۷۔ نفسانی اور شہوانی خواہشات کی پیروی
مسلمانوں کے زوال اور ذلت کا ایک اہم سبب نفسانی اور شہوانی خواہشات کی پیروی ہے۔ چونکہ آج کے دور میں گناہ اور گمراہی کے اسباب اور ذرائع پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہو چکے ہیں، اس لیے مسلمان، بالخصوص نوجوان نسل، گناہوں کی طرف مائل ہو گئی ہے اور ان کے لیے گناہوں کا ارتکاب بہت آسان اور میسر ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی دینداری کمزور پڑ گئی ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل، منکرات اور گناہوں کے ارتکاب میں لگے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ دوسروں کو بھی برائیوں کی طرف بلاتے ہیں اور انہیں اطاعت و عبادت سے ہٹا کر شہوات اور حرام کاموں کی طرف لے جاتے ہیں، جیسے زنا، شراب نوشی، موسیقی سننا، مردوں اور عورتوں کا ناجائز اختلاط اور دیگر اسی قسم کے حرام افعال۔
اس کے نتیجے میں عبادات اور اسلام کے ساتھ ان کی محبت، رغبت اور وابستگی کم ہو گئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ جہاد، اسلام کے دفاع اور دین کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے اور قربانیاں دینے سے دست بردار ہو جاتے ہیں اور کفار اور اسلام کے دشمنوں کے مقابلے میں کمزور اور ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ مسلمان جو اپنی نفسانی اور شہوانی خواہشات کی تکمیل کے پیچھے لگ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں اور اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ پھر وہ اللہ جل جلالہ کے احکام اور فرامین کو فراموش کر دیتے ہیں اور ان کی قدر و قیمت ان کی نگاہ میں باقی نہیں رہتی۔ نتیجتاً وہ رفتہ رفتہ نفس، خواہشات اور انسانی و جناتی شیاطین کے غلام بن جاتے ہیں۔ پھر نہ صرف اسلام کا دفاع نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو غیر جانبدار بھی سمجھنے لگتے ہیں۔
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ، خصوصاً غزہ کے مسلمان، ظالموں اور خونخوار قوتوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور ہم روزانہ ان پر ہونے والی بے رحمانہ بمباریوں اور ہزاروں دیگر مظالم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ لیکن وہ مسلمان جو کبھی دنیا کی قوت و اقتدار کے مالک تھے، آج ان مظلوموں کی حمایت میں ان کی آواز تک سنائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان اپنی نفسانی اور شہوانی خواہشات کے جال میں پھنس چکے ہیں اور مسلمانوں اور اسلام کے دفاع و حمایت کی طاقت کھو بیٹھے ہیں۔
یہاں تک کہ آج اسلامی معاشروں میں ایسے مسلمان بھی پائے جاتے ہیں جو اسلامی نظام اور اسلامی حکومت سے نفرت رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام انہیں نفسانی، شہوانی اور حیوانی خواہشات سے روکتا ہے اور انہیں ہر وہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو انسانیت اور اسلام کی فطرت کے خلاف ہو۔ جب اسلامی حکومت ان کی عیش پرستی اور بے راہ روی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے تو ان کے اندر ایک قسم کی نفرت پیدا ہو جاتی ہے، اور یہی نفرت انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ ہر جگہ اسلامی نظام کے خلاف الزامات اور جھوٹے دعوے پھیلائیں اور اس نظام کے خاتمے کی کوشش کریں جو درحقیقت ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی چاہتا ہے۔
مختصراً، اگر مسلمان اپنے آپ کو گناہوں اور نفسانی خواہشات سے محفوظ رکھیں تو وہ ہمیشہ عزت اور قوت کے مالک رہیں گے اور کبھی ذلت و رسوائی کا شکار نہیں ہوں گے۔



















































