حالیہ ڈیورنڈ لائن کی کشیدگی کو صرف ایک عسکری واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا کہ یہ تو بس ایک عسکری واقعہ ہی تھا، بلکہ اس کے پیچھے کئی سیاسی اور جنگی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔
سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ فوجی رجیم اپنی اندرونی سیاسی مشکلات سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ اسی طرح اس کی کوشش ہے کہ اس کشیدگی کے ذریعے اپنی سکیورٹی ناکامیوں کو چھپایا جا سکے، کیونکہ اب پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستانی فوج نے جو باتیں ہمیں بتائی تھیں وہ تمام تر باتیں محض خیالی ہیں، حقیقی دنیا کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔
نیز افغانستان میں بمباری کر کے مکہ معاہدے میں اپنی ذمہ داریوں سے خود کو نکالنا اور بہانہ تراشنا ہے کہ ہم خود جنگی حالت میں ہیں، پہلے خود کو تو جنگ سے نکال لیں پھر مکہ معاہدہ دیکھا جائے گا۔
یہ بھی ایک بہت بڑا سبب ہے کہ فوجی رجیم نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح افغانستان کے اندر بدامنی پھیلائی جائے مگر ہر کوشش ناکام ہوتی گئی۔ خوارج بری طرح ناکام ہو گئے، مختلف جبهات کو سر اٹھانے سے پہلے کچل دیا گیا، بغاوتیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں، آخر کار فوجی رجیم مجبور ہو گئی کہ براہِ راست حملے کرے اور یوں ایک بار پھر اس نے افغانستان کے اندر ایئر اسٹرائیک کردی۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ آئی ایس آئی اس جنگ کے ذریعے یہ فائدہ اٹھائے کہ اسلام آباد میں مظاہرین کے درمیان خود دھماکے کرائے یا پھر ان پر ڈرون حملے کرے اور الزام افغانستان پر لگا دے، باقی میڈیا پر مشہور کرانا، اس میں تو ان کا کوئی ثانی نہیں۔
مگر پاکستان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ افغانستان پاکستان میں ہر جگہ کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس شعبے میں اللہ کی مدد سے صلاحیت مزید بڑھ گئی ہے، ان شاء اللہ فوجی رجیم کے تمام اندازے غلط ثابت ہوں گے اور پاکستانی فوجی رجیم کو ان جرائم کے پاداش میں ایسی سزا ملے گی کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی ان شاء اللہ۔ پاکستان کے اندر جتنی بھی اہم تنصیبات ہیں، یا اہم فوجی مقامات ہیں ان سب کے محلِ وقوع پہلے سے لیے جا چکے ہیں، بالفاظِ دیگر ان سب مقامات پر بازوں نے نظریں جمائی ہوئی ہیں اور جب ضروری سمجھا جائے گا تو افغانستان کی فضائیہ انہیں انتہائی کم وقت میں نشانہ بنائے گی باذن اللہ تعالیٰ۔




















































