افغانستان کے ساتھ پاکستان کی جنگ میں پاکستان کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ وہ عقیدے پر قائم سپاہیوں کے مقابلے میں برسرِ پیکار ہے، جبکہ پاکستانی فوجی صرف مادی مفادات کے لیے لڑتے ہیں۔ پاکستان کا ہر وہ فوجی جو افغانستان کے خلاف لڑ رہا ہے، اسے پاکستانی جرنیل کوئی حقیقی جذبہ نہیں دے سکتے۔ آخر پاکستانی فوجی کس نیت سے لڑے؟
کیا یہ کافروں کے خلاف جنگ ہے؟ ہر پاکستانی فوجی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ افغانستان کے سپاہی ہر لحاظ سے ان سے بہتر مسلمان ہیں اور اسلام کے پابند ہیں۔
کیا یہ وطن کے دفاع کی جنگ ہے؟ یہ دفاعِ وطن بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ حملہ پاکستان نے کیا ہے۔ وہ حملہ آور فوج ہیں اور مسلمانوں پر جارحیت کر رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے معتبر علماء بھی خاموش ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی جرنیلوں نے ایک ناجائز جنگ اور جارحیت کا آغاز کیا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں جب بھی جنگ ہوئی، تمام علماء نے متفقہ طور پر جہاد کا فتویٰ دیا، لیکن اس بار پاکستانی جرنیلوں کی بہت کوششوں کے باوجود علماء فتویٰ دینے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ آخرکار وہ مجبور ہوئے کہ چند گنے چنے افراد کو کرائے پر لیں۔ انہوں نے بھی بغیر کسی وضاحت اور دلیل کے آنکھیں بند کرکے فتویٰ دے دیا۔ ہر پاکستانی شہری یہ بات سمجھتا ہے کہ لاکھوں علماء کی موجودگی میں صرف چند افراد کیوں سامنے آئے اور انہوں نے بھی بغیر دلیل کے ایک کمزور فتویٰ دیا۔
اس کے برعکس افغانستان کا ہر سپاہی جانتا ہے کہ اس پر جارحیت ہوئی ہے، اور اپنے وطن اور اپنی جان کا دفاع اس کا قانونی اور شرعی حق ہے، جبکہ اسلامی نظام کی حفاظت اس پر فرض ہے۔ اگر وہ اس راستے میں مارا جائے تو پاکیزہ شہید ہے، اور اگر دشمن کو مارے تو اللہ تعالیٰ اسے اجر عطا کرتا ہے۔ افغانستان کا ہر سپاہی جانتا ہے کہ وہ انگریزی قانون کے مقابلے میں شریعت اور اسلامی نظام کا دفاع کر رہا ہے، اور ایسے لوگوں کے خلاف لڑ رہا ہے جو اسلام اور اس کی شعائر کے دشمن ہیں۔ افغانستان کا ہر سپاہی یہ بھی جانتا ہے کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے قرآن کریم، شہید کیے گئے مدارس، شہید بچوں اور خواتین کی حمیت میں اٹھے ہیں، کیونکہ یہی شریعت اور انسانیت کا تقاضہ ہے۔
تاریخ میں جب بھی مادیت اور عقیدے کے درمیان جنگ ہوئی ہے، انجام میں عقیدہ ہی غالب آیا ہے۔
ایک طرف پاکستانی فوجی ہیں جو صرف تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں، اور دوسری طرف افغان سپاہی ہیں جو شہادت کے لیے لڑتے ہیں۔ پاکستانی جرنیل پہلی بار ایسے لوگوں سے ٹکرا رہے ہیں جو زندگی سے زیادہ موت کو پسند کرتے ہیں، ایسے لوگ جو نہ ٹیکنالوجی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی وسائل کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، نہ عہدے کے طلبگار ہیں اور نہ ہی مال کے، بلکہ صرف شہادت کے طلبگار ہیں۔
وہ ایسی قوم سے الجھے ہیں جسے موت کی کوئی پروا نہیں، اگر ایک کو مارا جائے تو دس اور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو دشمن کو شکست دینے کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں اور کسی دشمن سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ وہ جنگ میں شہادت یا غازی بننے کی نیت سے اترتے ہیں۔ وہ کبھی جنگ سے نہیں تھکتے، ان میں بے پناہ صبر اور حوصلہ ہوتا ہے، اور بھوک، پیاس اور سختی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔
وہ لوگ جن کے مقابل پوری دنیا مال و قوت کے ساتھ آئی، لیکن انہیں جھکا نہ سکی، بلکہ دنیا خود ان کے سامنے جھک گئی۔ جو لوگ دنیا کی سپر پاور سے نہیں ہارے، پاکستانی جرنیل کیا سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں چند کرائے کے فوجیوں کے ذریعے شکست دے سکتے ہیں؟
ہاں، اس بار پاکستانی جرنیل ایسی جگہ پھنس گئے ہیں جہاں مخالف نہ صرف جنگ کا حوصلہ رکھتے ہیں بلکہ مکمل تیاری بھی رکھتے ہیں۔
پاکستانی جرنیلوں کی گمراہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ وہ افغانوں سے مزید نہیں الجھیں گی، مگر یہ خود اس میں الجھ گئے ہیں۔ پاکستانی جرنیل سمجھتے ہیں کہ یہ چند مہینوں یا ہفتوں کی جنگ ہوگی، لیکن وہ نہیں جانتے کہ افغان قوم ہفتوں اور مہینوں کی لڑائی کو جنگ ہی نہیں سمجھتی۔ افغان ہمیشہ جنگ کے لیے برسوں کی تیاری کرتے ہیں، اور انہوں نے اکثر جنگیں خالی ہاتھ جیتی ہیں۔
افغانستان کی تاریخ میں جب بھی افغانوں نے جنگیں لڑی ہیں اور جیتی ہیں، تو وہ بغیر وسائل کے ایمان، صبر، برداشت اور حوصلے کے بل بوتے پر جیتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستانی جرنیل اپنی پوری تاریخ میں طویل جنگ کی ہمت نہیں رکھتے، نہ ہی وہ اس کے لیے فوج تیار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا ہر فوجی جو طویل جنگ کے لیے محاذ پر آتا ہے، زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کرتا ہے، جو پاکستانی جرنیلوں کی بدعنوانی کے باعث ممکن نہیں۔
خلاصہ یہ کہ افغانستان کے ساتھ پاکستانی جرنیلوں کا الجھنا، جبکہ اس کے لیے نہ کوئی شرعی اور نہ قانونی جواز موجود ہے، نہ ہی وہ اپنے فوجیوں کو کوئی مؤثر جذبہ دے سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنے عوام اور سیاستدانوں کو کوئی تسلی بخش جواب دے سکتے ہیں، پاکستانی جرنیلوں اور فوجی رجیم کے زوال کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے، جسے بہت جلد پوری دنیا دیکھے گی۔




















































