۱۳۔ دنیا اور آخرت کے ساتھ معاملے میں اعتدال
یہ بات بھی ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اعتدال کے اہم اور بنیادی پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مسلمان دنیا پر توجہ دینے اور آخرت کی تیاری کے درمیان توازن برقرار رکھے۔ اسلام دنیا کو اس طرح مذموم قرار نہیں دیتا کہ انسان کام، کوشش، ترقی، آبادکاری اور اللہ تعالیٰ کی حلال نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دے، اور نہ ہی اسے اس قدر قیمتی اور اہم قرار دیتا ہے کہ انسان آخرت اور دائمی زندگی کو بھول جائے، اپنی تمام تر توجہ اور کوشش کو صرف دنیا کے معاملات تک محدود کر دے اور دنیا کی محبت اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادت سے دور کر دے۔ بلکہ اسلام انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ دنیا سے بھی جائز اور مشروع طریقے سے فائدہ اٹھائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا (القصص: ۷۷)
“اور جو کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ نے تمہیں عطا کیا ہے، اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھولو۔“
یہ عظیم الشان آیت اسلام میں اعتدال اور میانہ روی کی سب سے روشن مثالوں میں سے ایک ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ اپنے پاک کلام کی ایک اور آیت میں بیان فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی آخرت کے لیے کوشش کرنے کا ذمہ دار ہے, لیکن اسی وقت اسے دنیا کی حلال نعمتوں، جائز کام اور کسب، خاندان کی تشکیل، تعلیم، آبادکاری، معاشرے کی خدمت اور زندگی کی دیگر ضروریات سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جلیل القدر صحابہ کرام اس اعتدال کی مکمل مثالیں تھے۔ وہ عبادت، ذکر اور تقویٰ میں پیش پیش تھے؛ لیکن اسی وقت تجارت، زراعت، جہاد، تعلیم اور معاشرے کی آبادکاری میں بھی حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ حقیقی دینداری دنیا کو ترک کرنے کا نام نہیں, بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دنیا سے درست اور مشروع طریقے سے فائدہ اٹھانے کا نام ہے۔
اسلام رہبانیت اور ایسی انتہا پسندانہ گوشہ نشینی سے، جو انسان کو اس کی معاشرتی اور خاندانی ذمہ داریوں سے روک دے، متفق نہیں, بلکہ اسے منع کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام دنیا پرستی اور مادی لذتوں میں ڈوب جانے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ دنیا کو اپنی اعلیٰ اخروی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھے، نہ کہ اسے زندگی کا آخری ہدف اور اصل مقصد قرار دے۔
جب دنیا انسان کے ہاتھ میں ہو، دل میں نہیں، تو وہ نعمت اور خیر کا ذریعہ ہوگی, لیکن اگر دنیا کی محبت انسان کے دل پر غالب آجائے اور اسے اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کے ذکر اور اپنی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روک دے، تو پھر وہ نقصان اور غفلت کا ایک سبب بن جائے گی۔ اسی لیے اسلامی اعتدال مسلمان سے تقاضا کرتا ہے کہ دنیا اور آخرت کے درمیان توازن برقرار رکھے, اس طرح کہ دنیا کی آبادکاری میں اپنا حصہ لے، حلال نعمتوں سے فائدہ اٹھائے، اپنے خاندان اور معاشرے کے حقوق ادا کرے اور اسی وقت اپنا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت میں کامیابی کو بنائے۔ یہی وہ میانہ روی کا راستہ ہے جو اسلام نے انسان کی دنیا اور آخرت کی خوش بختی کے لیے مقرر کیا ہے۔




















































