اگر ہم تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بعض ریاستوں کا وجود صرف اپنے عوام کے تحفظ کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہ بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے، ان کے مفادات کی حفاظت کرنے اور عالمی سیاست کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم بھی اسی منطق پر قائم ہے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک اس رجیم نے صرف اپنی حکمرانی کے تسلسل کے لیے بے رحمی کا راستہ اختیار کیا ہے، اور بلوچستان اس درندگی کی زندہ مثال ہے۔
بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور وہاں کے عوام کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ پاکستانی فوج کے قبضے کے تحت مظلومیت کی داستان بن چکا ہے۔ اس کے شہر ٹینکوں تلے روندے گئے، گھروں کو بمباری سے مسمار کیا گیا، اور لوگوں کے دل خوف کے سائے میں قید ہو کر رہ گئے۔ اس رجیم کی کارروائیاں عوام کی جانوں کی قیمت پر انجام دی گئیں، لیکن ان کا جواز ہمیشہ ایک ہی رہا: دنیا کی نظروں میں (استحکام) کا تاثر دینا اور اپنی حکمرانی کے دوام کے لیے بیرونی طاقتوں کی رضا حاصل کرنا۔
اسی طرح اسرائیل نے بھی فلسطین میں یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے۔ گھروں کو مسمار کرنا، بچوں کو قتل کرنا، لوگوں کو بے گھر کرنا، اور عالمی برادری کے سامنے (سلامتی) اور (دفاع) کے نام پر اپنے وجود کو جائز ثابت کرنا؛ یہ سب جدید قبضے کے اسی منطق کا حصہ ہیں۔ فرق صرف جغرافیے کا ہے، اصولوں کا نہیں۔ دونوں نظام طاقت، جبر اور مظلوم کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔
تاہم، تجزیاتی نقطۂ نظر سے یہ دونوں معاملات صرف بندوق، بم اور محاصرے تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قابض قوتیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی حمایت کی محتاج ہوتی ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات کا نگہبان ہے، جبکہ اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کے مظالم محض زمین پر قبضے کے لیے نہیں، بلکہ سیاسی اور معاشی حکمتِ عملیوں کے نفاذ کے لیے ہیں، جن کے نتیجے میں مظلوم اقوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتی ہیں۔
لیکن تاریخ ہمیشہ مظلوم قوموں کی آواز کو محفوظ رکھتی آئی ہے۔ بلوچستان نے بھی اپنے مزاحمت کی صدا بلند کی ہے؛ اس کے پہاڑ ظلم کے خلاف نعروں سے گونج اٹھے ہیں اور اس کے عوام نے اپنی آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا عہد کر رکھا ہے۔ فلسطین بھی اسی استقامت اور مزاحمت کی روشن مثال ہے۔ اگرچہ وہ توپوں اور بموں کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، لیکن مظلوم کے دل کا حوصلہ ہر بم اور ہر ظلم سے کہیں بلند ہے۔ یہ دونوں قضیے ہمیں ایک بڑا اور ہمہ جہت سبق دیتے ہیں: قابض قوتیں چاہے کتنی ہی بڑی اور ظالم کیوں نہ ہوں، عوام کے عزم اور حق کی صدا کے سامنے کمزور ہوتی ہیں۔ ظلم عارضی ہے اور مزاحمت دائمی۔
تاریخ کے ہر ورق سے یہ سبق ملتا ہے کہ آزادی انسان کی فطرت ہے، اور کوئی طاقت، کوئی سیاست اور کوئی قبضہ کسی قوم کے ارادے کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتا۔ پاکستانی فوجی نظام اور اسرائیل ایک دوسرے کا عکس ہیں؛ دونوں جبر، قبضے اور مظلوم کے حقوق کی پامالی کی علامت ہیں، اور دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ کی مانند ہیں: ایک رخ طاقت کی نمائش کرتا ہے، جبکہ دوسرا ظلم و بربریت کی داستان رقم کرتا ہے۔ تاہم اسی تاریخ کی گہرائیوں میں مزاحمت اور آزادی کی روشنی بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہے، جو بالآخر ظلم کے ہر تخت کو لرزا دیتی ہے اور مظلوم قوموں کے حقوق کو سورج کی طرح نمایاں کر دیتی ہے۔




















































