بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للّٰہ والصلوٰۃ والسلام علٰی رسول اللہ!
کہا جاتا ہے کہ ایرانی انقلاب میں کامیابی کا راز یہ تھا کہ ان کی سوچ ایک تھی اور ایک فکر کے لوگ تھے تو کامیابی حاصل ہوئی، اور پاکستان میں ایک تو مسئلہ وحدتِ فکر کا نہ ہونا تھا اور دوسرا یہ کہ تقسیمِ ہند کے بعد اقتدار غیروں کے ہاتھوں میں چلا گیا، جس کی وجہ سے شریعت کے نفاذ میں آج تک ہم ناکام رہے۔
اس پر کچھ لوگوں نے بحث کی تو ہے، لیکن میری رائے قدرے مختلف تھی تو اپنی رائے کا ظہار کرنا مناسب سمجھاـ
زیرِ بحث مسئلہ میں بات صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں آج تک شریعت کا نفاذ کیوں نہ ہوا، بلکہ اس کے ساتھ مزید مباحث بھی منسلک ہیں: موجودہ قانون، اس کی اصلاح کے لیے جمہوری راستے کا اختیار، اور عدمِ تشدد و پرامن طریقے سے ہی ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو لازم سمجھنا، وغیرہ وغیرہ!
فی الحال ہم اپنی بحث میں صرف اس نکتے پر نظر رکھیں گے کہ وہ کون سی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم آج تک شریعت کے نفاذ میں ناکامی کا سامنا کر رہے ہیں۔
پہلا سبب: مقصد کی عدمِ وضاحت
یہ کہا جاتا ہے کہ ایران میں کامیابی کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہاں ایک ہی فکر کے لوگ تھے اور یہاں ہمارے ہاں ہر طرح کے لوگ تحریک میں شامل تھے، اس لیے یہاں وحدتِ فکر نہیں پائی گئی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کسی نے مقصد کو سمجھا ہی نہ تھا۔
وہ اس طرح کہ جنگِ آزادی جو 1857 میں ناکامی سے دوچار ہوئی اس میں ہند و مسلم ایک ہی صف میں کھڑے تھے، اور مقصد یہ تھا کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کریں اور اپنی ہند و مسلم مشترک حکومت قائم کریں۔ لیکن یہاں ان کا مقصد اسلامی نظام کا قیام نہ تھا۔
شیخ الہند رحمہ اللّٰہ کی تحریک کا مقصد بھی اسلامی نظام کا قیام نہ تھا بلکہ انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہی مقصود تھا، تو ہند و مسلم میں اتفاق تھا اور فکر بھی ایک تھی کہ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنی ہے۔
لیکن تقسیمِ ہند میں مسلمانوں کو یہ باور کرایا گیا کہ مسلمانوں کو ایک الگ ریاست دینی ہے، اور بس۔ یہاں انگریز کے بجائے زیادہ زور ہندوؤں سے آزادی پر دیا گیا، حالانکہ یہ وہی ہندو تھے جو پچھلی جنگِ آزادی میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ اس دفعہ انگریز نے Divide and Rule کے اصول کے تحت ان دونوں قوموں کی متحدہ قوت کو تقسیم کر دیا، اور پھر ان پر اپنے نظریے کے مطابق حکومت کرنا شروع کی۔ تقسیمِ ہند میں مسلمانوں کو جہاں تک یہ بتایا گیا کہ ہمیں الگ ریاست کی ضرورت ہے تو وہاں کچھ مجمل جملوں میں مسلمانوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ نئے ملک کا دستور قرآن و حدیث ہوگا۔ بس یہ سن کر قوم نے اسلامی رنگ دیکھ کر قربانیاں دینا شروع کر دیں۔ حالانکہ پسِ پردہ قائدِ اعظم سمیت کئی دیگر قائدین بھی انگریز کے منصوبے کا حصہ بن چکے تھے، اور یوں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت استعمال ہو رہے تھے کیونکہ تقسیمِ ہند دراصل انگریز کی ہی سوچ اور اس کی حکمتِ عملی تھی، اور ہمارے قائدین اس کی نمائندگی کر رہے تھے۔ حالانکہ ہمیں تو ہندوؤں سے کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو آخرکار ہم نے الگ ملک بنانا ہی کیوں سوچا؟ جو اصل کام تھا یعنی متفق ہوکر انگریز کو نکالنا اسے کیوں بھول گئے؟
اگر الگ ملک بنانے کا مقصد بھی وہی تھا کہ انگریز سے چھٹکارا مل جائے تو تقسیمِ ہند کے بعد ہم نے اپنا آرمی چیف انگریز کو کیوں چنا؟؟
اگر انگریز اور اس کے مظالم سے ہم تنگ آ چکے تھے تو پھر اسی انگریز کی تربیت یافتہ فوج کو ہی اپنے اوپر کیوں مسلط کیا؟ حالانکہ انگریز اسی فوج کے ذریعے سے جنگیں لڑتا تھا، خلافتِ عثمانیہ کے سقوط میں انگریز اور اس کی تربیت یافتہ فوج کا کردار تھا۔
تو آخر کیا وجہ بنی کہ اس انگریز نواز فوج کو حکومت دی اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ مزید یہ کہ آرمی چیف انگریز منتخب کرکے اس فوج کو اسی انگریز کی سرپرستی میں دے دیا؟
کیا ہم اسی انگریز سے تنگ نہیں تھے؟
کیا یہی انگریز ہمارا قاتل نہ تھا؟
کیا اسی انگریز کے خلاف مسلمان اور ہندو متفق ہوکر نہیں لڑے تھے؟؟
تو یہی انگریز ہمارا خیر خواہ کیسے بنا؟؟
ہم نے اس قاتل انگریز کو اپنا خیر خواہ کیسے مانا اور کیسے سمجھا؟؟
اس طرح کے سینکڑوں سوالات ہیں جن کا اس کے سوا کوئی جواب نہیں کہ ہماری یہ تقسیم انگریز ہی کی خواہش تھی۔ اس تقسیم کا مقصد اگرچہ مسلمانوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو الگ ملک دیا جائے گا جس کا دستور قرآن و حدیث ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انگریز اس سے ہندوستان کی قوت کو تقسیم کرنا چاہتا تھا، کیونکہ ہند و مسلم کی مشترکہ کارروائی سے انگریز کو خوب نقصان پہنچا اور اپنا مستقبل اسے ان کے اتفاق سے خطرے میں نظر آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم انگریز کی ضرورت تھی جس سے برصغیر کی طاقت کو توڑ کر دونوں میں دشمنی کی ایسی دیوار کھڑی کی جسے آج تک ہم سمجھ ہی نہ سکے۔
جب بات یہ ہے کہ اس تقسیم سے ہمیں دھوکے میں ڈالا گیا، اور یہ تقسیم کا عمل ہمارے اختیار میں نہ تھا تو پھر شریعت کا مطالبہ کیسے کیا جائے؟ اور کس سے کریں؟ جبکہ قیادت غیروں کے ہاتھوں میں تھی۔
پھر ایسی صورت میں شریعت کے عدمِ نفاذ کی وجوہات کیونکر ڈھونڈیں؟ اور جب یہ ہماری اس کوشش کا مقصد ہی نہ تھا تو اس میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اور جو کچھ خوش نما نعرے اسلام اور شریعت کے تھے وہ مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے تھے تاکہ وہ اسی کو اسلامی انقلاب اور دینی آزادی سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیں۔
پھر ہوا کیا جب قائدِ اعظم اس ملک کے وزیرِاعظم بھی بن گئے اور مسلمانانِ پاکستان کا وہ خواب پورا ہوگیا جس کے وہ منتظر تھے۔
