بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ریاستیں اپنے قومی مفادات کا دفاع شائستہ سفارتی زبان، محتاط الفاظ اور پردے کے پیچھے جاری خاموش رابطوں کے ذریعے کرتی ہیں۔ تاہم جب دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات گفتگو کے بجائے بارود اور سخت بیانیوں کی حرارت میں گرم ہو جائیں تو سفارتی فورمز بھی باہم دست و گریبان میدانِ جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
پانچ اکتوبر 2026 کو روس کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والا ‘ماسکو فارمیٹ’ کا 8واں ایڈیشن خطے کی تاریخ میں ایک ایسے ہی اہم موڑ کے طور پر درج ہو چکا ہے، جہاں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے خلاف برسوں سے قائم زیرِ زمین کشیدگی پہلی بار ایک شدید عالمی اور کھلے سفارتی ٹکراؤ میں تبدیل ہو کر سامنے آئی ہے۔ اس کانفرنس کا بغیر کسی متفقہ مشترکہ اعلامیے کے ختم ہو جانا کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا… بلکہ یہ اس طویل، تلخ اور بارود سے آلودہ پس منظر کا منطقی نتیجہ تھا، پاکستانی فوج جس کی بنیاد ماسکو فارمیٹ کے آغاز سے کئی روز قبل ہی رکھ چکی تھی۔
اس پورے واقعاتی تسلسل کو سمجھنے کے لیے ماسکو کانفرنس سے تقریباً دو ہفتے قبل کا منظر نامہ دیکھنا ضروری ہے، جب علاقائی طاقتیں امارت اسلامیہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جمی ہوئی برف کو پگھلانے اور تعلقات کو بحال کرنے کے لیے متحرک ہوئیں۔
سب سے پہلے ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف نے کابل کا دورہ کیا اور امارتِ اسلامیہ افغانستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تفصیلی اور اہم مذاکرات کیے، تاکہ فریقین کو ایک میز پر لایا جا سکے۔ اس کے فوراً بعد قطر و سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفود نے بھی کابل کا رخ کیا اور افغان قيادت سے کشیدگی میں کمی لانے پر بات چیت کی۔
ان ملاقاتوں کے بعد ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ کابل سے براہِ راست اسلام آباد پہنچے، تاکہ دونوں دارالحکومتوں کے درپردہ تحفظات کو دور کر کے مسائل کا حل بند کمرے کے سفارتی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ماحول سازگار ہو رہا تھا اور دونوں اطراف سے بات چیت کی نئی امید پیدا ہو رہی تھی۔
اسی مثبت پیش رفت کے اثنا میں پاکستان کے شہر کوہاٹ میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کی زد میں آ کر ایک مسجد اور مبینہ طور پر عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ چناں چہ امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس واقعے پر ایک باقاعدہ، تعزیتی اور سخت مذمتی بیان جاری کیا۔
امارت اسلامیہ کی جانب سے یہ قدم سفارتی سطح پر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ کابل حکومت پاکستان کے داخلی نقصانات پر برادرانہ طور پر افسوس کرتی اور پاکستان کی جانب سے غیر سنجیدہ طور پر اپنے مسائل کا ملبہ افغانستان پر ڈالنے کی روش کے باوجود ان معاملات کو گفت و شنید سے حل کرنے کا موقف رکھتی ہے۔
تاہم پاکستانی فوج اور اسٹیبلشمنٹ نے امارتِ اسلامیہ کے اس واضح سفارتی اشارے اور مذمتی بیان کو بالکل نظرانداز کر دیا۔ پاکستان نے اپنے داخلی مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اپنانے کے بجائے فوجی طاقت کے استعمال کا طریقہ منتخب کیا۔ چناں چہ پاکستانی فوج نے 23-24 ستمبر کی درمیانی شب خوست، پکتیکا، کنڑ اور قندھار جیسے صوبوں پر بمباری کر کے 4 بے گناہ افغان مسلمانوں کو شہید کر دیا۔
