پائیدار امن کا قیام
بدامنی کے وہ تاریک دن یاد کیجیے جب اس ملک پر ان کی کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی، وہ دن جب دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں افغانستان کے تمام صوبوں، شہروں اور علاقوں میں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکی تھیں، وہ دن جب مائیں لرزتے دل کے ساتھ اپنے بچوں کو اسکول بھیجتی تھیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ شام کو دوبارہ انہیں اپنی آغوش میں لے سکیں گی یا نہیں۔
اس تاریک دور میں افغانستان کے عوام غیر ملکی قابضین کے بوٹوں تلے کچلے جا رہے تھے اور جمہوریہ کا کٹھ پتلی نظام، لوگوں کی سلامتی کی ڈھال بننے کے بجائے خود بدامنی کے مسئلے کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ پولیس اور فوج کی صفوں میں بدعنوانی نے جڑیں مضبوط کر لی تھیں، ہر ضلع مقامی غنڈوں کا شکار تھا اور لوگوں کی جان و مال کی اُس وقت کی مرکزی حکومت کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔
اسی انتشار اور خوف کے درمیان داعش کا عفریت بھی سر اٹھا چکا تھا، ایک ایسا تکفیری گروہ جو اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اس گروہ نے مساجد، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور بازاروں میں دھماکوں کے ذریعے بے گناہ لوگوں کا خون بہایا اور ملک کے بعض صوبوں کو خوف و دہشت کے میدانوں میں تبدیل کر دیا۔ افغانستان کے عوام ان تاریک برسوں میں دو طرف سے آگ میں جل رہے تھے، ایک طرف غیر ملکی قبضے کی آگ اور دوسری طرف تکفیریوں کی وحشت کی لپٹیں۔ یہ بیس سالہ غیر ملکی مفادات کے تابع جمہوریہ کا ورثہ تھا۔
لیکن تاریخ نے اپنا صفحہ پلٹ دیا۔ امارت اسلامیہ کی دوبارہ فتح کے ساتھ افغانستان نے گزشتہ نصف صدی میں پہلی بار حقیقی امن کا ذائقہ چکھا۔ امارت اسلامیہ کی مسلح افواج نے متحدہ کمان، منظم قیادت اور بے مثال نظم و ضبط قائم کرتے ہوئے، جس کی گزشتہ ادوار میں کوئی مثال نہیں ملتی تھی، داعش اور دیگر فتنہ انگیز عناصر کے خلاف انتھک جدوجہد شروع کی۔
اس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ داعش، جس کا نام ایک زمانے میں وحشت، خوف اور خونریزی کے ساتھ جڑا ہوا تھا، آج نہ وسیع علاقہ رکھتی ہے، نہ محاز اور نہ ہی کارروائی کرنے کی صلاحیت۔ نظام کے حکام اور حتیٰ کہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، یہ گروہ عملاً افغانستان کی سرزمین سے ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کامیابی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، یہ وہ عظیم کامیابی ہے جو ہزاروں مجاہدین کی قربانیوں اور خون سے لکھی گئی ہے۔
آج افغانستان کی سرحدیں گزشتہ کئی دہائیوں میں پہلی بار مکمل طور پر قومی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔ لوگ مائنز، گھات لگائے جانے اور اچانک فائرنگ کے خوف کے بغیر اطمینان سے راستوں اور سڑکوں پر سفر کرتے ہیں، بازار اضطراب اور بدامنی سے پاک ہو کر لوگوں سے بھرے اور آباد ہیں، اسکول اور مساجد دھماکوں کے خوف کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور لوگ رات کو فائرنگ اور دھماکوں سے محفوظ ماحول میں سکون کی نیند سوتے ہیں۔
یہ محض ایک دعویٰ یا کھوکھلا نعرہ نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے جسے ہر افغان شہری اور اس سرزمین پر رہنے والا ہر شخص روزمرہ زندگی میں ہر روز محسوس کرتا ہے۔ جو شخص کل کے افغانستان کا آج کے افغانستان سے موازنہ کرے گا، اسے دونوں کے درمیان فرق روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آئے گا۔ اس کے باوجود بعض متعصب اور دشمن میڈیا ادارے اور ان گروہوں کے باقی ماندہ عناصر، جن کی بقا اور مفادات انتشار اور بدامنی سے وابستہ تھے، اب بھی جھوٹ پھیلا کر، چھوٹے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے اور حقائق کو مسخ کرکے افغانستان کی سکیورٹی کی صورت حال کو حقیقت سے مختلف دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ میڈیا ادارے جو ایک وقت افغانوں کے خون سے اپنی سرخیاں بناتے تھے، آج بحران کے نہ ہونے پر پریشان ہیں۔
وہ ہر چھوٹے واقعے کو مبالغے اور شور شرابے کے ساتھ نشر کرتے ہیں، کبھی کبھار واقعات خود گھڑ لیتے ہیں اور کبھی من پسند تجزیوں کے ذریعے افغانستان کے پائیدار امن سے انکار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ تمام کوششیں واضح حقائق کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں، کیونکہ امن ایسی حقیقت نہیں جسے دشمن کے قلم اور زبان سے مٹایا جا سکے۔
امن کو شہروں اور دیہاتوں کی گلیوں میں دیکھا جانا چاہیے، آباد بازاروں کے شور اور گہما گہمی میں، اسکولوں اور مساجد کے کھلے دروازوں میں اور ان لوگوں کی پُرسکون راتوں میں جو فائرنگ اور دھماکوں کے بغیر سر تکیے پر رکھ کر سوتے ہیں۔ امن کو وہاں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان متعصب میڈیا اداروں کی تحریروں اور سرخیوں میں جنہوں نے حقیقت کو پہلے ہی اپنے سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
امارت اسلامیہ نے بارہا واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہماری سرخ لکیر قوم کی سکیورٹی ہے۔ کسی بھی تخریب کار گروہ کو، خواہ اس کا نام اور علامت کچھ بھی ہو، اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ افغانستان کی سرزمین کا ناجائز استعمال کرے۔ یہ دوٹوک مؤقف محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ وہ پالیسی ہے جس کا عملی میدان میں ثبوت پیش کیا جا چکا ہے۔ آج افغانستان کو حاصل امن ایک ایسے نظام کی تدبیر، قربانی اور بیداری کا نتیجہ ہے جس نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ ملک کی سکیورٹی بیرونی امداد اور تعاون کے بغیر بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔
آج کا امن صرف کسی نظام کی کامیابی کی علامت نہیں، بلکہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ طویل جنگ اور بدامنی کے دور کے بعد افغانستان استحکام اور سکون کی جانب اپنے قدم بڑھا سکتا ہے۔ اس ملک میں موجودہ امن ان تمام لوگوں کے لیے سب سے بڑا جواب ہے جو الزامات، پروپیگنڈے اور شکوک و شبہات کے پردے میں وہ روشن حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، جو ہر روز اس سرزمین کے لوگوں کے پُرسکون چہروں، محفوظ آمدورفت اور معمول کی زندگی میں منعکس ہوتی ہے۔




















































