پاکستانی رجیم نے اپنی بدامنی اور داخلی مسائل کو چھپانے اور ان مسائل کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے لیے کئی بار افغانستان میں عام شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ رجیم یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے گویا اپنے ملک میں بدامنی اور انتشار کی وجہ افغانستان ہے, لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی، سکیورٹی اور سماجی مسائل اور دیگر بدحالی اس منافق رجیم کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ اس طرح کی حکمت عملی پاکستان کے داخلی مسائل حل کرنے اور سکیورٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مؤثر حل ثابت نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کی حکمران رجیم نے کئی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان کے عام لوگوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
اس رجیم کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مسلح گروہوں کے وجود میں آنے اور پھیلنے کی اصل وجوہات کا جائزہ لیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ان گروہوں نے اس ملک کی ظالم حکومت کے خلاف بغاوت کیوں کی اور مسلح جدوجہد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔ کیا یہ بات سب پر واضح نہیں کہ ان گروہوں اور قوموں نے اپنے حقوق حاصل کرنے اور اس ظلم و زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت کی ہے جو خود یہی حکومت ان پر ڈھا رہی ہے!
ان موضوعات میں سے ایک، جن کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے، پاکستانی رجیم کی ناکام اور ناقابلِ قبول پالیسیاں ہیں۔ جس دن سے افغانستان میں امارت اسلامیہ برسرِ اقتدار آئی ہے، اس ملک کے لوگ بدامنی، ظلم و زیادتی سے دور زندگی گزار رہے ہیں اور اسلامی نظام کے سائے تلے ان کی جان، مال اور عزت محفوظ ہیں۔ لیکن اس وعدہ خلاف رجیم نے بار بار افغانستان کو غیر محفوظ بنانے کے لیے مذموم منصوبے بنائے ہیں اور کوشش کی ہے کہ افغانستان کو بھی اپنے ملک کی طرح بدامنی، مسائل اور جنگوں سے دوچار کر دے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس نے افغانستان کے لوگوں کا سکون برباد کرنے کے مقصد سے خوارج، شر و فساد پھیلانے والے اور اسی نوعیت کے دیگر گروہوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دی ہے اور اسلامی نظامِ افغانستان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے ان کی تربیت کی ہے اور انہیں تیار کیا ہے۔
مختصر یہ کہ اس رجیم نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا نتیجہ اس کی توقعات کے بالکل برعکس ہو گا۔
اسی لیے پاکستان کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ رجیم اپنے مذموم مقاصد اور اسلام کے دشمنوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو حقوق اور مراعات سے محروم کر رہی ہے اور اسے صرف اپنی آمرانہ حکومت کی بقا کی فکر ہے۔ اگر اس رجیم کا مقصد واقعی پاکستان کے لوگوں کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے تو یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود بدامنی اب تک کیوں برقرار ہے؟ پاکستان میں مسلح گروہوں کے حملے روز بروز کیوں بڑھ رہے ہیں اور انہیں اس ملک کے اہم ترین سکیورٹی خدشات میں کیوں شمار کیا جاتا ہے؟ اور کیا گزشتہ کئی دہائیوں کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے؟
معیشت بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہوتی ہے۔ بدامنی سرمایہ کاری کو کم کرتی ہے، ریاستی اخراجات میں اضافہ کرتی ہے، تجارت کو مشکلات سے دوچار کرتی ہے اور روزگار کے مواقع محدود کر دیتی ہے۔ جس ملک کو معاشی ترقی اور لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اسے سب سے بڑھ کر استحکام، پڑوسی ممالک کے ساتھ صحت مند معاشی تعلقات اور علاقائی کشیدگی میں کمی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، افغانستان بھی بدامنی سے نقصان اٹھاتا ہے اور سرحد کے دونوں جانب آباد لوگ مسلسل کشیدگی کے اصل متاثرین ہیں۔
ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر پاکستان واقعی اپنی داخلی بدامنی اور مسائل کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے جامع حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے اور اپنی ناکام پالیسیوں سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔
اسی طرح، کوئی بھی ملک اپنے داخلی مسائل کو اپنی سرحدوں سے باہر منتقل نہیں کر سکتا اور اس طرح ہمیشہ کے لیے اپنے لوگوں کے سامنے جواب دہی سے نہیں بچ سکتا۔ داخلی بدامنی، معاشی مسائل اور سیاسی کشیدگی کے لیے داخلی حل اور حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے، پڑوسی ملک پر حملے ان حلوں کا متبادل نہیں بن سکتے۔
ہمارے خطے کو بدامنی پیدا کرنے کے لیے مقابلہ آرائی کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔ پاکستان، افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک بات چیت اور تعاون کے ذریعے تجارت، سکیورٹی اور ترقی کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ لیکن جب تک اختلافات حل کرنے کے لیے تشدد کو ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا، اصل قربانی عام لوگوں کو ہی دینا پڑے گی۔
پاکستان کے لوگوں کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ اس ملک میں حقیقی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لوگوں اور پڑوسی ممالک کے حوالے سے اس رجیم کی اختیار کردہ ناکام اور غلط پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور ان کی اصلاح کی جائے۔


















































