تاریخ امتوں کے ضمیر کی زندہ کتاب ہے۔ دنیا میں وہ ہر قوم، جسے وقت کے سچے، باعمل اور حق پر قائم علماء کی رہنمائی حاصل رہی، کبھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی نہیں گئی؛ بلکہ ہمیشہ آزادی کی نعمت سے بہرہ مند رہی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امتوں کے درمیان سب سے بلند اور معزز مقام علماء کا ہے، کیونکہ وہ دین کے وارث ہوتے ہیں اور حق و باطل میں امتیاز قائم کرنا انہی کی عظیم ذمہ داری ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو قوموں کو فکری اور جسمانی غلامی سے نجات دلاتے ہیں اور انہیں آزاد فکر اور وقار کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
امتِ مسلمہ اسی وقت عزت، وقار اور روشنی پاتی ہے جب علم زندہ ہو اور علماء کو حق کہنے کا حوصلہ حاصل ہو۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب علم خاموش ہو جائے اور حق کی زبان بند کر دی جائے تو باطل نہ صرف سر اٹھاتا ہے بلکہ حق کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آتا ہے۔ یہ سب سے خطرناک صورتِ حال ہے: جب باطل، علم کے سائے میں پروان چڑھے۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ آج اسلام کو کمزور کرنے کے لیے مختلف فکری اور سیاسی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
۱- اسلامی سیاست کے نام پر انحرافات۔
۲- مصلحت کے عنوان سے حق کی تحریف۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ دونوں پروگرام بعض علماء کے ذریعے امت میں نافذ کیے جا رہے ہیں، اور آپ (اے پاکستان کے علماء) نادانستہ طور پر اسی عمل کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسلامی سیاست یہ نہیں کہ ہم اسے صرف کتابوں میں پڑھیں یا اس پر ضخیم جلدیں لکھ کر خود کو سیاسی مفکر ثابت کریں؛ بلکہ اسلامی سیاست وہ ہے جو عالمی سازشوں کے مقابل عملی میدان میں ڈٹ جائے اور امت کو کفار کی سیاسی چالوں سے محفوظ رکھے۔
اگر ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے دین کی حفاظت کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مصائب جھیلے اور حتیٰ کہ جامِ شہادت نوش کیا، مگر حق کہنے سے کبھی دستبردار نہ ہوئے۔ انہوں نے کبھی مصلحت کے نام پر حق کا سودا نہیں کیا، بلکہ شریعت کی بقا کے لیے ہر چیز قربان کر دی۔ یہی وہ راستہ تھا جس نے انہیں تاریخ کے صفحات میں عزت و وقار کے ساتھ ثبت کیا اور اسلامی سیاسی مفکرین کے طور پر متعارف کرایا۔
تو پھر آج کیوں آپ مصلحت اور سیاست کے نام پر جمہوریت کے جھولے میں جھول رہے ہیں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلیں، مصلحت کے نام پر حق گوئی سے دستبردار نہ ہوں، اور امت کی رہنمائی کی ذمہ داری کو جرات کے ساتھ ادا کریں۔
تاریخ آپ کی خاموشی کو بھی محفوظ کرے گی اور آپ کے موقف کو بھی؛ اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ حق کے ساتھ کھڑے ہوں، تاکہ آنے والی نسلیں آپ کو عزت سے یاد کریں، نہ کہ ملامت کے ساتھ۔ کیونکہ اصولاً کہا جاتا ہے: ”درء المفاسد مقدم علی جلب المصالح“یعنی ضرر کو دور کرنا منفعت کے حصول پر مقدم ہے۔ لہٰذا اگر کوئی مصلحت حق کو چھپانے کا سبب بنے تو وہ مصلحت نہیں بلکہ نقصان ہے۔
حق کے نام پر باطل کی ترویج:
پاکستان کی سرزمین اور اس کے مسلمان عوام قابلِ احترام ہیں، اور ان کی تحسین بجا ہے۔ اسی طرح یہاں کے علماء کی دینی خدمات بھی قابلِ قدر ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ پاکستان کی تعریف کے عنوان کے تحت مجرمانہ عناصر کی حمایت کس شرعی دلیل پر کرتے ہیں؟ ان کی تعریف کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟ ان کی کن کامیابیوں کے باعث پاکستان کو درخشندگی نصیب ہوئی؟
کیا پاکستان کے نظام میں وہ مخصوص حلقہ، جس کی قیادت آج کل عاصم منیر کے ہاتھ میں ہے، کن اعمال کی بنا پر تعریف کے لائق ہے؟ انہوں نے کن کارناموں کے ذریعے پاکستان کو روشن کیا؟ یہ تمام وہ سوالات ہیں جن کے جوابات تاریخ نے خود محفوظ کر لیے ہیں:
۱۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ غزہ کے خلاف عسکری تعاون قبول کیا۔
۲۔ کیا اسی مخصوص حلقے نے افغانستان میں قائم اسلامی نظام کے خاتمے کے لیے نیٹو کو اپنی زمین اور فضائی حدود فراہم نہیں کیں، اور موجودہ اسلامی نظام کو گرانے میں کردار ادا نہیں کیا؟
۳۔ کیا اسی حلقے نے ہمارے درجنوں ایسے رہنماؤں کو، جو اسلامی علوم میں نمایاں مقام رکھتے تھے، عالمی کفری اتحاد کی مخالفت کے الزام میں جبراً لاپتہ نہیں کیا؟
۴۔ اگر آپ کے نزدیک ہماری جانوں کی کوئی قدر نہیں، تو کم از کم لال مسجد کے بے گناہ طلبہ کے خون اور ان پر ہونے والے ظلم کو ہی یاد کر لیں! اپنی بہن عافیہ صدیقی کو یاد کریں، جنہیں پچاس ہزار ڈالر کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ شہید شیخ نصیب خان (تقبله الله) کے چھلنی سینے کو یاد کریں!
