ترک میڈیا نے 30 اکتوبر کو خبر دی کہ ترکی کے انٹیلی جنس ادارے نے اوغور بہادر نامی ترک شہری اور داعشی کو ’’افغانستان-پاکستان کے علاقے‘‘ میں گرفتار کرکے اپنے ملک منتقل کر دیا ہے۔
ترک میڈیا، متعلقہ حکام کی ہدایت پر، انٹیلی جنس اور سیاسی ملاحظات کے پیشِ نظر عموماً ’’افغانستان-پاکستان کے علاقے‘‘ کی اصطلاح ان کارروائیوں کی خبروں میں استعمال کرتا ہے جن میں داعشیوں کو پاکستان کے زیرِ تسلط علاقوں میں گرفتار کیا گیا ہو۔
ترک میڈیا نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بہادر عرف: عبداللہ 2024ء میں اوزگور التون نامی ایک دوسرے ترک داعشی کی ہدایت پر ترکی سے ’’افغانستان-پاکستان کے علاقے‘‘ منتقل ہوا تھا اور اس نے داعش کے مختلف تربیتی کیمپوں میں ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔
المرصاد نے اپنے ذرائع سے اوغور بہادر کے بارے میں درست اور مستند معلومات حاصل کی ہیں۔ ذرائع کی فراہم کردہ معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ اوغور بہادر کو رواں سال مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اس کی خبر اب میڈیا میں سامنے لائی گئی ہے۔
المرصاد کے ذرائع کی معلومات کے مطابق، اوغور بہادر ولد کاظم 2024ء میں ترکی سے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر پہنچا اور بعد ازاں بلوچستان کے علاقے مستونگ چلا گیا۔
اس نے مستونگ کے تربیتی کیمپوں کے چھٹے سیشن میں تربیت حاصل کی اور وہاں داعشیوں کے درمیان عبدالرحمن کے نام سے مشہور تھا۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ معاویہ نامی تربیتی مرکز میں سفر کے انتظار میں وقت گزارتا رہا اور اس کے پاس کوئی خاص ذمہ داری نہیں تھی۔
ذرائع مزید بتاتے ہیں کہ فروری 2025ء کے اواخر میں جب مستونگ کے مراکز ختم کر دیے گئے تو اوغور بہادر، خوارج کی قیادت کی ہدایت کے مطابق، دیگر داعشیوں کے ساتھ خیبر پختونخوا کے علاقے اورکزئی منتقل ہوگیا اور وہاں عبداللہ کے فرضی نام سے مشہور ہوا۔
اوغور بہادر اورکزئی میں ابتدا میں حمزہ نامی داعشیوں کے ایک مقامی کمانڈر کے ساتھ تھا۔ گزشتہ سال 20 فروری کو اورکزئی کے علاقے تورسمت میں اس کمانڈر کے مارے جانے کے بعد وہ حاجی رحمان (ابو ناصر) کے گروہ میں شامل ہوگیا۔ جب رواں سال 28 فروری کو اورکزئی کے علاقے غلجو میں ایک کارروائی کے دوران حاجی رحمان مارا گیا تو اوغور بہادر اور اس کے ایک دوسرے ساتھی (یونس ولد محمد، جو یاسر کے نام سے مشہور تھا) نے پشاور جانے کا ارادہ کیا، لیکن راستے میں مقامی پولیس کی ایک چیک پوسٹ پر گرفتار ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق، پولیس نے ابتدا میں انہیں منشیات کے اسمگلروں کے طور پر مشتبہ سمجھا تھا، لیکن بعد میں ان کی اصل شناخت سے آگاہ ہوئی۔ ان دونوں کی تصاویر بھی اسی وقت میڈیا میں سامنے آئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اتفاقی گرفتاری کو ایک منظم کارروائی کا رنگ دینے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم اس سے فوائد حاصل کرسکے۔
اس سے پہلے بھی ترکوں سمیت متع دد غیر ملکی داعشیوں کو پاکستان کے زیرِ تسلط علاقوں میں گرفتاری کے بعد اوغور بہادر ہی کی طرح ایک جعلی کہانی اور منظرنامے کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کے اپنے ممالک کے حوالے کیا گیا ہے، جن کے بارے میں المرصاد نے بروقت معلومات شائع کی ہیں۔


















































