اسلام عدل و انصاف کا دین ہے؛ ظلم کا خاتمہ کرنے والا، عدل کا علم بردار اور تمام انسانوں اور جنات کے لیے امن، سکون اور خیر کا پیغام لانے والا دین۔ موجودہ دور میں مشرق و مغرب ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی بالادستی اور حکومتوں کی بقا کے لیے اسلام کو لوگوں کے ذہنوں میں خوف، دہشت اور متشدد مذہب کے طور پر پیش کریں۔ اگر دنیا اسلام کو اس کی حقیقی اور پاکیزہ صورت میں پہچان لے تو بہت سے لوگ الحادی نظریات ترک کرکے اسلام کی طرف لوٹ آئیں گے۔ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کی حقیقی صورت مسخ کرنے کے سلسلے میں مشرق و مغرب کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک داعش کا وجود میں آنا بھی تھا۔ اس منصوبے نے اسلام دشمن حلقوں کے مقاصد بڑی حد تک پورے کیے۔
داعش نے سر قلم کرنے کی ویڈیوز نشر کرکے اہلِ مغرب کی نگاہ میں اسلام کو ایک وحشتناک دین کے طور پر پیش کیا اور ان سیکڑوں انسانوں کے قبولِ اسلام کی راہ روک دی جو شاید کسی دن مسلمان ہوجاتے۔ ایک سیکولر محقق نے اپنے لوگوں کو قبولِ اسلام سے باز رکھنے کے لیے اسلام کے بارے میں یوں اظہارِ خیال کیا: ’’ایان حرصی علی نے اسلام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: اسلام خوف، دہشت اور سر قلم کرنے کا دین ہے؛ کیوں کہ داعش کو اسلام کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ داعش کا مطالعہ کیجیے، تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ وہ کس قدر وحشی ہیں۔‘‘
بہت سے دوسرے سیکولر تجزیہ نگاروں نے بھی اسلام پر اعتراضات کیے اور داعش کو اسلام کے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا؛ حالاں کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام ایک الگ دین ہے اور داعش ایک الگ گروہ۔ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کسی صورت اسلام کی نمائندگی نہیں کرسکتی۔ آج داعش کا خارجی گروہ اسلام کی ترقی اور اشاعت کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے؛ جب کہ مجاہدین شام، عراق، چیچنیا اور دنیا کے مختلف خطوں میں وسیع پیمانے پر موجود تھے اور مسلسل پیش رفت کر رہے تھے۔
داعش نے مجاہدین کی کمزوری اور دشمن کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ بعض نادان افراد بھی مجاہدین کی صفوں سے الگ ہوگئے، انہوں نے اپنا سابقہ عہدِ بیعت توڑ دیا اور داعش سے بیعت کرلی۔ آئیے! عقلِ سلیم، قرآنی تعلیمات اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کی روشنی میں جائزہ لیں کہ داعش اسلام کے نام پر مشرق و مغرب کے سامنے کون سا دین اور کیسی شریعت پیش کر رہی ہے۔ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے دفاع کے لیے داعش کو اسلام سے ایک الگ گروہ قرار دے، اس حقیقت کو دنیا کے سامنے واضح کرے اور اسلام کی وہ پاکیزہ اور حقیقی صورت دنیا سے متعارف کرائے جو تمام انسانوں اور جنات کے لیے امن، سکون اور خیر کا پیغام رکھتی ہے۔
اے اہلِ مغرب! مسلمانوں کی گزشتہ خلافتوں کی تاریخ کا مطالعہ کرو، تاکہ تم دیکھ سکو کہ انہوں نے کس طرح دنیا کو ظلم اور ناانصافی کی تاریکیوں سے نکال کر اسلامی عدل و انصاف کی راہ دکھائی۔
’’داعش کون سی شریعت پیش کرتی ہے؟‘‘ کے عنوان سے اس سلسلے میں ہم پوری وضاحت کے ساتھ یہ حقیقت آشکار کریں گے کہ فتنہ پرور داعش کے افعال و کردار کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؛ بلکہ اس گروہ کو اسلام کے دشمنوں، مغربی خفیہ اداروں اور دیگر اسلام مخالف حلقوں کی جانب سے حمایت اور تقویت حاصل ہوتی ہے، اور وہ اپنی ظلم پر مبنی حکومتوں کی بقا کے لیے ایسے فتنہ پرور گروہوں کو استعمال کرتے ہیں۔




















































