کنڑ اور پکتیکا کے بعض علاقوں میں گزشتہ رات ہونے والے فضائی حملے تشویشناک ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے حملوں کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت اب بھی اپنی فوجی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور دباؤ ڈالنے کے لیے غیرمعقول اقدامات کا سہارا لے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل موجودہ مسائل حل کرنے کے بجائے خطے کو کشیدگی اور عدم استحکام کے ایک نئے مرحلے میں دھکیل سکتا ہے۔
ان حملوں کا فیصلہ کرنے والوں پر واضح ہونا چاہیے کہ افغانستان ایسی سرزمین نہیں جو بیرونی جارحیت اور ظلم کے سامنے خاموش رہے۔ افغان عوام نے تاریخ میں بارہا یلغاروں کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ اس سرزمین کے تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ اس طرح کے اندھا دھند اقدامات صرف مزاحمت میں شدت اور اختلافات میں مزید گہرائی کا باعث بنیں گے۔
اسلام آباد میں بیٹھے عسکری رجیم کے عہدیدار شاید ان حملوں کو محدود اور وقتی اقدامات سمجھتے ہوں، لیکن ہر عسکری اقدام کے اپنے سیاسی اور سلامتی سے متعلق نتائج ہوتے ہیں۔ ایسے ہر حملے کا رد عمل ہوگا، اور اس پالیسی کا تسلسل ایسے نتائج پیدا کر سکتا ہے جو اس کے کارپردازوں کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہوں۔ اس سے پہلے بھی ضروری تنبیہ کی جا چکی ہے کہ حملوں اور اشتعال انگیز اقدامات کا تسلسل بےاعتمادی کی فضا کو مزید گہرا اور اختلافات کے حل کی راہوں کو مزید دشوار بنا دے گا۔
آج یہی رجیم اپنی پیدا کردہ بدامنی اور مشکلات کی ذمہ داری اپنے پڑوسی پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر واقعی مقصد خطے میں امن و استحکام قائم کرنا ہے تو ایسے فوجی حملوں کو دہرانا کسی پائیدار حل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ امن عام لوگوں کو نشانہ بنانے اور دھمکانے سے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل، باہمی احترام اور اختلافات کو دانشمندی سے حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
افغانستان کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہ قوم ظلم اور جارحیت کے سامنے کبھی لاتعلق نہیں رہی۔ جو طاقت بھی افغانستان کو کمزور سمجھے یا یہ گمان کرے کہ وہ خاموش رہے گا، اسے جلد یا بدیر اس سرزمین کے حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آج حملوں کے فیصلے کرنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ فوجی فیصلوں کو صرف میدانِ جنگ میں نہیں پرکھا جاتا، بلکہ ان کے اثرات سیاست، سلامتی، علاقائی تعلقات اور تاریخ پر بھی باقی رہتے ہیں۔
اگرچہ آج یہ خونریز رجیم افغانستان کے اسلامی نظام کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ ایک طرف اپنی سرزمین پر مخالف گروہوں اور خوارج کو تربیت دے رہی ہے اور دوسری طرف افغانستان میں عام شہریوں پر بمباری جیسے جرائم کا ارتکاب کرتی ہے۔ مگر اس مقصد کا حصول محض خام خیالی، ایک ناممکن خواہش اور دیوانگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی نصرت سے تم اپنے ان ناجائز مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکو گے۔
ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں کہ اس صورتِ حال کا تسلسل ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے اور بےاعتمادی اور بحران کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی ذمہ داری انہی لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو ایسے اشتعال انگیز اقدامات کا آغاز کرتے ہیں۔ مزید نقصانات سے بچنے کا سب سے دانش مندانہ راستہ حملے روکنا اور بات چیت کی راہ اختیار کرنا ہے۔
حقیقی طاقت صرف جنگ چھیڑنے اور قوت کی نمائش تک محدود نہیں؛ وہ بحران کو روکنے، دوسروں کی خودمختاری کا احترام کرنے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت میں بھی پوشیدہ ہے۔ فوجی حملوں کو وقتی طور پر طاقت کا مظاہرہ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان کے نتائج کا درست اندازہ نہ لگایا گیا ہو تو وہ ایسی غلطی بن سکتے ہیں جس کی تلافی انتہائی دشوار ہو۔
اسی لیے حالیہ حملوں کو ایک سنگین تنبیہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس پالیسی کا تسلسل اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے اور انہیں اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور بحران کو پھیلنے سے روکا جائے، لیکن حملوں اور کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات کے جاری رہنے سے یہ موقع روزبروز محدود ہوتا جا رہا ہے۔
پیغام واضح ہے کہ افغان عوام جنگ اور تشدد نہیں چاہتے، لیکن جبر اور ظلم بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ جو لوگ اسی راستے پر آگے بڑھنے پر اصرار کر رہے ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہر اقدام کی اپنی ذمہ داری اور قیمت ہوتی ہے۔ ممکن ہے ایک دن انہیں انہی فیصلوں پر پچھتانا پڑے جو آج وہ پورے اطمینان سے کر رہے ہیں۔




















































