اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک بار پھر صلیب اور اسلام کی براہِ راست جنگ شروع ہوئی۔ ایک بار پھر، صدیوں پہلے کی طرح، ہلال اور صلیب آمنے سامنے تھے۔ اسلام ازم اور سرمایہ داری کا ٹکراؤ ہوا، ایمان اور ٹینک ایک دوسرے کے مقابل آئے، اور ’’اللہ اکبر‘‘، غزوہ، جہاد، شہادت، استشہاد اور کفر جیسی اصطلاحات عام ہو گئیں۔
جی ہاں! اس بار جہاد اور اسلامی فکر مغربی نظریات کو چیلنج کر رہے تھے۔ یہ بھی کہنا چاہیے کہ وہ سیکولر حلقے جو امریکہ کے مادی مفادات کے مخالف تھے، وہ بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مغرب کو جہاد اور مجاہدین کے ہاتھوں شکست ہوگی۔ چنانچہ عراق میں صدام حسین نے بھی اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں دوبارہ جہاد کا نعرہ بلند کیا۔
اس مرتبہ مغرب نے براہِ راست صلیبی یلغار کے ذریعے افغانستان اور عراق دونوں کو اپنی پوری عسکری قوت کا نشانہ بنایا۔ مغربی طاقتوں نے ان دونوں ممالک پر قبضہ کر لیا۔ اگرچہ مادی اعتبار سے ان ممالک کے پاس زیادہ وسائل نہیں تھے، لیکن معنوی اعتبار سے جہاد، اسلامی نظام اور خلافت کا تصور وہاں زندہ تھا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ عراق جیسے ملک میں، جہاں ایک عرصے تک کمیونسٹ نظریات کا غلبہ رہا تھا، جہاد کی مزاحمت دوبارہ ابھر آئی۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیکولر نظاموں نے کبھی بھی دورانِ قبضہ مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا۔ سیکولر نوجوانوں نے بھی کبھی قابض قوتوں کے خلاف مؤثر مزاحمت نہیں کی، بلکہ اکثر مواقع پر وہ قابضین کے معاون بن گئے۔
عراق میں امریکہ کو شکست بھی اسلام پسندوں نے ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعرے اور جہاد کے نام پر دی۔ یہ جنگ امریکہ کی توقعات کے برعکس بہت طویل ثابت ہوئی۔ دوسری جانب جہاد، خلافت اور اسلامی نظام کا تصور روز بروز دنیا بھر کے مسلمانوں میں پھیلتا جا رہا تھا، یہاں تک کہ مغرب کے قلب میں بھی ہزاروں افراد اس فکر سے متاثر ہونے لگے۔
حالانکہ مغرب نے جہاد، قتال، اسلامی فکر اور اسلامی نظام کے خلاف لاکھوں افراد کو صوتی، طباعتی اور بصری ذرائع ابلاغ میں متحرک کیا۔ اسلامی فکر کو بدنام کرنے کے لیے بے شمار ادارے اور این جی اوز قائم کی گئیں۔ ’’رویّے کی تبدیلی‘‘ کے نام پر اسلامی اخلاق و اقدار کو بدلنے کے لیے نہایت مہارت سے کام کیا جاتا رہا۔
شب و روز یہ کوشش جاری رہی کہ اسلام، قتال اور اسلامی نظام کو ’’دہشت گردی‘‘ کے مترادف بنا کر پیش کیا جائے۔ اسی طرح بعض سیکولر عناصر کے ذریعے جہاد کے مفہوم کو تبدیل کرنے اور اسلحہ ترک کرنے کی تبلیغ کی جاتی رہی۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو صرف جہاد کے مفہوم کو ’’قتال‘‘ سے ہٹا کر محض ’’کوشش‘‘ اور ’’جدوجہد‘‘ کے معنی تک محدود کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے۔
اسی طرح مسلمانوں کے ذہنوں میں ہتھیار اور عسکری تیاری کو بدبختی، ذلت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔
یہاں تک کہ مسلمانوں میں ایسے گروہ پیدا ہو گئے جو جہاد کو صرف جدوجہد قرار دیتے ہیں اور قتال کو منسوخ سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود مغرب کا یہ پروپیگنڈا کہ جہاد دہشت گردی، وحشت اور بے گناہ انسانوں کے قتل کا نام ہے، اور اسلامی خلافت استبداد، جبر اور ترقی دشمن نظام ہے، کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔
مغرب، ایک طرف افغانستان، عراق، یمن اور صومالیہ میں جہاد، خلافت اور اسلامی نظام کے حامیوں کے خلاف براہِ راست جنگ میں مصروف تھا، اور دوسری طرف اربوں ڈالر خرچ کر رہا تھا تاکہ اسلامی نظام اور خلافت کو دہشت گردی اور بدبختی کی علامت ثابت کرے، جبکہ مغربی جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرازم کو ترقی اور خوشحالی کا راستہ دکھائے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ناکامی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
مغربی دنیا کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب مصر جیسے ملک میں، جو کئی دہائیوں سے سیکولرائزیشن کے عمل سے گزر چکا تھا اور اسرائیل کا ہمسایہ بھی تھا، اکثریت نے اسلامی نظام کی حمایت کی اور اسلامی فکر رکھنے والے محمد مرسی عوامی ووٹ سے کامیاب قرار پائے۔
اسی طرح ترکیہ میں اسلامی فکر ایک بار پھر تیزی سے مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں جگہ بنا رہی تھی۔ مزید برآں، اسرائیل کے پہلو میں واقع فلسطین میں حماس کے مجاہدین کی صفیں روز بروز مضبوط ہو رہی تھیں۔
شام، عراق، افغانستان، صومالیہ، یمن اور متعدد افریقی ممالک میں لاکھوں نوجوان اسلامی نظام کے قیام کے لیے عملی جدوجہد میں مصروف تھے۔ مغرب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ہر گزرتے دن کے ساتھ کامیابی کے بجائے ناکامی کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔
بالآخر مغربی قوتیں اس نتیجے پر پہنچیں کہ خلافت، اسلامی نظام اور جہاد کے تصور کے خلاف ان کی تمام کوششیں بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ اسی حکمتِ عملی کی طرف رجوع کیا جس نے صدیوں پہلے نتائج دیے تھے، یعنی مسلمان کو نہیں بلکہ اس کے فکر و تصور کو ختم کیا جائے۔
لہٰذا خلافت کے نام پر ایک ایسا منصوبہ شروع کیا جانا چاہیے تھا جسے دیکھ کر مسلمان خود یہ نتیجہ اخذ کریں کہ جہاد دراصل وحشت، بے گناہ لوگوں کا قتل، اور خلافت استبداد و ظلم کا نام ہے۔ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ خلافت صرف مغرب ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں کے لیے بھی تباہی کا سبب ہے، اور اسلامی نظام جدید دور میں قابلِ نفاذ نہیں۔
لیکن یہ کام کون کرے؟
مستشرقین؟
نہیں، کیونکہ اب مسلم نوجوان بیدار ہو چکے تھے۔
اسلامی ممالک میں مغرب کے تابع حکمران اور کٹھ پتلی حکومتیں؟
نہیں، کیونکہ اب تقریباً ہر مسلمان جان چکا تھا کہ وہ مغرب کے نمائندے ہیں۔
لہٰذا اس منصوبے کو خلافت ہی کے نام سے آگے بڑھایا جانا تھا، اس کے اوپر خفیہ ایجنٹ ہوں اور نچلی سطح پر وہ نادان مسلم نوجوان جو صرف خلافت، اسلامی نظام اور جہاد کا نام سن کر انہی نعروں کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔
مغربی خفیہ اداروں نے اس منصوبے کا نام داعش رکھا، جبکہ عوام کو دھوکا دینے کے لیے اسے ’’الدولة الإسلامية‘‘ کا عنوان دیا گیا۔ عملی طور پر اس کی سرگرمیوں کا آغاز 2014ء میں عراق سے کیا گیا۔



















































