ہم اکثر کسی فیصلے کو اس کے پہلے دن کی صورتِ حال کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ اگر فیصلہ مشکل ہو تو اسے شکست قرار دیتے ہیں، اور اگر کوئی رعایت دی جائے تو اسے کمزوری سمجھتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں صلح حدیبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر فیصلے کو صرف اس کی ظاہری صورت کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہیے، بعض اوقات کسی فیصلے کا حقیقی نتیجہ بعد میں سامنے آتا ہے۔
ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، لیکن قریش نے انہیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ مذاکرات ہوئے اور بالآخر حدیبیہ میں صلح کا معاہدہ طے پایا۔
معاہدے کی اہم شرائط یہ تھیں کہ مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہوں گے، اگلے سال عمرے کے لیے آئیں گے اور تین دن مکہ میں قیام کریں گے، مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی اور قبائل کو اجازت ہوگی کہ وہ جس فریق کے ساتھ چاہیں معاہدہ کرلیں۔ اسی طرح مکہ کی طرف سے مدینہ آنے والے شخص کو معاہدے کی شرط کے مطابق واپس کیا جائے گا، لیکن مدینہ سے مکہ جانے والے شخص کو واپس نہیں مانگا جائے گا۔
معاہدہ تحریر کرتے وقت ایک بہت اہم واقعہ بھی پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ لکھیں: (محمد رسول اللہ)۔ قریش کے نمائندے سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا اور کہا کہ اگر ہم انہیں رسول اللہ مانتے تو پھر آپ کو مکہ سے روکتے ہی کیوں، اس لیے (محمد بن عبداللہ) کے نام سے لکھا جائے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے یہ بات بہت ناگوار تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن کے عظیم مقصد کے لیے تحریر کی صورت میں یہ تبدیلی قبول کرلی۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رسالت سے دستبردار ہوگئے تھے، بلکہ یہ ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکمت اور تدبیر کی واضح مثال تھی۔ اس سے بھی زیادہ مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب ابو جندل رضی اللہ عنہ، جنہیں قریش نے قید کر رکھا تھا، بیڑیوں میں جکڑے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ ان کے والد سہیل بن عمرو نے مطالبہ کیا کہ معاہدے کے مطابق انہیں واپس کیا جائے۔ ابو جندل رضی اللہ عنہ مسلمانوں سے مدد طلب کر رہے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طے شدہ معاہدہ توڑنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں صبر اور اللہ تعالیٰ کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے یہ تمام معاملات بہت دشوار تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی سوالات کیے، لیکن بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول کر لیا۔ جب معاہدہ مکمل ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ قربانیاں کریں اور سر منڈوائیں۔ وہ شدید پریشانی کی وجہ سے فوراً نہ اٹھے۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشورے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قربانی کی اور سر منڈوایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس کے بعد ایسا ہی کیا۔
لیکن جو چیز لوگوں کو پہلی نظر میں بھاری اور رعایت کی مانند دکھائی دے رہی تھی، قرآن کریم نے اسے (فتحاً مبیناً) قرار دیا۔
إنا فتحْنا لك فتحا مبينا
“بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا فرمائی ہے۔” سورۃ الفتح
حدیبیہ کا نتیجہ کیا نکلا؟
امن قائم ہونے کے بعد جنگ کی فضا کم ہوگئی، مسلمانوں اور دوسرے لوگوں کے درمیان روابط وسیع ہوئے اور اسلام کی دعوت کے لیے ماحول بہت زیادہ سازگار ہوگیا۔ بعد میں معاہدہ توڑے جانے کی وجہ سے فتح مکہ کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ اسی لیے قرآن کریم نے اس معاہدے کو، باوجود اس کے کہ اس کی بعض شرائط پہلی نظر میں سخت دکھائی دیتی تھیں، واضح فتح قرار دیا۔
آج کے افغانستان کی مثال
اگر ہم اس سبق کو آج کے افغانستان کے حالات کے تناظر میں دیکھیں تو اس کی ایک اہم مثال امارت اسلامیہ کی وہ پالیسی ہے جس کے ذریعے طویل جنگ کے بعد ملک کے استحکام، سکیورٹی، اداروں کو فعال بنانے اور معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
افغانستان کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد ایسے حالات سے دوچار ہوچکا تھا کہ ہر روز نئی جنگ، نئی ہلاکتیں اور نئی بے ثباتی ملک کے مستقبل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ ایسے حالات میں صرف جذبات پر مبنی فیصلے افغانستان کو مزید مشکلات سے دوچار کرسکتے تھے۔ لیکن امارت اسلامیہ کے دور میں سکیورٹی اور اداروں کے استحکام کے ساتھ ساتھ محصولات کی وصولی، تجارت، شاہراہوں، کان کنی، بجلی اور دیگر معاشی و بنیادی ڈھانچے کے امور کی ترقی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
اس کے ساتھ تعلیم بھی افغانستان کے مستقبل کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ بہت سے افغان، بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے، اپنی تشویش اور مطالبات رکھتے ہیں۔ اس مسئلے کو جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں، بلکہ حکمت، اسلامی اقدار کے دائرے میں اور افغانستان کی مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے۔ افغانستان کو ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو ملک کی آئندہ نسل کو مضبوط بنائے اور ساتھ ہی معاشرے کی اقدار اور ضروریات کو بھی مدنظر رکھے۔
بعض لوگ انہی اور دیگر مسائل کی وجہ سے امارت اسلامیہ پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کی باتوں کا جواب صرف برائی اور الزامات سے نہیں دینا چاہیے، بلکہ افغانستان کا مستقبل عمل، استحکام، تعلیم، معیشت، عدل اور خوشحالی کے ذریعے ثابت ہونا چاہیے۔ اس پالیسی کا بنیادی سبق یہ ہے کہ کسی ملک کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں ہوتی، اس کے لیے سکیورٹی، استحکام، مضبوط انتظامیہ، معیشت، تعلیم اور صبر درکار ہوتا ہے۔
یہاں حدیبیہ کے سبق سے ایک قابلِ غور مماثلت پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم مقصد کے لیے ایک حساس وقت میں عارضی دشواری برداشت کی اور طویل المدت کامیابی کے لیے امن اور تدبیر کا راستہ اختیار کیا۔
آج افغانستان کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ جذباتی فیصلوں کے بجائے اپنے مستقبل کے بارے میں طویل المدت سوچ اختیار کرے۔ اگر سکیورٹی مضبوط ہو، ادارے مستحکم ہوں، معیشت ترقی کرے، تعلیم وسیع اور مضبوط ہو، تجارت کو فروغ ملے اور بڑے منصوبے مکمل ہوں تو ملک کی تعمیرِ نو کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی۔ یہی حدیبیہ کے عظیم سبق سے آج کے افغانستان کے لیے ایک اہم پیغام ہے، بڑے مقاصد کے لیے صبر، حکمت، تدبیر، تعلیم اور طویل المدت وژن درکار ہوتا ہے۔




















































