تاریخ کے ہر دور میں قوموں نے اسی وقت ترقی اور عزت حاصل کی ہے جب وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوئی ہیں، اپنے زمانے کے حقائق کو درست طور پر سمجھا ہے اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کوشش کی ہے۔ آج بھی امتِ مسلمہ کو پہلے سے کہیں زیادہ فکری، علمی اور اخلاقی بیداری کی ضرورت ہے، جس کا مقصد اسلام کے عظیم اصولوں کی طرف رجوع کرنا، علم و آگہی کو مضبوط بنانا، اپنی اصلاح کرنا اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے جدوجہد کرنا ہو۔
امتِ مسلمہ کی بیداری محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، جو موجودہ حالات کی درست شناخت اور بہتر مستقبل کی طرف پیش قدمی سے شروع ہوتی ہے۔
بیداری کا پہلا قدم درست شناخت ہے۔ جو معاشرہ اپنی مشکلات کو نہیں پہچانتا، وہ کبھی ان کا حل نہیں ڈھونڈ سکتا۔ مسلمان نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ دور کے چیلنجز کا گہرائی سے جائزہ لیں اور کمزوری، پسماندگی اور انتشار کے اسباب پر غور کریں، کیونکہ اسلام نے پہلے ہی دن سے اپنے پیروکاروں کو علم، آگہی، غور و فکر اور حقیقت کی تلاش کی ترغیب دی ہے۔
وحی کا پیغام "اقرأ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوا۔ یہ وہ پیغام ہے جو واضح کرتا ہے کہ علم اور شعور کے بغیر ترقی اور عزت کا حصول ناممکن ہے۔ اسی لیے نوجوان کسی بھی معاشرے کے مستقبل کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کی تربیت علم، ایمان، حسنِ اخلاق اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کی جائے تو وہ عظیم تبدیلیاں لا سکتی ہے، لیکن اگر وہ بے مقصدی، انتہاپسندی اور اندھی تعصب پسندی میں مبتلا ہو جائے تو قیمتی مواقع ضائع کر دے گی۔
آج مسلمان نوجوان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امت کی خدمت صرف باتوں سے نہیں ہوتی، بلکہ علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے، محنت کرنے، اچھے اخلاق اپنانے، کام کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے ذریعے انجام پاتی ہے۔
معاشروں کی کمزوری کے اہم اسباب میں سے ایک بے فائدہ اختلافات اور تفرقہ بھی ہے۔ مختلف مسائل میں رائے کا اختلاف ایک فطری امر ہے، لیکن جب اختلاف دشمنی اور جدائی میں بدل جائے تو وہ معاشرے کی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔
امتِ مسلمہ اسی وقت دنیا میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہے جب وہ اپنے مشترکہ عظیم اقدار، جیسے ایمان، اخلاق، عدل اور انسانی اقدار پر توجہ مرکوز کرے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے عروج اور ترقی کے ادوار علم، تحقیق، جدت اور مسلسل کوششوں سے وابستہ تھے۔ اسلامی تہذیب اس وقت پروان چڑھی جب مسلمان علماء مختلف علمی میدانوں میں دنیا کی قیادت کر رہے تھے۔
آج بھی عزت اور ترقی کا راستہ علم، تحقیق، محنت اور پیداوار سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو معاشرہ علم سے منہ موڑ لے، وہ اپنا باوقار مقام برقرار نہیں رکھ سکتا۔
اسی طرح بیداری صرف دوسروں پر تنقید کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے: میں اپنی سوسائٹی کی بہتری کے لیے کیا کردار ادا کر رہا ہوں؟ میں کس طرح زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہوں؟
وہ معاشرہ جس کے افراد ذمہ دار، سچے، محنتی اور اعلیٰ اخلاق کے حامل ہوں، یقیناً ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
میرا آخری پیغام مسلمان نوجوان نسل کے لیے یہ ہے کہ اے مسلمان نوجوان! امت کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ عزت صرف خواہشات اور آرزوؤں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ایمان، علم، عمل، محنت اور صبر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ آج کی دنیا کو ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جو اپنی دینی بنیادوں کو پہچانیں اور اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں۔
مختصراً یہ کہ بیداری کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی کو پہچانیں، اپنے حال کو سمجھیں اور عزم و محنت کے ذریعے اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ اب وہ وقت آ پہنچا ہے کہ امتِ مسلمہ غفلت کی نیند سے بیدار ہو اور شعور، علم، اتحاد اور حسنِ اخلاق کی روشنی میں روشن مستقبل کی طرف پیش قدمی کرے۔
حقیقی بیداری اسی وقت شروع ہوتی ہے جب مسلمان اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور اپنے معاشرے کی اصلاح اور ترقی کے لیے اخلاص کے ساتھ کوشش کریں۔ امتوں کی عزت محض کھوکھلے نعروں سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ایمان عمل کے ساتھ، علم محنت کے ساتھ اور اتحاد حکمت کے ساتھ جڑ جائے۔

















