لیکن اختیار اب بھی غیروں کے ہاتھ میں تھا، آرمی چیف انگریز مقرر کرکے ملک کی پوری نگرانی اسی کے سپرد کی گئی، اور باقی عہدے بھی انہی کو دیے گئے جو انگریز کے منشا کے مطابق تھے۔
پھر ایک دفعہ ہوا یوں کہ کشمیر کی طرف فوج بھیجنے کی ضرورت پڑی تو قائدِ اعظم کا حکم تھا کہ فوج ادھر بھیج دی جائے لیکن اختیار کہاں تھا اس کے پاس؟ آرمی چیف نے انکار کیا، اور قائدِ اعظم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ معلوم ہوا کہ اگرچہ بابا کو وزیرِاعظم بنا دیا گیا مگر اختیارات اب بھی انہیں نہیں دیے گئے، بلکہ وہ فوج ہی کے ہاتھ میں تھے اور فوج اس انگریز کے ہاتھ میں تھی۔ آپ سوچیں تو حیران ہوں گے کہ اس کے بعد بھی چند اور ایسے آرمی چیف آئے جو پہلے رائل انڈین آرمی میں ملازمت کر چکے تھے، اور حکومت وہی سنبھالتے رہے، اختیارات انہی کو دیے گئے۔ وہ انگریز نواز تو تھے مگر انگریز بیزار نہ تھے، حالانکہ الگ ملک کا حصول انگریز بیزاری کی وجہ سے ہوا تھا۔
مگر اقتدارِ اعلیٰ مسلمانوں کے حقیقی نمائندوں کے پاس آیا ہی نہیں، مسلسل انگریز نوازوں کے پاس رہا، اور شروع کے چند سالوں میں تو عدالتی فیصلے بھی مکمل انگریزی قانون کے مطابق ہوا کرتے تھے، یعنی یہ نام نہاد اسلامی جمہوریت بھی نہ تھی، بلکہ خالص انگریزی قانون تھا۔ اب ہوا یہ کہ ہمارے حکمران غیر ہوئے اور نظام بھی غیروں کا اور ملک مسلمانوں نے اسلامی نظام کے لیے حاصل کیا۔ عجیب فلسفہ!
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ افغانستان میں امریکہ کے نکلنے کے بعد اگر وہاں کی حکومت اشرف غنی کی فوج کے حوالے کی جاتی جو انگریز کی تربیت یافتہ تھی تو کیا کوئی سوال کرتا کہ افغانستان میں جہاد بھی ہوا ، امریکہ کو بھی نکالا تو اسلامی نظام نافذ کیوں نہ ہوا ؟؟ ہر گز نہیں ! کیونکہ انگریز اور اس کی تربیت یافتہ فوج میں کردار میں آخر فرق ہی کیا ہے ؟؟ اگر انگریز خود نہیں تو ان کے آلہ کار تو ہیں لہذا محض چہرے بدلنے سے کچھ نہیں ہوتاـ
باقی یہ بات تو طے شدہ ہے کہ قائدِ اعظم کی وفات پراسرار تھی یعنی ان کو زہر دیا گیا، اس کے بعد لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا اور قاتل بھی فوراً مارا گیا اور ان کے وکیل سے مقدمات کے اہم دستاویزات غائب ہوئے اور کیس آج تک حل نہ ہوا۔ کچھ تو تھا ناں! جو یہ سب کچھ ہوا ، یہ کوئی اتفاقی حوادث نہیں تھے، یہ بنے بنائے منصوبے تھے جو پسِ پردہ انجام دیے جارہے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اقتدار ہاتھوں میں نہیں تھا، ہم غیروں کے ہاتھوں استعمال ہوگئے۔
)ایک ضمنی بات یہ کہ ایرانی انقلاب کامیاب اس لیے ہوا کہ ان میں کچھ بنیادی چیزیں تھیں: ایک وحدتِ صف اور دوسرا وحدتِ فکر، تیسرا یہ کہ کوئی بیرونی طاقت ان کے لیے رکاوٹ نہ تھی۔ اگر کوئی تنظیم یا تحریک ایک جھنڈے تلے یک فکر ہوکر کام کرے تو وہ ضرور ایک دن اپنے مقصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کی قریب زمانے کی مثال افغانستان میں ملا عمر مجاہد رحمہ اللہ کی اسلامی تحریک ہے کہ ایک جھنڈے تلے ایک مقصد کے لیے اٹھے اور کوئی بیرونی طاقت ان کے لیے رکاوٹ نہ بنی تو کامیاب ہوگئے۔ اور ہمارے ہاں نہ تو وحدتِ فکر تھی کہ کچھ تقسیمِ ہند کے حق میں تھے اور کچھ اس فکر کے حق میں نہ تھے، اور جو تقسیمِ ہند کے حق میں تھے بھی ان کی قیادت بھی غیروں کی نمائندہ تھی، اور نہ وحدتِ صف تھا بلکہ کئی پارٹیاں تھیں۔ اور بیرونی طاقت کیا ہی رکاوٹ بنے جبکہ یہ ایجنڈا اور اقتدار ہی غیروں کا تھا، تو ناکامی کے سوا کیا ہی حاصل ہوسکتا تھا۔(
خلاصۂ کلام:
یہ ہوا کہ ناکامی کا سبب یہ نہ تھا کہ ہم مختلف فکر کے لوگ تھے، بلکہ بات یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کا وہ مقصد تھا ہی نہیں جو آج ہم سمجھ رہے ہیں، جس کے ناکامی کے اسباب پر ہمیں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، بلکہ مقصود کچھ اور تھا اور نعرے کچھ اور لگائے گئے۔ عوام کوئی اور تھی اور اقتدار کسی اور کے ہاتھوں میں تھا۔ جس کی وجہ سے ہم تقسیمِ ہند کا حقیقی مقصد سمجھ نہ سکے۔
دوسرا سبب: جمہوری راستے کی ناکامی
ہمارے اکابر نے آئین کی اصلاح کے لیے بھرپور کوششیں کیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوشش نفاذِ شریعت کی ہے؟ کیا اس راہ سے ہم اسلامی نظام کے قیام میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ کیا اس سے ہم اپنے ماضی کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں؟
کیا آئین کی اصلاح سے ہی اسلامی نظام نافذ بھی ہوجاتا ہے؟؟
جبکہ اقتدار کی ڈوریاں ایسوں کے ہاتھوں میں ہیں جو انگریز کی تربیت یافتہ ہیں، اور انہی کے اشاروں پر چلنے والے ہیں۔ کیا ملک کی بھاگ دوڑ اسمبلی کے پاس ہے؟ جبکہ اسی میدان کے شہسوار مولانا فضل الرحمٰن صاحب فرماتے ہیں کہ اسمبلی اب اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی بن چکی ہے، اور ایک اور انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ہمارے قانونی تجاویز باہر سے آتے ہیں اور ہمارے ملک میں ایسے لوگ ہیں جو مغرب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ایک بیان میں یہ بھی فرما چکے ہیں کہ: لوگ غلبۂ اسلام کی بات کرتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ وہ دور نہیں کہ ہم غلبے کی بات کریں بلکہ ہم تو دفاعِ اسلام کی بات کر رہے ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راہ سے نفاذِ شریعت ناممکن ہے، تو ہم کیونکر مایوس نہ ہوں اور کیسے اپنی جدوجہد کو اسی طرح جاری رکھیں، اور کیوں اسے بڑھاتے رہیں ، اور پھر یوں کہہ کر گزارا کرلیں کہ ہم تو نتائج کے مکلف نہیں ہیں؟ حالانکہ یہ بات تو وہاں کرنے کی ہے جہاں وہ راہ ماموربہ ہو اور محض اس پر چلنا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لانا شمار ہوتا ہو اور چاہے پھر نتیجہ نکلے یا نہ نکلے لیکن کم از کم ہماری پوری زندگی اس راہ میں اللہ کی عبادت شمار ہو۔ جبکہ اگر ہم سوچیں تو یہ جمہوریت کا راستہ ہے جو کہیں بھی ماموربہ نہیں۔ نفاذِ شریعت کا یہ راستہ کہیں بھی قرآن و حدیث میں نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں بھی اس کا حکم نہیں دیا۔ کہیں بھی ووٹ کے استعمال سے اسلامی نظام کا قیام ثابت نہیں ہے، تو اس کو دین شمار کرنا ایک سنگین غلطی ہے، جیسے کہ ہمارے دیگر اکابرین کی رائے ہے۔