کیا آپ کو جامعہ حقانیہ کے مہتمم مولانا سمیع الحق کی مظلومانہ شہادت پر حیا نہیں آتی؟ اور ان کے فرزند مولانا حامد الحق کے ٹکڑے ٹکڑے جسم پر بھی کوئی احساس نہیں ہوتا؟
۵۔ اگر ماضی کی یہ سب باتیں بھلا دی گئی ہیں، تو کم از کم آنکھوں دیکھی حقیقت سے کیوں انکار کرتے ہیں؟ افغانوں نے دوسری مرتبہ اپنا سابقہ اسلامی نظام کس طرح قائم کیا؛ آپ اس کے بہترین گواہ ہیں!
مگر اسی حاکم مخصوص حلقے نے ایک بار پھر امریکہ کے مفادات کے لیے اسلامی نظام کے خلاف جنگ چھیڑی، افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، مختلف صوبوں میں بے گناہ بچوں اور بڑوں کا خون بہایا، اور ”امید“ کیمپ پر حملے میں چار سو سے زائد نشے کے عادی مریضوں کو شہید کیا؛ ایسا ظلم دنیا کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔
اے پاکستان کے مقتدا علماء کرام!
میں آپ سے مخاطب ہوں کہ مذکورہ جرائم کے باوجود، عاصم منیر کی قیادت میں اس مخصوص حلقے نے پاکستان کو بدنام کیا، تاریخ کے صفحات پر قوم کے لیے بے شمار طعنے چھوڑے، اپنے اسلاف کے خوابوں کو خاک میں ملا دیا، علماء کو قید کیا، انہیں شہید اور زخمی کیا؛ لہٰذا بیدار ہو جائیے! اس مارشل نے پاکستان کے نام کو روشن نہیں کیا، بلکہ اسے غلامی کے میدان میں اس طرح نمایاں کیا کہ خود غلامی بھی اس پر شرمندہ ہو۔
اے پاکستان کے علماء کرام! غور کیجیے!
ہر زمانے میں علماء کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے۔ کبھی یہ آزمائش فقر کی صورت میں ہوتی ہے، کبھی ظلم کی شکل میں، اور کبھی اقتدار اور قربت کی صورت میں۔ مگر سب سے سخت آزمائش وہ ہے جب ایک عالم، حق کہنے کے بجائے خاموشی یا مصلحت کا راستہ اختیار کر لے۔ قرآنِ کریم علماء کی خاموشی کے بارے میں ایک نہایت گہرا اور دردناک سوال اٹھاتا ہے:
﴿لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ﴾
ترجمہ: ربانی علماء اور احبار انہیں گناہ کی باتیں کرنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟
یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک الٰہی تنبیہ ہے جو علماء کی خاموشی کا محاسبہ کرتی ہے؛ کیونکہ علماء کا سکوت غیر جانب داری نہیں ہوتا، بلکہ: یہ باطل کے لیے فضا ہموار کرنا ہے، ظالم کو تقویت دینا ہے، امت کی گمراہی کی ابتدا ہے اور ظالم کی تائید کے مترادف ہے۔
محترم علماء حضرات! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ﴾
رکون صرف یہ نہیں کہ انسان ظالم کے ساتھ کھڑا ہو جائے؛ بلکہ یہ بھی رکون ہے کہ:
ظالم کی تعریف کی جائے، اس کے ظلم کو جواز دیا جائے، اس کے ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے یا باطل کو دین کا لبادہ پہنا دیا جائے۔
یہ وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ایک عالم صفِ حق سے نکل کر غیر محسوس انداز میں صفِ باطل میں شامل ہو جاتا ہے۔
ربّانی علماء وہ ہوتے ہیں جن کا علم عمل سے جڑا ہوا ہو، جن کے لیے دنیا دین کے تابع ہو، اور جن کے نزدیک حق ہر چیز پر مقدم ہو۔ وہ زمانے کے دباؤ کے آگے نہیں جھکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ”أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر“
یعنی سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ ربّانی عالم کی پہچان صرف اس کا زیادہ علم نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ سخت ترین حالات میں بھی حق گوئی سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
تاریخ آپ کو کس طرح یاد کرے گی؟
اپنی الٰہی ذمہ داری کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب سے ڈریے، اور غلامی کی گود میں پرورش پانے والے فوجی رجیم کے اعمال کو قوم کے سامنے واضح کیجیے۔ مصلحت اور خوف کی وجہ سے بند زبانوں کو حق کے لیے کھولیے۔ اگر آپ نے یہ فریضہ ادا نہ کیا تو تاریخ کبھی خاموش نہیں رہے گی؛ ہر عمل، ہر فیصلہ، ہر کردار اور ہر خاموشی اس کے انصاف کے کٹہرے میں پیش ہوگی۔
یہ انتہائی باعثِ ندامت ہوگا کہ تاریخ آپ کو آئندہ نسلوں کے سامنے ایک کرائے کی فوج کے حامی اور شریک کے طور پر پیش کرے۔ یاد رکھیے، تاریخ صرف اعمال ہی نہیں بلکہ خاموشیوں کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔




















































