داعش کی فکری بنیادیں
۱۔ تکفیر
داعش کے نظریے میں تکفیر محض ایک اعتقادی مسئلہ نہیں، بلکہ مخالفین کو مادی طور پر ختم کرنے اور اس گروہ کے منظم تشدد کو جائز ثابت کرنے کے لیے ایک عملی حکمتِ عملی بن چکی تھی۔ داعش نے اسی ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے ہر قسم کی فکری اور سیاسی مخالفت کو مردود قرار دینے کی کوشش کی اور دین کے نام پر معاصر تاریخ کے وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کیا۔ داعش کو دوسرے گروہوں سے ممتاز کرنے والی چیز تکفیر کو منظم کرنا اور اسے ایک ایسے انتظامی و عدالتی طریقۂ کار میں تبدیل کرنا ہے، جس میں تکفیر کے احکام شرعی و فقہی اصولوں اور ضوابط کی پابندی کیے بغیر صادر اور نافذ کیے جاتے تھے۔
داعش نے اپنے تکفیری احکام نافذ کرنے کے لیے ایک نیم حکومتی عدالتی ڈھانچہ قائم کیا تھا جسے “دیوان المظالم” کہا جاتا تھا۔ ان خود ساختہ شرعی عدالتوں میں ملزمان کو منصفانہ عدالت میں پیش کیے بغیر اور انہیں دفاع کا حق دیے بغیر، ظاہری اور نمائشی مقدمات بنا کر، کسی حقیقی عدالتی کارروائی کے بغیر قتل کے احکامات جاری کیے جاتے تھے۔ “اعدام کمیٹیاں” ان احکامات پر عمل درآمد کی ذمہ دار تھیں اور ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو کمزور اور بے بنیاد بہانوں کی بنا پر انہی خودساختہ اداروں کے ہاتھوں قتل کیا گیا۔
اگرچہ یہ عدالتی ڈھانچہ بظاہر اسلامی عدالتی نظام کی شکل رکھتا تھا، لیکن عملی طور پر اس کا اسلامی عدل کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ یہ صرف داعش کے جرائم کو جائز ثابت کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔
داعش کے نزدیک تکفیر کا دائرہ اتنا وسیع تھا کہ شاید اسلام کی تاریخ میں کسی گروہ نے اس حد تک تکفیر کا استعمال نہیں کیا۔ داعش نے اپنے رسالے “دابق” میں واضح طور پر کہا تھا کہ جو شخص ان کی خودساختہ خلافت سے بیعت نہیں کرے گا، وہ مرتد اور کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے۔ لیکن داعش کا تکفیری رویہ صرف یہیں تک محدود نہیں تھا۔ اس گروہ نے نہ صرف شیعوں کو “رافضی” اور کافر قرار دیا اور ان کا قتل فرضِ عین سمجھا، بلکہ صوفیوں کو بھی “مشرک” اور “قبر پرست” قرار دیا۔
وہ اہلِ سنت بھی ان کی تکفیر سے محفوظ نہ رہے جو ان سے متفق نہیں تھے، داعش انہیں اپنی خودساختہ خلافت کو تسلیم نہ کرنے یا مخالف حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے کی وجہ سے کافر قرار دیتی اور ان کا خون مباح سمجھتی تھی۔ یہاں تک کہ دیگر جہادی گروہ بھی داعش کے تکفیری رویے سے محفوظ نہ رہے، ان میں سے بہت سے گروہوں کو صرف ابوبکر البغدادی سے بیعت نہ کرنے کی وجہ سے مرتد قرار دے دیا گیا۔ اس طرح داعش نے عالمِ اسلام کے متعدد فکری اور سیاسی دھاروں کو اسلام سے خارج قرار دیا اور خود کو دین کا واحد حقیقی نمائندہ قرار دیا۔
داعش کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی تکفیر کے اسلامی معاشروں کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے، ان میں اہم ترین نتائج میں بڑے پیمانے پر خونریزی اور بے بنیاد بہانوں سے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل شامل تھا۔ ان اقدامات نے اسلامی معاشرے کو گہرے اختلافات اور تقسیم سے دوچار کر دیا اور اسلامی اتحاد کی بنیادوں کو، جو اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہیں، شدید نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب، ان تکفیری اقدامات نے عالمی سطح پر بھی اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچایا اور اسلام مخالف حلقوں کو یہ بہانہ فراہم کیا کہ وہ اسلام کو تشدد اور دہشت گردی کے دین کے طور پر پیش کریں۔ اسی طرح، ان اقدامات نے بہت سے مسلمان نوجوانوں کو دھوکا دینے اور انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی راہ ہموار کی، انہیں جنت اور شہادت کے وعدے دیے گئے اور آخرکار انہیں داعش کے جرائم کے آلۂ کار بنا دیا گیا۔
اگرچہ داعش قدیم خوارج کے فکری ورثے سے متاثر ہوئی ہے، لیکن داعش اور قدیم خوارج کی تکفیری پالیسی کے درمیان بنیادی اختلافات بھی موجود ہیں۔ خوارج زیادہ تر اپنے قریبی مخالفین کی تکفیر کرتے تھے، جبکہ داعش نے تکفیر کا دائرہ پورے عالمِ اسلام تک پھیلا دیا۔ خوارج گناہ گاروں کی تکفیر کرتے تھے، لیکن داعش نے ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیا جنہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا، صرف اس بنا پر کہ وہ موجودہ سیاسی نظاموں میں زندگی گزار رہے تھے یا مسلم ممالک کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔
خوارج اپنی تکفیر میں کسی حد تک فقہی اصولوں کی پابندی کرتے تھے، لیکن داعش نے تمام شرعی اور فقہی قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے تکفیر کو ایک منظم عمل میں تبدیل کر دیا۔ یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ داعش اگرچہ خوارج کی جانشین ہے، لیکن انتہا پسندی اور تشدد میں اس نے ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔
نتیجتاً، داعش کی وسیع اور بے ضابطہ تکفیر نہ صرف اسلام کے بنیادی اصولوں سے مکمل طور پر متصادم ہے، بلکہ اسے اس گروہ کی سب سے بڑی فکری اور عملی گمراہی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس انحراف نے داعش کو حقیقی اسلامی اقدار سے دور کر دیا اور دینِ رحمت، عدل اور انسانیت پر تشدد، بے رحمی اور غیر انسانی رویے کا پردہ ڈال دیا ہے۔




















































