کسی مسلمان کی تکفیر: قرآن، سنت اور اقوالِ سلف کی روشنی میں
اسلام میں کسی مسلمان کو کافر قرار دینا (تکفیر) نہایت سنگین اور نازک شرعی مسئلہ ہے۔ اس کا تعلق کسی فرد کے ایمان، جان، مال، عزت اور اس کے دنیا و آخرت کے احکام سے ہے، اس لیے شریعت نے اس باب میں انتہائی احتیاط کا حکم دیا ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ اصول ہے کہ جس شخص کا اسلام یقین کے ساتھ ثابت ہو، وہ محض شبہ، تاویل، گناہ یا اجتہادی خطا کی بنیاد پر اسلام سے خارج نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے قطعی شرعی دلیل اور تکفیر کی تمام شروط کا پایا جانا اور موانع کا نہ ہونا ضروری ہے۔
قرآنِ کریم کی ہدایات
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا…” (سورۃ النساء: 94)
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب تحقیق کر لیا کرو، اور جو شخص تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ محض ظن و گمان کی بنیاد پر کسی مسلمان کے ایمان کی نفی کرنا جائز نہیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾(سورۃ الإسراء: 36)
ترجمہ: جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو، اس کے پیچھے نہ پڑو۔
احادیثِ نبویہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما.”
ترجمہ: جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے کہے: اے کافر! تو یہ بات دونوں میں سے ایک پر ضرور لوٹتی ہے۔ (صحیح البخاری: 6104)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
من دعا رجلاً بالكفر أو قال: عدو الله، وليس كذلك إلا حار عليه. ( صحیح البخاری: 6045)
ترجمہ: جو شخص کسی کو کافر یا اللہ کا دشمن کہے، حالانکہ وہ ایسا نہ ہو، تو یہ الزام اسی کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے۔
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ بھی اسی باب میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے جنگ میں ایک شخص کو اس کے کلمہ پڑھنے کے باوجود قتل کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: أقَتَلتَه بَعدَ ما قال: لا إلَهَ إلَّا اللهُ؟!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے اس کے ‘لا إلہ إلا اللہ’ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟
قال: قُلتُ: يا رَسولَ اللهِ، إنَّما كانَ مُتَعَوِّذًا.
حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اس نے تو صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا۔
فقال: أقَتَلتَه بَعدَ ما قال لا إلَهَ إلَّا اللهُ؟!
آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: کیا تم نے اسے اس کے ‘لا إلہ إلا اللہ’ کہنے کے بعد بھی قتل کر دیا؟
قال: فما زالَ يُكَرِّرُها عليَّ حتَّى تَمَنَّيتُ أنِّي لَم أكُنْ أسلَمتُ قَبلَ ذلك اليَومِ.(صحیح البخاری: 4269)
اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بار بار یہی جملہ دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا (تاکہ اس سنگین خطا کا بوجھ مجھ پر نہ ہوتا)۔
سلفِ صالحین کا منہج:
"لا نكفّر أحدًا من أهل القبلة بذنب ما لم يستحله.”