بعد ازاں پاکستان فوج نے ایک جھوٹ کہ …’افغان طرف سے 8 ڈرون حملے کیے گئے، جنہیں فضا میں ہی روک لیا گیا’… کی بے ساکھی استعمال کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026… یعنی ماسکو فارمیٹ کے انعقاد سے محض چار دن پہلے دوبارہ افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند پر اچانک اور شدید بمباری کر کے 9 بے گناہ افغان مسلمانوں کو شہید کر کے اِسے نام نہاد طور پر ‘آپریشن غضب للحق’ کا نام دے دیا گیا۔
تاہم افغان حکومت اور تمام آزاد میڈیا نے پاکستان کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ افغان طرف سے کوئی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ جب کہ فرضی سرحد پر جھڑپوں کے سوائے ایسے کسی بھی ڈرون حملے کے کوئی شواہد یا ثبوت سامنے نہ آ سکے۔ دوسری جانب حسبِ عادت پاکستانی عسکری ترجمانوں کی جانب سے وہی پرانا اسکرپٹ دہرا کر یہ دعویٰ کیا گیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر عسکریت پسندوں کے روپوش ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم عالمی تنظیموں اور آزاد ذرائع نے پاکستانی فوج کے ان دعوؤں کی حقیقت جلد ہی کھول کر سامنے دنیا کے سامنے رکھ دی۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور یوناما نے اپنی مصدقہ رپورٹس میں تصدیق کی کہ پاکستانی فوج نے بمباری کسی عسکری یا جنگجو ٹھکانے پر نہیں، بلکہ عام شہریوں کے رہائشی مکانات پر کی تھی۔ یورپی یونین اور علاقے کے مقامی شاہدین کی رپورٹس نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 9 بے گناہ افغان مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔
اس جانی نقصان کے باعث کابل میں شدید غصے اور افسوس کی لہر دوڑ گئی اور یوں پاکستان نے اپنے ہی ہاتھوں اُن مذاکرات کے اُس سنہری موقع کو خود تباہ کر دیا… جو ترکیہ، قطر اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی کاوشوں سے قائم ہوا تھا۔
یہ وہی شدید کشیدہ اور بارود سے آلودہ ماحول تھا، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے نمائندے ماسکو کانفرنس میں شریک ہوئے۔ بین الاقوامی اداروں کی جاری کردہ عوامی جانی نقصانات سے متعلق شائع کردہ رپورٹس کے ثبوٹ کے ساتھ جب افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اسٹیج پر آئے تو ان کا رویہ اپنے شہریوں کے تازہ بہنے والے خون کے تناظر میں انتہائی مناسب طور پر جارحانہ اور سخت تھا۔ انہوں نے پہلی بار عالمی فورم پر پاکستانی اقتدار اور نظام کو اس کے اصل رنگ میں دکھاتے ہوئے ‘ملٹری رجیم’ (فوجی آمریت) کے نام سے پکارا۔
تاہم ماسکو فارمیٹ میں پاکستان کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ وہ روس، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی حمایت حاصل کر کے کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں افغانستان کو باضابطہ طور پر ‘دہشت گردی کا مرکز’ قرار دلوائے اور روسی بلاک کی طرف سے بھی کابل پر بین الاقوامی سفارتی و اقتصادی دباؤ بڑھائے۔ تاہم روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں نے پاکستان کے اس یک طرفہ اور غیر متوازن رویے کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔
دوسری طرف افغانستان کی جانب سے رسمی طور پر پاکستان کے لیے ‘فوجی آمریت’ کی اصطلاح کا عالمی سطح پر استعمال کم از کم پاکستان کے لیے اس قدر غیر متوقع وار تھا کہ ماسکو فارمیٹ کے اگلے روز پاکستانی صحافی طاہر خان نے اپنے ویلاگ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ پھیلا دیا۔
