گیارہ اکتوبر بروز اتوار، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے صوبہ خیبر پختونخوا میں عوامی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا تو اس کے چند ہی لمحوں بعد صوبے کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے کے حق میں دلائل پیش کیے۔ انہوں نے گورنر راج کے نفاذ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، امن و امان کی مخدوش صورتِ حال اور صوبائی حکومت کی نااہلی اس اقدام کے بنیادی اسباب ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ صوبے کی پالیسی کابل یا جلال آباد کے بجائے اسلام آباد سے طے ہوگی اور پورا ملک ایک ہی پالیسی کے تحت چلایا جائے گا۔
تاہم سیاسی و انتظامی امور کے ماہرین نے گورنر کے ان الزامات اور ان کی حقیقت کا جائزہ لینے کے بجائے ان کے بیان میں موجود ایک بنیادی تضاد کی نشان دہی کی۔ ان کا سوال تھا کہ جب ملک کی مجموعی پالیسی وفاقی سطح پر مرتب ہوتی ہے اور پالیسی سازی کے اصل اختیارات بھی وفاق ہی کے پاس ہوتے ہیں، خواہ کسی صوبے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صوبہ اپنی الگ پالیسی پر گامزن ہو اور باقی ملک کسی دوسری سمت چل رہا ہو؟ آخر ایک ہی وفاقی نظام کے تحت چلنے والے ملک میں کسی صوبے کی پالیسی کو کابل اور قندھار سے منسوب کرنے کی بنیاد کیا ہے؟
قانون اور سیاست کے ماہرین نے جب اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو کئی مزید اہم سوالات بھی سامنے آنے لگے۔ گورنر راج ہو یا ایمرجنسی کا نفاذ، اگرچہ پاکستان کے آئین میں دونوں اقدامات کی گنجائش موجود ہے، تاہم ان کے نفاذ کے لیے بعض بنیادی آئینی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے، جو موجودہ صورتِ حال میں بظاہر مفقود ہیں۔
پاکستان کی صفِ اول کی سیاسی شخصیات میں شمار ہونے والے اور اس کشیدہ و اضطراب انگیز صورتِ حال میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں نہ صرف اس اقدام کو آئین اور مسلمہ اصولوں کے منافی قرار دیا، بلکہ حکومت اور مقتدر حلقوں کو بھی براہِ راست کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے برملا حکمران اشرافیہ پر بدعہدی، خیانت اور اپنے وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے؛ وہ کہتی کچھ ہے اور کرتی کچھ اور ہے۔
اسی دوران ایک اور چونکا دینے والا انکشاف بھی سامنے آیا کہ اس معاملے میں حکومت کو فیصلہ سازی کا حقیقی اختیار ہی حاصل نہیں تھا، بلکہ احکامات براہِ راست ان حلقوں سے صادر ہوتے تھے جو ہر موقع پر سیاست سے اپنی لاتعلقی کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے۔ یوں ایک طرف سیاسی معاملات سے لاتعلقی کے دعوے کیے جاتے رہے اور دوسری طرف انہی معاملات کی باگ ڈور پسِ پردہ انہی قوتوں کے ہاتھ میں ہونے کا تاثر مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے مؤقف میں حکومت کے ان تمام دلائل کو یکسر مسترد کر دیا جنہیں وہ اپنے اقدام کے جواز کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر گورنر راج کے نفاذ کی بنیاد دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال ہے تو اس معیار پر بلوچستان کہیں زیادہ اس اقدام کا مستحق ٹھہرتا ہے، جہاں بدامنی اور دہشت گردی کے مسائل زیادہ سنگین ہیں۔ اور اگر صوبائی حکومت کی نااہلی کو بنیاد بنایا جا رہا ہے تو اس اعتبار سے بھی بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کا جواز زیادہ مضبوط بنتا ہے۔
تاہم مولانا کے مؤقف سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اسباب محض ظاہری جواز ہیں، جبکہ پسِ پردہ مقاصد کچھ اور ہیں۔ ان کے نزدیک دہشت گردی، بدامنی اور انتظامی نااہلی کی یہ توجیہات دراصل عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے، بڑھتے ہوئے اشتعال کو دبانے اور اصل عزائم پر پردہ ڈالنے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کے ان بیانات نے معاملے کی سنگینی میں مزید اضافہ کر دیا اور حکومت کے مؤقف پر کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے۔ صورتِ حال اس لیے بھی زیادہ پیچیدہ اور تشویش ناک ہو گئی کہ مولانا اس پورے معاملے کے پس منظر، محرکات اور اندرونی حقائق سے بخوبی آگاہ تھے۔ وہ نہ صرف فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر چکے تھے، بلکہ مذاکرات کے دوران دونوں جانب کے مؤقف کو تفصیل سے سننے اور اختلافات کے حل کی قابلِ عمل صورت بھی تجویز کر چکے تھے۔ اس سب کے باوجود ان کا حکومت ہی کو موردِ الزام ٹھہرانا اور اس کے دلائل کو یکسر رد کر دینا معمولی بات نہیں تھی، بلکہ اس امر کی طرف ایک سنجیدہ اشارہ تھا کہ بحران کی اصل وجوہ وہ نہیں تھیں جو سرکاری بیانات میں عوام کے سامنے پیش کی جا رہی تھیں۔