امام ابو حنیفہ، صاحبین، امام احمد بن حنبل، امام اب عبدالبر مالکی اور تمام آئمہ اہل السنۃ کا اس بات پر اجماع ہے کہ: ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر قرار نہیں دیتے، جب تک وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”وليس لأحد أن يكفر أحدا من المسلمين، وإن أخطأ وغلط؛ حتى تقام عليه الحجة، وتبين له المحجة، ومن ثبت إسلامه بيقين لم يزل ذلك عنه بشك؛ بل لا يزول إلا بعد إقامة الحجة، وإزالة الشبهة”. (مجموع الفتاوى، 12/466)
اہلِ سنت کا اصول
اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک:
۱۔ کسی قول یا فعل کو کفریہ قرار دینا ایک الگ مسئلہ ہے۔
۲۔ جبکہ کسی معین شخص کو کافر قرار دینا ایک الگ اور زیادہ نازک مسئلہ ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ:
1. اس سے واقعی ایسا قول یا فعل ثابت ہو۔
2. اس کا شرعی حکم واضح ہو۔
3. اس پر حجت قائم کی گئی ہو۔
4. اس کے شبہات دور کیے گئے ہوں۔
5. جبر، جہالت، تاویل یا دیگر شرعی موانع موجود نہ ہوں۔
خوارج کا انحراف
تاریخِ اسلام میں خوارج وہ پہلا گروہ تھا جس نے تکفیر میں غلو اختیار کیا اور بڑے گناہوں یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قرار دینا شروع کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية. )صحیح البخاری: 6930(
ترجمہ: وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔
خلاصہ
اسلام احتیاط، عدل اور تحقیق کا دین ہے، نہ کہ جلد بازی اور افراط و تفریط کا۔ کسی مسلمان کی تکفیر ایسا حکم ہے جس کے نہایت سنگین دینی اور سماجی نتائج ہوتے ہیں، اس لیے اسے جذبات، سیاسی اختلافات یا جماعتی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف قرآن و سنت، اجماعِ امت اور اہلِ علم کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
شبہہ ۱۔
انتہاپسند اور تکفیری فکر سے متاثر افراد کے پھیلائے ہوئے شبہات کے زیرِ اثر بہت سے سادہ لوح نوجوان یہ سوال کرتے ہیں کہ:
کیا امارتِ اسلامیہ کا بعض غیر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا، یا افغانستان کو امداد و تعاون فراہم کرنے والے بعض غیر مسلم یا سیکولر سربراہانِ مملکت کی تعریف کرنا اور ان کا شکریہ ادا کرنا، اسے کفر کا مرتکب بنا دیتا ہے؟
اس شبہے کی بنیاد ایک سنگین غلط فہمی پر قائم ہے۔ کسی مسلمان کی تکفیر کے باب میں سب سے بڑی لغزشوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر اس شخص کو کافر قرار دے دیا جائے جو کسی غیر مسلم کی کسی اچھائی کا اعتراف کرے، اس کے کسی مثبت اقدام کی تحسین کرے، یا اس کے ساتھ کسی جائز نوعیت کا معاملہ رکھے، اور ان تمام امور کو بلا دلیل ازخود موجبِ کفر سمجھ لیا جائے۔
حالانکہ کسی شخص کے کافر ہونے کے اسباب صرف قرآن و سنت کی واضح اور قطعی نصوص سے ثابت ہوتے ہیں، نہ کہ خواہشاتِ نفس، جماعتی تعصبات، باہمی عداوتوں یا جذباتی ردِّعمل کی بنیاد پر۔
چنانچہ اگر کوئی غیر مسلم، یا اس کی ریاست، کسی مسلمان یا کسی مسلم ریاست کے ساتھ کوئی بھلائی کرے، تو اس احسان پر اس کا شکریہ ادا کرنا یا اس کے اس مثبت رویے کی تعریف کرنا نہ کفر ہے اور نہ ہی شرعاً ممنوع۔
اس کی واضح مثال خود سیرتِ نبوی ﷺ میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مطعم بن عدی کے احسان کو کبھی فراموش نہیں فرمایا۔ انہوں نے بنو ہاشم کے سماجی بائیکاٹ کے خاتمے کی کوشش میں مؤثر کردار ادا کیا تھا، اور طائف سے واپسی پر نبی کریم ﷺ کو اپنی پناہ بھی دی تھی۔ اسی احسان کے اعتراف میں آپ ﷺ نے ان کا ذکر خیر فرمایا۔
جب غزوۂ بدر میں مسلمانوں نے مشرکین کے ستر افراد کو قیدی بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لو كان الْمُطْعِمُ بنُ عَديٍّ حيًّا ، ثم كلَّمَنى في هؤلاءِ النَّتْنَى لترکتُهم له – يعنى أسارَى بدرٍ –(صحیح البخاری: ۳۱۳۹)
