اجازت دینے والے، اسے سہارا دینے والے اور مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے والے ہیں۔ یہ سب مل کر اس اسلام دشمن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں شریک کار ہیں۔
پاکستانی رجیم اس وقت پچھلے اسی برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ خطرناک اور چیلنجنگ مرحلے میں ہے۔ اندرونی سیاسی بحران عروج پر ہے، فوج عوامی تحریکوں کے سامنے مسلسل ناکامیوں کا شکار ہے، مورال اور حوصلہ ختم ہو چکا ہے، عالمی سطح پر غیر معتبر ہے، شدید اقتصادی بحران میں گرفتار ہے اور فوج اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل نہیں رہی۔ اسلام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے عوام نالاں اور بیدار ہو چکے ہیں۔ عوامی تحریکیں دن بہ دن مضبوط اور ترقی کرتی جا رہی ہیں۔ تمام عوامی تحریکیں اور مجاہدین کو چاہیے کہ پاکستانی رجیم کے خلاف ایک متحد قیادت اور ماحول قائم کریں اور اس فرعونی نظام کو اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں سنگین دھچکے دیں۔
پاکستانی رجیم کے خلاف جنگ اسلام کے نظر میں ایک مقدس، پاکیزہ اور اللہ جل جلالہ کی رضا حاصل کرنے والی جدوجہد ہے۔ جو شخص پاکستانی رجیم کے خلاف جدوجہد سے پیچھے ہٹتا ہے، وہ یا تو وہ شخص ہے جو پاکستانی حکومت کے مسلمانوں کے خون بہانے کے خلاف دشمنوں کی طرف سے آنے والی رقم کھاتا ہے، یا وہ ان نادان لوگوں میں شامل ہے جو ہاتھی کے کان میں سوئے ہوئے ہیں اور حق و باطل کو پہچاننے سے عاجز ہیں۔
پاکستانی فوجی رجیم کی فرعونی اور اسلام مخالف کارروائیاں ان ایمان فروش، نام نہاد اور بے وجدان علماء کی جانب سے دین کو تحریف کرنے کی کوششوں سے کبھی جائز ثابت نہیں کی جا سکتیں۔ پاکستانی رجیم کے فرعونی ظلم و ستم کے خوف سے جو عوامی تحریکیں اپنے اسلامی عقیدے، شناخت اور ثقافت کے تحفظ کے لیے ابھری ہیں، انہیں اپنی فتویٰ بازیوں سے بدنام یا ناکام نہیں بنایا جا سکتا۔ ہر باہوش، باشعور اور پاک وجدان رکھنے والا مسلمان پاکستانی رجیم کے خلاف مقدس جنگ و جہاد کو اپنی زندگی کی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔




















