چنانچہ مفتی سید مختار الدین شاہ صاحب اپنی کتاب اسرار العروج میں جمہوریت پر ایک طویل بحث کرتے ہیں میں ان کے چند جملے اٹھا کر لکھتا ہوں :
خلافت مسلمانوں کے سربراہ پر اقامت دین کی ذمہ داری عائد کرتی ہے جب کہ جمہوریت کو نہ خدا اور رسول سے واسطہ ہے ، نہ دین اور اقامت دین سے کوئی غرض ہے اس کا کام عوام کی خواہشات کی تکمیل ہے اور وہ ان کے منشا کے مطابق قانون سازی کی پابند ہے۔(صفحہ 39)
جمہوری نظام میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے رائے عامہ کو اپنے اور اپنی پارٹی کے حق میں ہموار کرنا پڑتا ہے ، اور رائے عامہ کی ہمواری کے لئے ضروری یہ ہے کہ حق کا اظہار نہ ہو بلکہ جہاں جائے اور جن لوگوں کے پاس جائے انہی کے رنگ میں رنگ جائے تاکہ ہر ذہن کے لوگوں کا اور ہر طبقہ کے ووٹ کو حاصل کیا جائے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حق و باطل کی تمیز مٹ جاتی ہے اور خود جمہوری نظام میں چلنے والی پارٹیوں کے کارکنوں کے اندر جھوٹ ، جھوٹے پراپیگنڈے، چاپلوسی ، بےایمانی وغیرہ جیسی بداخلاقیاں نشو ونما پاتی ہیں۔(صفحہ 42)
نوٹ: یہ چند تقابلی چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے اس سے اندازا لگائیں کہ جمہوری نظام اور مغربی جمہوریت دجالیت نہیں تو اور کیا ہے؟ بلاشبہ جمہوریت اسلام اور دین حق کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ (صفحہ 44)
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس شیطانی راہ سے نفاذ اسلام کی توقع کرنا عبث اور فضول کام ہے ، لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس دجالانہ پرفریب نظام کو اسلام کی پیوند نہ لگائیں اور اس بات کی کوشث کریں کہ اپنی پوری زندگی خالص اسلامی اصولوں پر تعمیر کریں جو لوگ اس نظام میں کسی مجبوری کے تحت شامل ہو جاتے ہیں ان کی خدمت میں اتنی درخواست ہے کہ وہ اس پر اسلام کا لیبل نہ لگائیں اور اپنی قول و فعل سے کسی ایسی بات کو صادر نہ ہونے دیں جس کی وجہ سے لوگ اس جمہوری دستور کے تحت ہونے والے انتخابات کو دین کا کام اور کار ثواب سمجھیں۔( صفحہ:45)
مذکورہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ جمہوریت میں رہ کر کام کرنا کوئی دین کا کام نہیں، بلکہ ایک مجبوری ہے۔ تو یہ کیسے کہیں کہ ناامید نہ ہوں، نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جبکہ ہم نے تو دین کا راستہ اختیار ہی نہ کیا۔