انہوں نے اپنے نام نہاد ‘ذرائع’ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ‘پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق خان بنیادی طور پر ایک نرم، لچک دار اور مثبت تقریر تیار کر کے ماسکو گئے تھے، تاکہ افغانستان کو پاکستان کی جانب سے بات چیت کے لیے رضامندی کا اشارہ دیا جا سکے، لیکن محمد صادق خان نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے ‘فوجی آمریت’ جیسے سخت الفاظ سننے کے بعد موقع پر ہی اپنا پہلے سے تحریر شدہ بیان تبدیل کر کے افغانستان کے خلاف سخت موقف اپنا لیا۔’
تاہم صحافی طاہر خان کی جانب سے اپنے اس پورے دعوے یا مبینہ ذرائع کی معلومات کے حق میں کوئی ایک بھی ٹھوس یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے غیر جانب دار اور آزاد تجزیہ کار ‘صحافی طاہر خان کے اس غیر مصدقہ دعوے’ کو ایک منظم ‘اسٹریٹجک لیک’ (Strategic Leak) اور سفارتی پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
کیوں کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صحافی طاہر خان کی طرف سے نرم و لچک دار تقریر کی تبدیلی جیسے نام نہاد بیانیے کو سامنے لانے کا بنیادی مقصد پاکستان کی اپنی عسکری و سفارتی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا اور ماسکو فارمیٹ کے مشترکہ اعلامیے کے جاری نہ ہو سکنے کا تمام ملبہ بھی افغانستان کے سر ڈال کر افغانستان کو گناہ گار باور کرانا تھا کہ ‘ہم تو بات چیت کے لیے تیار تھے، مگر آپ ہی نے سخت الفاظ استعمال کر کے یہ موقع کھو دیا ہے۔’
یہاں عام قاری بھی یہ یقین رکھتا ہے کہ صحافی طاہر خان کے مبینہ بیانیے کے تناظر میں یہ سوچنا ہی غیر منطقی اور بے معنی ہے کہ ‘جس افغانستان کے مسلمان شہریوں کو کانفرنس سے محض چار دن قبل بمباری کر کے شہید کیا گیا ہو، وہ عالمی فورم پر آ کر شہد جیسی میٹھی اور دودھ جیسی نرم زبان استعمال کرے گا…؟!’
دوسری جانب ‘ملٹری رجیم’ کی اصطلاح پر پاکستانی عسکری و سفارتی حلقوں کے غصے کا سب سے دل چسپ اور فکری پہلو اُس کا کھلا سفارتی تضاد ہے۔ بجائے خود پاکستان گزشتہ دو اڑھائی سال، بالخصوص 9 اکتوبر 2025 کو افغانستان پر کی جانے والی پہلی بڑی بمباری سے بھی پہلے سے اپنی وزارتِ خارجہ اور عسکری ترجمانوں کے ذریعے رسمی طور پر امارتِ اسلامیہ افغانستان کو مسلسل ‘طالبان رجیم’ کے نام سے پکارتا آ رہا تھا۔ پاکستان نے یہ رویہ اِس کے باوجود اختیار کیا کہ دونوں ممالک کے مابین باقاعدہ سفارتی روابط موجود ہیں، کابل میں پاکستانی سفارت خانہ کام کر رہا اور اسلام آباد میں افغان سفیر تعینات ہے۔
فوجی آمریت کے ماتحت پاکستانی نظام نے مسلسل افغان حکومت کے لیے تضحیک اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے۔ لیکن جب دو اڑھائی سال کے طویل صبر و برداشت کے بعد افغان وزیرِ خارجہ نے پہلی بار جواباً پاکستان کو ‘ملٹری رجیم’ کہہ کر پکارا تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ شدید طیش اور تلملاہٹ کا شکار ہو گئی اور اُس کے دماغ میں رعشہ طاری ہو گیا۔
پاکستان کی یہ دوغلی صورتِ حال اسلام آباد کی اُس سفارتی منافقت کو ننگا کرتی ہے کہ ‘جو خود دوسرے ممالک کے نظام کو منفی ناموں سے نوازتا ہو، وہ برداشت کا حوصلہ نہ رکھتے ہوئے اپنے لیے ویسا ہی لفظ سن کر آپے سے باہر ہو جاتا ہے…!’


















































