اسلام کے سیاسی نظام میں امن و استحکام، احکامِ الٰہی کے نفاذ اور مسلم معاشرے کی بنیادوں کے تحفظ کے لیے دو بنیادی ارکان ہیں۔ ان کی اسٹریٹیجک اہمیت ایسی ہے کہ قرآنِ عظیمالشان نے بہت سے انفرادی اور اجتماعی معاملات پر انہیں ترجیح دی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ مائدہ میں فرماتے ہیں:
«یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ».
ان نہایت اہم ’’عقود‘‘ میں سے ایک اسلامی حاکم کی اطاعت اور قومی سلامتی کے دائرۂ تحفظ کی پاسداری کا عہد ہے۔ اسی نقطۂ نظر کی روشنی میں اسلامی نظام کے خلاف ’’بغاوت‘‘ اور ’’مسلح شورش‘‘ محض ایک سیاسی جرم نہیں، بلکہ وہ سرخ لکیر ہے جس سے تجاوز کرنا معاشرتی نظم کے انہدام اور امتِ مسلمہ کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔
اس سرخ لکیر کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس کے لغوی اور فقہی ماخذ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بغاوت لغت میں ’’بَغَیَ‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی سرکشی اور حد و حدود سے تجاوز کرنے کے ہیں۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں ’’بغی‘‘ اس بغاوت اور مسلح جدوجہد کو کہا جاتا ہے جو مشروع امام اور حاکم کے خلاف کی جائے، ایسی صورت میں کہ باغی اپنے عمل کے لیے تاویل یا کسی شبہے کا دعویٰ رکھتے ہوں۔ یہ تعریف واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ فقہی اعتبار سے بغاوت ایک سیاسی اور سکیورٹی جرم ہے جو اسلامی حکومت کے بنیادی ارکان کو نشانہ بناتا اور معاشرے کو امن و سکون کی راہ سے ہٹا دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک جامع اور مربوط نظام ہے اور اس کے ڈھانچے میں کسی بھی قسم کا خلل، بالخصوص شورش اور بغاوت کے ذریعے، تمام ارکان کو متزلزل کر دیتا ہے۔ قرآنِ عظیمالشان نے سورۂ حجرات کی نویں آیت، یعنی اس معروف آیت: «قَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي»، میں واضح الفاظ میں اسلامی حاکم کو باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم محض ایک اختیار نہیں بلکہ ایک شرعی ذمہ داری ہے، جو ہر اس حاکم پر عائد ہوتی ہے جو خود کو شریعت نافذ کرنے والا سمجھتا ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی آیت میں باغیوں کے ساتھ جنگ کے حکم کے بعد فرماتے ہیں: «حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ»؛ یعنی یہاں تک کہ باغی اپنی سرکشی سے باز آ جائیں اور اللہ کے حکم کے تابع ہو جائیں، ان کے ساتھ جنگ جاری رکھی جائے گی۔ یہ تاکید واضح کرتی ہے کہ بغاوت کوئی معمولی سیاسی اختلاف نہیں جسے محض مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو اسلامی نظام کے پورے وجود کو نشانہ بناتا ہے اور اس سے واپسی کا واحد راستہ شرعی حاکمیت کے سامنے مکمل تسلیم و اطاعت ہے۔
جب ہم اپنی توجہ نبوی سنت کی طرف کرتے ہیں تو اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی تنبیہات سامنے آتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحیح حدیث میں فرمایا ہے:
«سَتَکُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ».
تاہم دوسری جانب امام نووی ان احادیث کی شرح میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر حاکم ظالم بھی ہو، تب بھی اس کے خلاف مسلح بغاوت جائز نہیں، سوائے اس کے کہ اس کا کھلا کفر ثابت ہو جائے۔ یہ اہلِ سنت کے فقہ میں ایک مضبوط اصول ہے جسے اسلامی نظام کے دفاع کے نام پر کوئی شخص نظرانداز نہیں کر سکتا۔
ان مقدمات سے ہم واضح طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی نظام میں بغاوت ایک پیچیدہ جرم ہے جس کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک طرف باغی اپنی شورش کے ذریعے حکومت کے خلاف جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، جس کی سزا حق کی طرف واپسی تک ان کے ساتھ جنگ اور سختی سے ان کا قلع قمع کرنا ہے۔ دوسری طرف، یہ اقدام عوامی سکیورٹی کو درہم برہم کرتا، نہتے شہریوں کا خون بہاتا اور قومی املاک کو تباہ کرتا ہے۔
آج افغانستان کا اسلامی نظام، جس کی بنیاد دسیوں ہزار شہداء کے خون اور بھاری و انتھک قربانیوں سے رکھی گئی ہے، شرعی حکومت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی بھی نام اور عنوان کے پردے میں اس نظام کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ نہ صرف نظام سے خیانت کر رہا ہے بلکہ اسلام اور اس سرزمین کی تاریخ سے بھی خیانت کر رہا ہے۔
بغاوت صرف حکومت کے خلاف خطرہ نہیں، بلکہ ہر اس چیز کے خلاف خطرہ ہے جس کے تحفظ کے لیے اسلام آیا ہے یعنی دین، جان، عقل، نسل اور مال کا تحفظ۔ شورش پسند، اگرچہ ممکن ہے کہ خود کو اصلاح پسند قرار دیں، لیکن عملی طور پر سکیورٹی کو کمزور کر کے دشمنوں کے لیے نفوذ اور تسلط کی راہ ہموار کرتے ہیں اور گزشتہ دہائیوں کی تعمیری کوششوں کی قدر و قیمت کو سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے فقہاء نے بغاوت کو محض ایک سیاسی جرم قرار نہیں دیا، بلکہ اسے محاربہ اور فساد فی الارض کی ایک قسم بھی شمار کیا ہے، جس کی سزا سخت ترین سزاؤں میں سے ہے۔
آخر میں ان تمام لوگوں کے لیے، جو سمجھتے ہیں کہ شورش اور تشدد کے ذریعے اپنے مطالبات آگے بڑھا سکتے ہیں، یہ پیغام ایک بار پھر دہراتے ہیں کہ کبھی بھی تباہی کے ذریعے آبادی اور تعمیر وجود میں نہیں آ سکتی۔ بغاوت معاشرے کے لیے تکلیف اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔ اسلامی نظام کی سرخ لکیر ہر قسم کی مسلح جدوجہد ہے۔ جو لوگ اس حد سے تجاوز کریں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ پورے معاشرے اور اس کی اقدار کے مقابل آ کھڑے ہوئے ہیں، اور یہ معاشرہ اپنے وجود کے دفاع کے لیے کبھی بھی فتنہ پروروں کے سامنے ڈٹنے اور مزاحمت کرنے سے دستبردار نہیں ہوگا۔




















