ایک اور بات یہ کہ اگر آئین پر محنت ہو جائے اور بالفرض وہ مکمل اسلامی بن جائے تو مقصود تو پھر بھی صرف آئین کو اسلامی بنانا نہیں بلکہ اسلام کا نفاذ مقصود ہے۔ آگے اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس آئین کا نفاذ بھی تو ہماری وسعت میں نہیں۔ اگر اسلامی بننے کے بعد بھی نافذ نہ ہو تو بس ہمارا اسلام پھر بھی چند صفحات کا پابند ہو جائے گا اور انہی صفحات تک محدود ہوگا، جیسے ابھی صرف مسجد و مدرسے تک ہے۔ نفاذ پھر بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے جو خود اس کے پابند نہیں، آئین میں جو ابھی تبدیلی آئی ہے کہ سود کا سدِ باب کیا جائے گا، سو پہلے تو یہ کہ اس کی حیثیت ایک وعدے کے سوا کسی اور چیز کی نہیں، جبکہ شیخ الاسلام صاحب نے بھی دورے کی کلاس میں فرمایا کہ اس پر عمل تو بہت ہی مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کو نافذ کرنے والے خود اس سودی کاروبار میں ملوث ہیں، وہ اتنے ایماندار تو نہیں۔ مزید اس سے بھی آگے غور و فکر کی بات یہ کہ اس فوج کو جو کہ پاکستان کا اصل حکمران ہے، جو آئین میں تبدیلی مقصود ہوتی ہے تو وہ پسِ پردہ بغیر اسمبلی کے بھی کرلیتے ہیں یا پھر اسمبلی میں جبراً کرا دیتے ہیں، اور اس کا نفاذ بھی ہو جاتا ہے، جیسے ابھی حال ہی میں چند تبدیلیاں آئیں۔
آج کہا جاتا ہے کہ اس راہ سے اسلام آسکتا ہے اور پھر قادیانیوں کے خلاف بل کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے اس کے حوالے سے پیش خدمت یہ ہے کہ قادیانیوں کا بل اگرچہ منظور تو ہوا بحمد اللہ لیکن اب مسلسل اس کی حفاظت کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کو رد کرنے یا اس میں ترمیم کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ کیسے حکمران ہیں اور کیسے مسلمان؟ نہ آئین کا احترام نہ اسلام کا۔ اب بھی فوج میں ان قادیانیوں کی بھرتیاں ہوتی ہیں، اور ان کا حکم تو قتل کا تھا۔ یہ تو مرتد تھے، اگر اسلام کی ماننی تھی تو وقت پر قتل کر لیتے۔ اسلامی قانون تو یہ تھا، لیکن بہرحال!
تیسرا سبب: انفرادی اعمال کو اجتماعی نظام سمجھ لینا
کہ ہمارے علماء نے مدارس کے ذریعے دین کی حفاظت کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پاکستان میں مساجد آباد ہیں۔
یہ بات یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ عوام میں ہمارے علماء کی خدمت بہت ہے، لیکن دیکھیں اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہے۔ اسلام جس طرح انفرادی زندگی کے لیے ایک لائحۂ عمل رکھتا ہے وہی اجتماعی زندگی کے لیے ایک علیحدہ اور مستقل نظام بھی رکھتا ہے۔
بات ہے نظام کی ہے اور نفاذِ شریعت کی۔ اس موقع پر دراصل انفرادی زندگی کے اعمال کی بحث چھیڑ کر جہاں خلط ملط کرلیتے ہیں وہیں پر ہم اس بحث سے فرار اختیار کر کے ان چند جملوں سے اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں، حالانکہ انفرادی زندگی کے اعمال کا نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ نماز پر تو امریکہ میں بھی پابندی نہیں اور نہ ہی روزے پر اور نہ زکاۃ پر، پابندی اگر ہے تو نظام پر ہے۔ ہمارے انفرادی اعمال سب سے اچھے ہیں، مسجدیں آباد ہیں، مدارس بڑے منظم انداز میں ہیں۔ اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ ہمارے علماء اچھے ہیں جنہوں نے اپنی عوام کی خدمت کی اور حکومت کا یہ کام اپنے ذمے لیا، لیکن حدود اور قصاص کہاں ہیں؟