ترجمہ: اگر مطعم بن عدی آج زندہ ہوتے اور ان قیدیوں کے بارے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان سب کو ان کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔
ایک روایت میں ہے: ”لأَطْلَقْتُهم له”
ترجمہ: میں انہیں ان کی خاطر ضرور آزاد کر دیتا۔
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَأَنَّ الْمُرَادَ بِالْيَدِ الْمَذْكُورَةِ، مَا وَقَعَ مِنْهُ حِينَ رَجَعَ النَّبِيُّ ﷺ مِنَ الطَّائِفِ، وَدَخَلَ فِي جِوَارِ الْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ. وَقِيلَ: الْمُرَادُ بِالْيَدِ الْمَذْكُورَةِ أَنَّهُ كَانَ مِنْ أَشَدِّ مَنْ قَامَ فِي نَقْضِ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَتْهَا قُرَيْشٌ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَمَنْ مَعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حِينَ حَصَرُوهُمْ فِي الشِّعْبِ. (فتح الباري ج:۱۲ ح: ۳۱۳۹، المکتبة الوحیدیة، پشاور)
ترجمہ: یہ دراصل رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مطعم بن عدی کے اس احسان کا بدلہ تھا جو انہوں نے آپ پر کیا تھا، خواہ وہ طائف سے واپسی پر آپ کو اپنی پناہ دینا ہو، یا قریش کی اس تحریری دستاویز کو ختم کرانے میں نمایاں کردار ادا کرنا ہو جس کے ذریعے بنو ہاشم اور ان کے ساتھ موجود مسلمانوں کا سماجی و معاشی بائیکاٹ کیا گیا تھا۔”
لہٰذا اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور آپ ﷺ ان کی سفارش پر بدر کے قیدیوں کو رہا کر دیتے، تو یہ ان کے احسان کی قدر شناسی، ان کا شکریہ ادا کرنے اور ان کا اچھا تذکرہ کرنے کی روشن ترین مثال ہوتی۔
جب خود رسول اللہ ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ کسی غیر مسلم کے احسان کا اعتراف کیا جا سکتا ہے اور اس کے مثبت کردار کی تحسین کی جا سکتی ہے، تو پھر کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کی کسی مدد، کسی اچھے رویے یا کسی قابلِ تعریف موقف پر اس کی تعریف کرنا یا اس کا شکریہ ادا کرنا آخر کس دلیل کی بنا پر کفر قرار دیا جا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسا دعویٰ کرنے والے لوگ صرف خوارج کی طرح گناہوں کی بنیاد پر مسلمانوں کی تکفیر ہی نہیں کرتے، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایسے امور کو بھی موجبِ کفر قرار دیتے ہیں جن کی مشروعیت خود رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ یہی طرزِ فکر افراط، علمی بے اعتدالی اور نصوصِ شرعیہ سے انحراف کی واضح علامت ہے۔
بلکہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی کسی اچھی عادت، عمدہ اخلاق یا پسندیدہ خصلت کی تعریف کرے، خواہ اس غیر مسلم نے اس پر کوئی احسان نہ بھی کیا ہو، تو بھی اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی نیک نامی، حسنِ اخلاق یا شرافت کے پیشِ نظر اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ اس کی واضح مثال رسول اللہ ﷺ کا حضرت سفانہ بنت حاتم طائی کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔
لہٰذا کسی غیر مسلم کی کسی اچھی صفت کا اعتراف کرنا، اس کے کسی احسان پر شکریہ ادا کرنا، یا اس کے کسی مثبت کردار کی تحسین کرنا، تکفیر کا سبب نہیں بن سکتا۔ ایسے امور کو موجبِ کفر قرار دینا درحقیقت ان انتہاپسند لوگوں کا طرزِ فکر ہے جو نہ دین کی حقیقت سے واقف ہیں اور نہ اس کے اصول و ضوابط سے۔