ماہرینِ قانون نے اس موقع پر ایک اور اہم آئینی نکتے کی نشان دہی بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے تو آئین کا سہارا لیا جا رہا ہے، لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جن آئینی تقاضوں اور شرائط کی تکمیل ضروری ہے، انہیں یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ بالخصوص صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا سوال اپنی جگہ موجود ہے، جس کا اس پورے معاملے میں دور دور تک کوئی نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔
آپ تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دیتے ہیں، درس گاہوں کے دروازوں پر تالے ڈال دیتے ہیں، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولتیں بند کر دیتے ہیں، عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں اور ان کے حقِ خودارادیت کو سلب کرنے پر اتر آتے ہیں، لیکن ان تمام اقدامات کے لیے آئین کی من مانی تشریحات کے باوجود کوئی معقول قانونی جواز پیش نہیں کر پاتے۔
سوال یہ ہے کہ جب اتنے سنگین اقدامات کے لیے آئینی اور قانونی بنیاد ہی واضح نہ ہو، جب عوام کے حقوق کو پامال کرنے کے لیے ریاستی اختیارات تو بے دریغ استعمال کیے جائیں، مگر ان اختیارات کے استعمال کا جواز فراہم کرنے سے گریز کیا جائے، تو پھر ان اقدامات کے پسِ پردہ کارفرما عزائم پر شکوک کیوں نہ پیدا ہوں؟ کیا یہ صورتِ حال اس خدشے کو تقویت نہیں دیتی کہ بظاہر آئین، امن و امان اور قومی سلامتی کے نام پر کیے جانے والے ان اقدامات کی آڑ میں کوئی ایسی خون آشام سازش پروان چڑھ رہی ہے جس کے اصل مقاصد ابھی عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھے گئے ہیں؟
گزشتہ زمانوں میں کہا جاتا تھا کہ دیواریں بھی راز اگل دیتی ہیں، مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب تو چہروں کے تاثرات اور کردار کی حقیقت خود پکار پکار کر بتا دیتی ہے کہ قافلے کا رخ کس جانب ہے اور اس کی منزل کیا ہے۔
صرف بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ اور باقی علاقوں میں گورنر راج بذاتِ خود ایک معمہ بن چکا ہے۔ ان بارہ اضلاع کو براہِ راست وفاق کے زیرِ انتظام لانے اور اس مقصد کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کے اعلان نے شکوک و شبہات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
متعدد ماہرینِ سیاست و قانون نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ جن اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، وہ بیش قیمت معدنی ذخائر سے مالامال ہیں، جن میں سے بعض کی معدنی دولت کا تخمینہ کھربوں روپے تک لگایا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اس اقدام کا ایک ممکنہ مقصد ان وسائل پر مقتدر حلقوں کا براہِ راست تسلط قائم کرنا ہے۔ صوبے کی ایک اہم سیاسی شخصیت بھی یہ الزام عائد کر چکی ہے کہ دہشت گردی کو محض بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؛ ریاست اسے ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں، کیونکہ اسی کے نام پر اربوں، کھربوں روپے حاصل کیے جاتے ہیں اور صوبے کے قیمتی وسائل پر دست درازی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
دوسری جانب بعض باخبر حلقوں نے اس سے بھی زیادہ تشویشناک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی آڑ میں ان بارہ اضلاع کو بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی تربیت اور سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔ ان خدشات کے حق میں ماضی کے ان واقعات کا حوالہ دیا جا رہا ہے جن میں ریاستی عناصر پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی سرپرستی کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم موجودہ منصوبے سے متعلق ان سنگین دعووں کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔
تازہ ترین اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے صوبوں نورستان اور کنڑ میں ہونے والی دراندازی کے پیچھے بھی پاکستانی ریاستی عناصر کا ہاتھ تھا، جس کے ثبوت کے طور پر بعض آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز منظرِ عام پر آنے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح یہ الزامات بھی عرصے سے سامنے آتے رہے ہیں کہ داعش سے وابستہ شدت پسند عناصر اور ان کے ہم خیال گروہوں کو ریاستی حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے۔
دوسری جانب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی کی آڑ میں ان بارہ اضلاع کو منشیات کی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جن کے اثرات واضح ہیں۔
یوں اب معاملہ محض دیواروں کے راز اگلنے تک محدود نہیں رہا۔ حالات اور اقدامات نے ایسے سوالات کھڑے کر دیے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خواص تو خواص، عام شہریوں کے ایک حلقے میں بھی یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ بظاہر کیے جانے والے اقدامات کے پسِ پردہ ایسے مقاصد پوشیدہ ہیں جن کے ممکنہ نتائج خطے کے امن و استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔


















































