عظیم پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دور
یہاں میں ایک اہم سوال اٹھانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ کیا اس زمانے میں، جب تاریکی، ظلم اور استبداد اپنے عروج پر پہنچ چکے تھے، جہالت، ظلم اور دیگر برائیوں کے خاتمے کے لیے کسی پیغمبر کی بعثت کی ضرورت تھی؟
اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت انسانوں کی ایک اہم ضرورت اور ان کی فطری و طبعی خواہش تھی، کیونکہ محض آسمانی کتاب، معلم اور رہنما کے بغیر، انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس قدر مؤثر نہیں ہو سکتی، جس قدر اسے ہونا چاہیے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے ایک پیغمبر مبعوث فرمایا، تاکہ راستہ روشن کریں، لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی کریں اور انہیں صحیح راستے اور غلط راستے میں فرق بتائیں، تاکہ حقیقت سب پر واضح ہو جائے۔
بعثت ہر قسم کے شرک، فکری، دینی اور عملی انحرافات اور خرافات کے خلاف جدوجہد کا آغاز ہے، اسی طرح اس سے مراد ان تمام برائیوں کے خلاف جدوجہد بھی ہے جو اسلامی تمدن سے متصادم ہیں۔
قرآنی نقطۂ نظر، احادیثِ نبویہ اور اسلامی تاریخ کے مآخذ کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور جزیرۃ العرب کے لوگوں کی فکری، معاشرتی اور ثقافتی حالت کی اصلاح و تبدیلی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مؤثر حکمتِ عملی نے ان لوگوں پر کس طرح اثر ڈالا، جن کی ثقافت اور روزمرہ زندگی میں ناانصافی، قومی و نسلی تفاخر، غلامی، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا، لوٹ مار، عہد شکنی، قتل و غارت اور مردار کا گوشت کھانا عام اعمال میں شمار ہوتے تھے اور جو کھلی گمراہی میں زندگی بسر کر رہے تھے۔
مختصر یہ کہ انسان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے تھے جس میں کینہ، نفرت، اختلاف، عصبیت اور سینکڑوں دیگر مظالم و مفاسد کی فضا نے انسانی معاشرے کو گھیر رکھا تھا۔ ہر شخص اور ہر قوم خود کو دوسرے شخص اور دوسری قوم سے بہتر اور برتر سمجھتی تھی اور اپنی برتری کا معیار قوم، نسل، قبیلے اور رنگ سے وابستہ قرار دیتی تھی۔


















