چوتھا سبب: آزمائش سے گھبرانا
کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں اسلامی نظام قائم ہوا تو پانچ سال رہا اور ختم ہوا۔
اس کا مطلب اگر یہ ہے کہ ہم اسلامی نظام قائم نہیں کرسکتے تو وہ تو آپ مانتے ہیں کہ ہم نتائج کے مکلف نہیں۔
اور اگر مقصد یہ ہے کہ قائم کرلیں گے لیکن سنبھالنا مشکل ہے تو میں کہتا ہوں کہ *گر جانا ایک حادثہ ہے اور آزمائش ہے جس نے آنا ہی ہے، لیکن گرے رہنا یہ انتخاب ہےـ
دیکھیں! ملا عمر مجاہد نے ایک درست راہ اختیار کی جو خالص اسلامی اصولوں پر قائم تھی تو بس وہ کامیاب ہوگئے۔ ان کو اللہ نے اسلامی نظام دیا اور پھر ایک بار اللہ نے ان پر آزمائش ڈال کر آزمایا بھی تو بھی کامیاب ہوئے الحمد للّٰہ آج پھر بھی وہ غالب ہیں۔ آج ان کو دجالی میڈیا کی طرف سے مختلف قسم کی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن کامیاب اس لیے ہیں کہ دین کی راہ نہ چھوڑی نظام برقرار رکھا، بس مقصود یہ ہے کہ ہم خالص اسلامی راہ اختیار کریں۔
مصائب میں الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے
ناکامیوں پر اشک برسانا مجھے نہیں آتا
جب تک ہم دنیا میں ہیں اور مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے تو اللہ ضرور آزمائے گا۔ یہ بات غلط ہے کہ کفار کا غلبہ ہے تو اسلامی نظام نافذ کرنا مشکل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑا مدبر کوئی نہیں۔ اگر وہ کہے کہ اب وقت اس کا ہے تو اسی میں خیر و برکت ہے۔ افغانستان پر اگر بیس سال آزمائش آئی تو حکومت بھی تو منظم ہوئی۔ منافقین اور سچے مومن کی تقسیم اللہ نے کرلی۔ حکومت خالص اللہ نے اپنے نیک بندوں کے ہاتھوں میں دی۔ اگر کفار کا غلبہ ہے تو دفاعی جہاد تو کمزوروں کے لیے ہے تاکہ وہ اس سے اپنے سے طاقتور کو شکست دیں جیسا کہ افغانستان میں ہوا۔ خلاصہ یہ کہ مشکل کچھ نہیں، بس ہم اسلام کا حقیقی بتلایا ہوا راستہ اختیار کریں۔ جیسا کہ غزہ و فلسطین کے حالات ہیں کہ انہوں نے اسلام کی بتلائی ہوئی راہ اختیار کی۔ اب چاہے یہود سے آزادی ملے یا نہ ملے لیکن یہ خود کامیاب ہیں اور ہوں گے ان شاءاللہ۔ بس اللہ تعالیٰ بندوں کو آزماتا ہے، اور اب تو قربِ قیامت کا زمانہ ہے۔ اسلام پر عمل کرنا ایسا ہے جیسا کہ انگارے کو ہاتھ میں رکھنا، لیکن مقصود یہ ہے کہ اسلامی اصول ہاتھ سے نکل نہ جائیں۔ کامیابی کا وعدہ اسی راہ پر چلنے میں ہے۔ قیامت میں نتیجے کا سوال نہیں ہوگا بلکہ اسلامی اصولوں کو اختیار کرنے کا سوال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَانْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ”
سو کامیاب وہی ہے جو اس راستے کا انتخاب کرے، اور مغرب کے دیے ہوئے نظام سے چھٹکارا پائے، اور مزید اس کے دھوکے میں نہ پڑے۔
اس تمام تحریر کا خلاصہ آخر یہی ہوا کہ
نفاذِ شریعت کا راستہ کانگریس نہیں بلکہ تحریکِ شیخ الہند ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ۔




