البتہ اگر کوئی مسلمان خوشامد، دنیاوی مفاد یا کسی ناجائز غرض سے کسی غیر مسلم کی ایسی تعریف کرے جس کا وہ حقیقتاً مستحق نہ ہو، تو یہ یقیناً ایک حرام اور باطل عمل ہے، لیکن محض اسی بنا پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر وہ اس کے کفر کی تعریف کرے، اس کے شرک کو درست اور پسندیدہ قرار دے، مسلمانوں کے خلاف اس کی جارحیت کی تحسین کرے، یا قول، عمل یا عملی تعاون کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کرے، تو یہ ایسے امور ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے موجبِ کفر ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے طالبِ حق پر لازم ہے کہ وہ ایسے نازک مسائل میں خلطِ مبحث سے بچے اور داعشی خوارج یا دیگر انتہاپسند گروہوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں اور شبہات کا شکار نہ ہو۔
جہاں تک غیر مسلم ممالک یا افراد کے ساتھ تعلقات، باہمی اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، سیاسی تعلقات، سفارتی ملاقاتوں یا بعض حالات میں اتحاد کا تعلق ہے، تو اگر ان کا مقصد اسلامی ریاست کے مفادات کا تحفظ، مسلمانوں کی مصلحت کی حفاظت، یا ان پر عائد پابندیوں اور محاصرے کا خاتمہ ہو، اور یہ تمام معاملات شریعت کے مقرر کردہ اصولوں اور حدود کے مطابق انجام دیے جائیں، تو یہ اسلامی سیاستِ شرعیہ کا جائز حصہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس باب میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاملات کیے، ان کے وفود کا خیر مقدم فرمایا، خواہ بعد میں وہ اسلام لے آئے ہوں یا نہ لائے ہوں، متعدد قبائل اور گروہوں کے ساتھ معاہدے کیے، بعض کے ساتھ وقتی اتحاد قائم فرمایا، ان سے خرید و فروخت کی، اور آپ ﷺ کا وصال اس حال میں ہوا کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔
یہ تمام حقائق اس بنیاد کو منہدم کر دیتے ہیں جس پر انتہاپسند گروہوں کے شبہات قائم ہیں، اور ان کے بے بنیاد دعووں کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور ان مستند علمی کتابوں سے رجوع کریں جن میں غیر مسلم ریاستوں اور افراد کے ساتھ تعلقات اور معاملات کے شرعی احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی راستے سے ان لوگوں کے دلوں سے شبہات کی تاریکی دور ہو سکتی ہے جو انتہاپسندانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو چکے ہوں۔
یاد رکھیں!
سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ گھپ اندھیرے میں جلنے والے ایک چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جائے، جبکہ یہ اچھی طرح معلوم ہو کہ اس کے بجھتے ہی ہر طرف ایسی تاریکی چھا جائے گی جس میں انسان اپنا ہاتھ بھی اپنے سامنے نہ دیکھ سکے۔
پھر ذرا غور کیجیے! اگر وہ محض ایک معمولی چراغ نہ ہو بلکہ ایک عظیم نور ہو، جس میں کہیں کہیں کمزوری یا خامی کے چند آثار باقی ہوں، مگر افق پر صبحِ صادق کی روشنی نمودار ہونے والی ہو، اور خود اس نور کے حامل بھی پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ ان باقی ماندہ کمزوریوں کو دور کرنے میں سرگرم ہوں، تو ایسی روشنی کو بجھانے کی کوشش دانش مندی نہیں، بلکہ ایک ایسی سنگین غلطی ہے جس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ روشنی سے عداوت صرف وہی لوگ رکھتے ہیں جو تاریکی کے خوگر ہوتے ہیں، خیر کے ہر مظہر سے نفرت کرتے ہیں، اصلاح کے ہر عمل کی مخالفت کرتے ہیں، اور انتہاپسندی میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ روشنی کی معمولی خامیوں کو جواز بنا کر پورے چراغ کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ روشنی کو باقی رکھا جائے، اس کی کمزوریوں کی اصلاح کی جائے اور اسے مزید روشن بنانے کی کوشش کی جائے، نہ کہ تاریکی کو دوبارہ مسلط کر دیا جائے۔




















































